سورج سوا نیزے پر،ہیٹ ویو کی شدت سے خود کو کیسے بچائیں؟

پاکستان ایک بار پھر شدید گرمی کی لپیٹ میں آنے جا رہا ہے اور ماہرینِ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں ملک کے کئی علاقے خطرناک حد تک گرم ہو سکتے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) اور محکمہ موسمیات کے مطابق سات سے 11 مئی کے دوران ملک کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں شدید ہیٹ ویو متوقع ہے، جبکہ بالائی علاقوں میں بھی درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق بالائی فضا میں زیادہ دباؤ کے باعث سورج کی شدت میں اضافہ ہو گا جس کے نتیجے میں سندھ، جنوبی پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے کئی علاقے شدید متاثر ہو سکتے ہیں۔ بعض مقامات پر درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جو انسانی صحت، زراعت، پانی کے ذخائر اور روزمرہ زندگی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

سندھ کے علاقے دادو، لاڑکانہ، سکھر، گھوٹکی، جیکب آباد اور شہید بینظیر آباد سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شہروں میں شامل ہیں جہاں درجہ حرارت 46 سے 50 ڈگری تک جا سکتا ہے۔ کراچی میں اگرچہ سمندری ہوائیں کسی حد تک گرمی کم کرتی ہیں، تاہم وہاں بھی پارہ 38 ڈگری تک پہنچنے کا امکان ہے اور حبس کے باعث گرمی کی شدت زیادہ محسوس ہو سکتی ہے۔

بلوچستان کے شہر سبی، نصیر آباد، جعفر آباد، تربت اور پنجگور بھی شدید گرمی کی زد میں رہیں گے، جبکہ جنوبی پنجاب کے ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، لیہ، بھکر اور راجن پور جیسے علاقے بھی خطرناک حد تک گرم رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں بنوں، لکی مروت، کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی شدید گرمی پڑنے کا امکان ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی صرف موسم کی تبدیلی نہیں بلکہ انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ چند روز قبل کراچی اور حیدر آباد میں ہیٹ سٹروک کے باعث متعدد اموات رپورٹ ہوئیں، جبکہ فلاحی اداروں کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد سرکاری اعداد و شمار سے زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سندھ حکومت نے صوبے بھر میں ایک ہزار سے زائد ہیٹ ویو ریلیف کیمپ قائم کیے ہیں۔

شدید گرمی انسانی جسم پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔ جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو جسم خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے زیادہ پسینہ خارج کرتا ہے، جس سے پانی اور نمکیات کی کمی پیدا ہو جاتی ہے۔ اس دوران بلڈ پریشر کم ہو سکتا ہے اور دل کو جسم میں خون کی روانی برقرار رکھنے کے لیے زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے۔ یہی کیفیت ہیٹ ایگزاسشن اور بعد ازاں ہیٹ سٹروک کا سبب بن سکتی ہے۔

ہیٹ سٹروک کی علامات میں چکر آنا، شدید کمزوری، متلی، بے ہوشی، سر درد، پٹھوں میں کھچاؤ اور تیز بخار شامل ہیں۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بزرگ افراد، بچے، دل کے مریض، ذیابطیس کے شکار افراد اور باہر کام کرنے والے مزدور سب سے زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔این ڈی ایم اے نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، خاص طور پر صبح 10 بجے سے شام 5 بجے کے درمیان۔ زیادہ پانی پینا، ہلکے رنگ کے کپڑے پہننا، ٹھنڈی جگہ پر رہنا اور دھوپ سے بچاؤ کے لیے ٹوپی یا چھتری استعمال کرنا انتہائی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ گھروں کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پردے اور شیڈز استعمال کیے جائیں، رات کے وقت کھڑکیاں کھول کر ہوا کی آمدورفت بہتر بنائی جائے اور اگر کسی شخص میں ہیٹ سٹروک کی علامات ظاہر ہوں تو فوراً اسے ٹھنڈی جگہ منتقل کر کے طبی امداد حاصل کی جائے۔

دوسری جانب شدید گرمی کے باعث گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا میں گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار بڑھنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے، جس سے گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پاکستان میں ہر سال زیادہ شدت سے محسوس کیے جا رہے ہیں۔ مئی اور جون پہلے ہی سال کے گرم ترین مہینے سمجھے جاتے ہیں، لیکن اب گرمی کی شدت میں غیر معمولی اضافہ ایک نئے ماحولیاتی بحران کی نشاندہی کر رہا ہے۔

Back to top button