ترکی میں 7.0 شدت کا زلزلہ، متعدد عمارتیں منہدم،6 افراد ہلاک

ترکی کے مغربی شہر ازمیر اور یونان کے جزیرے ساموس کے درمیان آنے والے زلزلے سے اب تک ازمیر میں 6 افراد ہلاک ہونے کی تصدیق ہوچکی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے امریکی جیولوجیکل سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ترکی کے ساحلی شہر سے 17 کلومیڑ آنے والے زلزلے کی شدت 7 ریکارڈ کی گئی اور متعدد عمارتیں منہدم ہوگئیں۔ترکی کے وزیر صحت نے تصدیق کی کہ زلزلے کے نتیجے میں 6 افراد ہلاک اور 120 زخمی ہوئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق زلزلہ اس قدر شدید تھا کہ اس کی شدت استنبول سے یونان کے دارالحکومت ایتھنز تک محسوس کی گئی۔
خیال رہے کہ زلزلے سے ساحلی شہر ازمیر کو نقصان پہنچا جہاں 30 لاکھ نفوس پر مشتمل آبادی ہے۔ترکی کے وزیر داخلہ سلیمان سویلو نے ٹوئٹر پر کہا کہ زلزلے کے نتیجے میں ازمیر میں اب تک 6 عمارتیں منہدم ہونے کی اطلاعات ہیں۔وزیر ماحولیات مراد کرم نے کہا کہ ہمارے کچھ لوگ ملبے میں پھنس گئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ گرنے والی 6 عمارتوں کے بارے میں جانتے ہیں۔زلزلے کی وجہ سے سونامی کے حالات پیدا ہوگئے اور ازمیر کی گلیوں میں سمندر کا پانی اُمڈ آیا۔زلرلے کے مرکز سے متعلق متضاد رپورٹس سامنے آئی ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز ترکی کے ساحلی علاقے سے تقریباً 33 کلومیٹر دور تھا اور گہرائی زیر زمین 10 کلومیٹر تھی۔دوسری جانب ترک حکومت کی اے ایف ڈی ایف کے مطابق زلزلے کا مرکز ازمیر شہر سے تقریباً 17 کلومیڑ تھا جبکہ اس کی گھرائی زیر زمین 16 کلومیٹر تھی. ترک حکومت کی ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی منیجمنٹ نے زلزلے کی شدت 6.6 ریکارڈ کی گئی۔ترک صدر رجب طیب اردوان نے ٹوئٹ کیا کہ ہماری ریاست دستیاب تمام تر وسائل فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یونان کے جزیرے ساموس میں مقامی انتظامیہ نے شہریوں ساحلی علاقے سے دور رہنے کی ہدایت کردی۔حکام کے مطابق ساموس 45 ہزار نفوس پر مشتمل آبادی والا جزیزہ ہے۔ایک شہری نے بتایا کہ ’یہ ایک بہت بڑا زلزلہ تھا اور اس سے بڑا زلزلہ ہونا مشکل ہے‘۔
خیال رہے کہ ترکی 2 بڑی فالٹ لائنز پر واقعے ہے اور یہاں زلزلے آتے رہتے ہیں۔ترکی کے جنوب مشرقی صوبے وان میں 2011 میں شدید زلزلے کے نتیجے میں 600 سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔قبل ازیں 1999 میں شمال مغرب میں 7.4 شدت کے زلزلے سے استنبول میں ایک ہزار جبکہ دیگر شہروں میں 17 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
