تحریک لبیک پاکستان پر پابندی ، 3 ارکان اسمبلی پر نااہلی کی تلوار لٹکنے لگی

تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگنے کی صورت میں پارٹی کے تین ارکان سندھ اسمبلی پر نااہلی کی تلوار لٹکنے لگی ہے۔تحریک لبیک کی پارٹی رجسٹریشن منسوخی کے لیے وفاقی حکومت کا سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کرنا لازم ہے۔جس کے بعد سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں الیکشن کمیشن سیاسی جماعت کو ڈی سیٹ کر سکتا ہے۔
سپریم کورٹ سے پابندی کے حق میں فیصلے کی صورت میں متعلقہ جماعت کے ارکان اسمبلی نااہل ہو سکتے ہیں۔تحریک لبیک پاکستان الیکشن کمیشن میں بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈ ہے جس سے الیکشن کمیشن نے کرین کا انتخابی نشان الاٹ کر رکھا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تحریک لبیک پر پابندی لگ گئی تو این اے249 میں ضمنی انتخاب متاثر ہوسکتا ہے۔ٹی ایل پی پر پابندی کی صورت میں امیدوارکو جماعتی وابستگی ختم کرنا ہوگی۔ پابندی کے بعد امیدوار جماعتی بنیاد پر کرین کے نشان پر الیکشن نہیں لڑسکے گا۔الیکشن کمیشن نے صورتحال واضح ہونے تک بیلٹ پیپر کی پرنٹنگ روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ نااہلی کی صورت میں امیدوار آزاد حیثیت میں الیکشن لڑنے کیلئے اہل ہوگ
خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے ملک کے مختلف شہروں میں 3 روز سے جاری پر تشدد احتجاج اور ان میں قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی ہلاکت کے بعدانسداددہشت گردی ایکٹ کے تحت تحریک لبیک پاکستان پر پابندی لگانے کا فیصلہ کرلیا‘قانون کے مطابق انسداددہشت گردی ایکٹ1997کی دفعہ11بی کے تحت کسی بھی جماعت یا شخص پر پابندی کا مطلب دہشت گردانہ کاروائیوں میں ملوث ہونا ہوتا ہے. اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ پابندی کی قرار داد حکومت پنجاب کی جانب سے آئی تھی جس کی سمری منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو ارسال کردی گئی ہے. انہوں نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ میں قرار داد پیش کرنے کیلئے تیار تھے لیکن ٹی ایل پی ایسا مسودہ لانا چاہتی تھی جس سے انتہا پسندی کا تاثر ابھرتا‘ شیخ رشید نے کہا کہ تحریک لبیک پاکستان پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پابندی عائدکی جارہی ہے اور وزارت داخلہ ٹی ایل پی پر پابندی کی سمری کابینہ کو بھجوارہی ہے اور ممکنہ طور پر آئندہ 48گھنٹوں میں نوٹیفکیشن جاری کردیا جائے گ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button