چین کے دورے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ کا پاکستان آنے کا امکان

 

 

 

اگلے چند روز میں اگر امریکہ اور ایران امن معاہدہ کرنے پر راضی ہو جاتے ہیں تو صدر ٹرمپ کے مجوزہ دورہ چین سے واپسی پر پاکستان آنے کا قوی امکان پیدا ہو جائے گا۔ اسلام آباد میں باخبر سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر 15 مئی تک امریکہ اور ایران کے مابین معاملات طے پا جاتے ہیں تو صدر ٹرمپ فائنل معاہدے کیلئے چین سے واپسی پر پاکستان بھی آ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف پچھلے چند ماہ میں کئی مرتبہ صدر ٹرمپ سے ملاقات کر چکے ہیں جس دوران انہیں دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی جا چکی ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران ثالث کا کردار ادا کرنے پر پاکستانی عسکری اور سویلین قیادت کے مشکور ہیں اور بار بار فیلڈ مارشل اور شہباز شریف کا بطور دوست تذکرہ بھی کرتے ہیں۔ ایسے میں قوی امکان ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے مابین امن معاہدہ طے پا جاتا ہے تو صدر ٹرمپ دورہ چین سے واپسی پر پاکستان کا مختصر دورہ کریں گے۔

 

ایران اور امریکا کے درمیان موجودہ صورتحال بیک وقت امید اور خدشات دونوں کو جنم دے رہی ہے۔ ایک طرف جنگ بندی اور مذاکرات کی خبریں سامنے آ رہی ہیں، تو دوسری جانب آبنائے ہرمز میں پیش آنے والے واقعات اس بات کا اشارہ دیتے ہیں کہ کشیدگی کسی بھی وقت دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر اس تنازعے کو نہایت حساس نظر سے دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، خصوصاً تیل کی قیمتوں پر بھی براہِ راست مرتب ہوتے ہیں۔

 

اس دوران اب بین الاقوامی میڈیا میں یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے کسی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے دوران کئی مواقع پر ایسا محسوس ہوا کہ دونوں ممالک کسی حتمی معاہدے کے دہانے پر ہیں۔ تاہم اب صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر تصدیق کی ہے کہ امریکہ نے مجوزہ معاہدہ ایران کے حوالے کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے اس معاہدے کو قبول نہ کیا تو مزید سخت کارروائی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران معاہدے پر رضامند ہو جاتا ہے تو امریکی آپریشن ختم ہو جائے گا اور آبنائے ہرمز تمام فریقین کیلئے کھل جائے گی۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی تصدیق کی ہے کہ امریکی مجوزہ معاہدہ زیر غور ہے اور پاکستان کے ذریعے جواب دے دیا گیا ہے۔ تاہم معاہدے کی تفصیلات اب تک منظر عام پر نہیں آئیں۔

 

اس سے قبل بی بی سی نے دعوی کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا خاتمہ اور جوہری پروگرام جیسے حساس نکات پر ایران اور امریکہ پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں ایک معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ اس دوران امریکی بحریہ کی جانب سے ایک ایرانی جہاز اور اس کے عملے کو پاکستان کے حوالے کرنا ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جس سے اعتماد سازی میں مدد ملی۔

 

وزیراعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور عسکری قیادت مسلسل اس عمل میں متحرک ہیں۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ہونے والے رابطے اس سفارتی سرگرمی کا واضح ثبوت ہیں۔ عالمی سطح پر رجب طیب اردوان سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی پاکستان کے کردار کو سراہا ہے۔ سفارتی عمل کے تحت ایران نے 14 نکاتی منصوبہ پاکستان کے ذریعے امریکہ تک پہنچایا ہے جس میں جنگ کے خاتمے، پابندیوں میں نرمی، ایرانی اثاثوں کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ بیک ڈور ڈپلومیسی عملی اقدامات کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

صدر ٹرمپ جلد اسلام آباد کا دورہ کرسکتے ہیں : ساجد تارڑ

آبنائے ہرمز اس پورے تنازعے میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے کیونکہ یہ عالمی توانائی کی ترسیل کی اہم گزرگاہ ہے۔ پاکستان نے اس معاملے پر محتاط اور متوازن مؤقف اپناتے ہوئے آزادانہ جہاز رانی کی بحالی پر زور دیا ہے۔

جہاں تک ٹرمپ کے ممکنہ دورہ پاکستان کا تعلق ہے، قیاس آرائیاں تیز ہو چکی ہیں۔ ان کا دورہ چین 14 سے 15 مئی کے درمیان متوقع ہے اور انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ پاکستان آ سکتے ہیں۔ اگرچہ سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم سفارتی حلقوں میں اس امکان کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

 

Back to top button