آپریشن معرکۂ حق: 72 گھنٹوں میں کیا ہوا تھا؟

پاکستان کی تاریخ میں کچھ لمحے ایسے گزرے ہیں جو پوری قوم کے لیے آزمائش ثابت ہوئے ہیں۔ 6 ستمبر 1965 ایسا ہی ایک دن تھا، اور پھر مئی 2025 میں بھارت کی جارحیت کے خلاف شروع کیا گیا ’آپریشن معرکۂ حق‘ بھی انہی تاریخی لمحات میں شامل ہو گیا۔ یہ صرف میزائلوں، جہازوں اور بارود کی جنگ نہیں تھی، بلکہ اعصاب، حوصلے، سفارت کاری، میڈیا اور قومی اتحاد کی جنگ تھی۔ ان 72 گھنٹوں میں پورا پاکستان تمام اختلافات بھلا کر ایک آواز ہو گیا تھا۔

یہ کہانی شروع ہوئی 6 مئی کی تاریک رات سے۔پاکستانی عوام معمول کے مطابق سو رہے تھے، لیکن سرحد کے اُس پار بھارت نے ایک خطرناک فیصلہ کر لیا تھا۔بھارت نے پاکستان میں بہاولپور کے احمد پور شرقیہ، مریدکے، سیالکوٹ، شکرگڑھ، مظفرآباد اور کوٹلی سمیت چھ مقامات پر حملے کیے۔ ان حملوں میں 36 معصوم پاکستانی شہید ہوئے، جن میں عورتیں، بچے اور بزرگ شامل تھے۔سب سے خطرناک بات یہ تھی کہ بھارت نے براہموس کروز میزائل استعمال کیے، جو جوہری ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ کہانی صرف چھ سے آٹھ مئی 2025 کے تین دنوں کی نہیں بلکہ اُن لمحات کی ہے جب ایک ریاست نے دباؤ، کشیدگی اور خطرات کے باوجود اپنی حکمتِ عملی اور اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے خود کو سنبھالا۔22 اپریل 2025 کو انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سیاحتی مقام بیسران ویلی، پہلگام میں مسلح افراد نے اچانک فائرنگ کر کے متعدد افراد کو ہلاک اور زخمی کر دیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب خطے میں پہلے ہی تناؤ موجود تھا، اسی لیے اس نے فوری طور پر عالمی توجہ حاصل کر لی۔حملے کے فوراً بعد نئی دہلی نے اس کا الزام پاکستان پر عائد کیا، تاہم اسلام آباد مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا کہ اس دعوے کے حق میں کوئی واضح اور قابلِ تصدیق ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔

اسی دوران سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے اور پانی روکنے کی دھمکیاں بھی سامنے آئیں۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دریاؤں کے پانی کی تقسیم کا بنیادی فریم ورک ہے، اس لیے اس سے متعلق کوئی بھی یکطرفہ قدم کشیدگی میں اضافے کا سبب بن سکتا تھا۔پاکستان نے حملے میں ملوث ہونے کے الزامات سختی سے مسترد کیے اور انڈیا سے شواہد پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔بعدازاں اسی واقعے کو بنیاد بنا کر انڈیا نے پاکستان پر حملہ کیا، جس کا پاکستان نے مؤثر جواب دیا۔

اس محدود جنگ کو اب ایک سال مکمل ہو چکا ہے۔ اسی تناظر میں یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ انڈین حکومت کی جنگی تیاریوں کے جواب میں پاکستان نے کس نوعیت کی حکمتِ عملی اختیار کی اور کس انداز میں اپنی تیاری مکمل کی۔سینیئر صحافی، تجزیہ کار اور کتاب دی وار ڈیٹ چینجڈ ایوری تھنگ کے شریک مصنف مرتضیٰ سولنگی کے مطابق اس حملے کے بعد صرف عسکری صورتحال ہی خراب نہیں ہوئی بلکہ سفارتی اور اطلاعاتی محاذ پر بھی ایک نئی کشمکش نے جنم لیا، جس نے مئی کی محدود جنگ کی راہ ہموار کی۔

یکم مئی کو پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور وزیرِ اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے 30 اپریل ہی کو انڈین حملے کے خدشات ظاہر کرتے ہوئے خبردار کر دیا تھا۔قابلِ اعتماد انٹیلی جنس اور فوجی نقل و حرکت کے شواہد کی بنیاد پر اس خطرے کو ’فوری اور سنگین‘ قرار دیا گیا۔اس کے بعد پاکستان نے اگلی دفاعی چوکیوں کو مضبوط کیا اور اہم فوجی یونٹس کو ہائی الرٹ پر رکھا۔دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے رجسٹرڈ، آپریٹ یا لیز پر لیے گئے طیاروں، بشمول کمرشل اور فوجی پروازوں، کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں۔ادھر انڈیا کے وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے عسکری تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے مسلح افواج کے سربراہان کا اجلاس طلب کیا، جبکہ پاکستان کی جانب سے آرمی چیف عاصم منیر نے سرحدی علاقوں میں جاری جنگی مشقوں کا دورہ کیا۔حساس علاقوں، خصوصاً نیلم ویلی اور ایل او سی کے قریب سیاحوں کے داخلے پر پابندیاں عائد کی گئیں جبکہ مذہبی مدارس کو بھی 10 دن کے لیے بند رکھنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔

دو مئی کو کشیدگی برقرار رہی اور ایل او سی سمیت بین الاقوامی سرحد پر جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔یکم اور دو مئی کی درمیانی رات انڈیا کی جانب سے جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد پاکستانی فورسز نے جوابی کارروائیاں کیں۔انڈین فضائیہ نے اترپردیش میں گنگا ایکسپریس وے پر طیاروں کی ٹیک آف اور لینڈنگ مشقیں بھی کیں۔اسی دوران سفارتی سرگرمیوں میں بھی تیزی آئی، جب متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور کویت کے نمائندوں نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں۔انڈیا نے وزیراعظم شہباز شریف کے سرکاری یوٹیوب چینل تک رسائی بھی محدود کر دی۔

تین مئی کوکشیدگی میں مزید اضافہ اُس وقت ہوا جب ایک پاکستانی رینجرز اہلکار کو بی ایس ایف نے حراست میں لے لیا۔اسی دوران پاکستان نے ابدالی مختصر فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا، جسے آپریشنل تیاری کا واضح اشارہ سمجھا گیا۔

چار مئی کوانڈیا نے چناب دریا پر واقع بغلیہار ڈیم کے دروازے بند کر دیے، جس سے پاکستان کی جانب پانی کے بہاؤ میں کمی آئی اور صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی۔اسی روز ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اسلام آباد پہنچے، جہاں انہوں نے اعلیٰ حکومتی حکام سے اہم ملاقاتیں کیں۔

پانچ مئی کو انڈیا نے سات مئی سے ملک گیر سول ڈیفنس مشقوں کا اعلان کیا، جن میں ایئر ریڈ سائرن، بلیک آؤٹ پروٹوکول، انخلا کے منصوبے اور شہری دفاع کی تربیت شامل تھی۔1971 کے بعد پہلی مرتبہ اس پیمانے کی مشقوں نے صورتحال کی سنگینی کو نمایاں کیا۔اسلام آباد میں قومی اسمبلی نے متفقہ قرارداد کے ذریعے انڈیا کے جارحانہ اقدامات کی مذمت کی۔

چھ مئی کو انڈیا نے ’آپریشن سندور‘ کا آغاز کرتے ہوئے رات گئے پاکستان کے مختلف مقامات پر میزائل حملے کیے۔ ان حملوں میں بہاولپور، مظفرآباد، کوٹلی، مریدکے، سیالکوٹ اور شکرگڑھ کے مقامات کو نشانہ بنایا گیا جبکہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر بھی گولہ باری کی گئی۔پاکستان نے جوابی کارروائی میں پانچ انڈین طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا، جن میں تین رافیل طیارے شامل تھے۔ایل او سی پر توپ خانے اور چھوٹے ہتھیاروں کی فائرنگ کا تبادلہ مسلسل جاری رہا۔اسی روز اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں ایک اعلیٰ سطحی ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیاسی اور عسکری قیادت نے صورتحال کا جائزہ لیا۔مرتضیٰ سولنگی کے مطابق اس مرحلے پر سب سے اہم مقصد فوری ردعمل نہیں بلکہ ’درست صورتحال‘ کا تعین تھا۔ سیٹلائٹ تصاویر، انٹیلی جنس رپورٹس اور زمینی حقائق کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا تاکہ کوئی غلط اندازہ نہ لگایا جائے۔بعدازاں جی ایچ کیو راولپنڈی میں عسکری قیادت نے فضائی، بحری، سائبر اور اطلاعاتی محاذوں سمیت تمام پہلوؤں پر غور کیا۔فوجی حکام نے واضح کیا کہ اگر جواب دیا گیا تو وہ محدود، ہدفی اور مکمل سوچ بچار کے بعد ہوگا، تاکہ سٹریٹیجک ڈیٹرنس برقرار رہے۔

سات مئی کو قومی سلامتی کمیٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جسے کتاب میں ’فیصلہ کن موڑ‘ قرار دیا گیا ہے۔

اجلاس میں تین بنیادی نکات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ہر اقدام عالمی قوانین اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کے مطابق ہوگا۔جنگ کے دائرے کو پھیلنے سے روکنا بھی دفاع جتنا ہی ضروری ہوگا۔دفترِ خارجہ کو عالمی طاقتوں، اقوامِ متحدہ اور اہم دارالحکومتوں سے فوری سفارتی رابطوں کی ہدایات دی گئیں۔اسی دوران اطلاعاتی محاذ بھی سرگرم ہوا اور پاکستان نے عالمی سطح پر اپنا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی۔کتاب کے مطابق سات مئی کی رات عسکری تیاریوں کے حوالے سے سب سے اہم رات تھی، جب ایئر فورس، نیوی اور آرمی کو مخصوص ہدایات جاری کی گئیں اور ہر یونٹ کو اپنی ذمہ داری واضح طور پر سمجھا دی گئی۔

10 مئی کوپاکستان نے صبح سویرے ’آپریشن بنیان المرصوص‘ شروع کیا، جس میں بیاس کے علاقے میں برہموس میزائل ذخیرہ گاہ اور ادھم پور ایئر بیس کو نشانہ بنایا گیا۔اسی روز شام تقریباً پانچ بجے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ پاکستان اور انڈیا فوری اور مکمل جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔آٹھ مئی تک پاکستان مکمل دفاعی اور جوابی پوزیشن اختیار کر چکا تھا۔ سرحدوں پر نگرانی سخت تھی، فضائی نگرانی مسلسل جاری تھی جبکہ بحریہ بھی اپنے اہم مقامات پر تیار کھڑی تھی۔مصنفین کے مطابق ان دنوں میں ایک اور اہم عنصر اندرونی اتحاد تھا۔ سیاسی جماعتیں، ریاستی ادارے، میڈیا اور عوام ایک مشترکہ مؤقف پر دکھائی دیے۔کتاب کے مطابق پاکستان کا ردعمل تین اصولوں پر مبنی تھا: حکمت، تحمل اور مہارت۔اسی لیے فیصلے تیز بھی تھے اور سوچے سمجھے بھی۔ نہ غیر ضروری جلد بازی دکھائی گئی اور نہ کمزوری کا تاثر دیا گیا۔مرتضیٰ سولنگی اور احمد حسن العربی نے ان دنوں کی صورتحال کو ایک جملے میں یوں بیان کیا:
’یہ تین دن بندوقوں سے زیادہ ذہنوں کی جنگ کے دن تھے۔‘یہ وہ لمحے تھے جب ریاست نے صرف جواب دینے کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ یہ بھی طے کیا کہ جواب کی نوعیت، حد اور نتائج کیا ہوں گے۔اور یہی فرق کسی وقتی ردعمل اور ایک تاریخی حکمتِ عملی کے درمیان لکیر کھینچتا ہے۔

Back to top button