ترین کے ساتھ انصاف ہوگا، وزیراعظم نے یقین دہانی کرا دی

وزیراعظم سے جہانگیر ترین کے ہم خیال گروپ کی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔جہانگیر ترین ہم خیال گروپ نے ملاقات میں وزیر اعظم سے جوڈیشل کمیشن بنانے کی استدعا کی۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے جہانگیرن ترین کے ہم خیال گروپ کی تحقیقاتی کمیشن بنانے کی استدعا سے اتفاق نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے اراکین سے کہا کہ مجھ سے امید رکھیں ہر صورت انصاف ہوگا۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے شوگر کمیشن پر جاری تحقیقات پر کسی قسم کا دباؤ قبول کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ میرا حکومت میں آنے کا مقصد نظام انصاف قائم کرنا ہے، جہانگیر ترین سمیت کوئی ذمہ دار نکلا تو قانون کے مطابق کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے واضح کر دیا کہ ساری کارروائی بلاامتیاز ہو گی، اگر کسی کا خیال ہے کہ دباؤ میں آکر تحقیقات روک دوں گا تو وہ بڑی غلطی پر ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے سینیٹر علی ظفر کو جہانگیر ترین کے ہم خیال گروپ کے تحفظات سننے کے لیے نامزد کر دیا ہے، سینیٹر علی ظفر ایف آئی اے مقدمات کا بھی جائزہ لے کر رائے دیں گے، سینیٹر علی ظفر ہم خیال گروپ کے تحفظات سن کر وزیراعظم کو بریفنگ دیں گے۔ذرائع کے مطابق سینیٹر علی ظفر کی نامزدگی پر راجا ریاض نے اعتراض کیا لیکن وزیراعظم نے اعتراض کو مسترد کردیا اور کہا کہ آپ میں سے بہت لوگ بعد میں تحریک انصاف کا حصہ بنے، یہ ذہن میں رکھیں کہ میں صرف وزیر اعظم رہنے کے لیے حق کا ساتھ چھوڑ دوں ایسا نہیں ہوگا۔
دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی اور جہانگیر ترین کے قریبی ساتھی راجا ریاض نے کہا ہے وزیراعظم نے یقین دلایا ہے کہ کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی اور ہمیں ان پر یقین ہے۔
وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے مختصر بات چیت میں راجا ریاض نے کہا کہ معاملات وزیراعظم کے علم میں لائے ہیں اور انہوں نے کہا ہے میں ضرور دیکھوں گا۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا ہے کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونے دوں گا اور کہا کہ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ سب میرے ساتھی ہیں اور جو مخالف ہیں ان کے ساتھ بھی زیادتی نہیں ہوگی اور انصاف ہوگا۔
راجا ریاض نے کہا کہ ہم نے ان کی یقین دہانی پر ان کا شکریہ ادا کیا اور ہمیں اپنے کپتان اوروزیراعظم پر پورا یقین ہے کہ ہمیں انصاف ملے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی وقت نہیں دیا ہے اور جتنا وقت مناسب ہوگا اس میں حل ہوجائے گا۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اس حوالے سے کہا کہ وزیراعظم سے اراکین اسمبلی کی ملاقات ہوئی، جس میں وہ سارے اراکین تھے جو جہانگیرترین کے معاملے پر اپنی گزارشات وزیراعظم تک پہنچائیں اور تفصیل سے تبادلہ خیال ہوا۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ جہانگیر ترین کا پارٹی کے لیے بہت کام ہے لیکن جو پارٹی انصاف کی بنیاد پر وجود میں آئی ہو اور اس کا نصب العین یہ ہو کہ ہم احتساب کریں گے اور برابر احتساب ہوگا تو وہ کسی طور پر یہ نہیں کرسکتی کہ اپنے لوگوں کے لیے انصاف کا معیار اور ہو اور دوسروں کے لیے اور ہو اور وزیراعظم نے اس اصول کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے اس ملاقات میں کہا کہ کسی بھی صورت میں ایف آئی اے یا کسی اداروں پر دباؤ نہیں ڈالا جائے گا کہ وہ کسی کے خلاف تحقیقات میں نرمی کرے اور ایسا لگے کہ اس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ایف آئی اے کی تحقیقات پر قطعی طور پر اثرانداز ہونا ممکن نہیں ہوگی البتہ جن اراکین کو شکایت ہے کہ چند شخصیات جان بوجھ کر جہانگیر ترین کو بدنام کرنا چاہتے ہیں، اس کے لیے سینیٹر علی ظفر کو نامزد کیا ہے کہ اس کیس کا دونوں اطراف کا جائزہ لیں اور وزیراعظم کو ایک رپورٹ پیش کریں گے۔فواد چوہدری نے کہا کہ علی ظفر وہ رپورٹ سے آگاہ کریں گے لیکن تحقیقات اور دیگر معاملات پر انصاف کے تقاضے پورے ہوں گے اور باقی لوگوں نے جس پر اتھارٹیز کا سامنا کیا ہے وہ یہاں بھی ہوگا۔
فواد چوہدری نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے جہانگیر ترین کے حامی ارکان اسمبلی سے ملاقات میں واضح کردیا کہ ایف آئی اے کو تحقیقات سے نہیں روکا جائے گا،انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔فواد چوہدری نے کہا کہ جو پارٹی انصاف اور احتساب کے نام پر وجود میں آئی ہو وہ اپنے اور دوسروں کیلئے انصاف کے دہرے معیار نہیں رکھ سکتی۔انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کے متعلق کچھ ایم این ایز نے وزیراعظم کو اپنا مؤقف بتایا، جس طرح دیگر لوگوں نے ٹرائل کا سامنا کیا ہے ویسے ہی پارٹی کے لوگوں کو بھی کرنا ہوگا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ جہانگیر ترین پارٹی کے لیے مسئلہ نہیں پیدا کریں گے کیونکہ وہ خود پارٹی کا حصہ ہیں، وزیراعظم کا صاف نظریہ ہے کہ جس پر جو الزام لگے گا اس کو ٹرائل سے گزرنا ہوگا، جہانگیر ترین کی اور وزیراعظم کی ابھی کوئی ملاقات شیڈول نہیں۔
خیال رہے کہ اس معاملے پر جہانگیر ترین گروپ کے متحرک رہنما ملک نعمان احمد لنگڑیال نے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے آخرکار پارلیمنٹیرینز کی درخواست کو قبول کرلیا اور ان 31 افراد کو ملاقات کے لیے مدعو کرلیا جنہوں نے (درخواست) خط پر دستخط کیے تھے۔انہوں نے کہا تھا کہ ہم اس اجلاس کو اہم تصور اور امید کرتے ہیں کہ ان کے تمام خدشات، کہ جہانگیر ترین کو ریاستی اداروں کے ذریعے شکار نہیں کیا جائے گا، سنجیدگی سے غور کیا جائے گا
قبل ازیں جہانگیر ترین کے ہمدرد اراکین پنجاب اور قومی اسمبلی اس وقت سامنے آئے تھے جب ان پر مختلف مقدمات درج کیے گئے اور وہ احتساب عدالت میں پیش ہونے گئے تھے۔راجا ریاض نے مطالبہ کیا تھا کہ وزیر اعظم انہیں وقت دیں تاکہ وہ انہیں اپنے خدشات بیان کرسکیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ جہانگیر ترین کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔راجا ریاض نے وزیر اعظم کو دھمکی دی تھی کہ وہ اپنا نقطہ نظر تبدیل کریں یا وہ خود ہی کوئی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوجائیں گے۔انہوں نے کہا تھا کہ ہم ‘ریاست مدینہ’ میں عاجزی سے گزارش کر رہے ہیں کہ ہمیں انصاف کے سوا کچھ نہیں چاہیے۔
شوگر اسکینڈل میں جہانگیر ترین نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر میں درج الزامات کرمنل نوعیت کے نہیں ہیں اور یہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے دوران ان کے تمام کاروبار کا معائنہ کیا گیا تھا اور تفتیش کاروں کو کوئی غیر قانونی عمل نہیں نظر آیا تھا۔
