ترین گروپ کے بعد ایک اور کپتان مخالف گروپ بن گیا


2018 میں ہر قیمت پر اقتدار حاصل کرنے کا عزم لیے عمران خان نے فوجی اسٹیبلشمنٹ اور جہانگیر ترین کی مدد سے جن الیکٹ ایبلز کو پارٹی میں شامل کیا اب وہی فصلی بٹیرے اپنی ڈرویاں ہلانے والوں کے کہنے پر کبھی جہانگیر ترین گروپ میں چلے جاتے ہیں اور کبھی عثمان بزادر کے ستائے ہوئے ناراض گروپ کے طور پر سامنے آکر کپتان کی نیندیں حرام کر دیتے ہیں۔
اب یہ خبر ہے کہ جہانگیر ترین گروپ کے بعد تحریکِ انصاف کا ایک اور 15 رکنی ناراض گروپ بھی حرکت میں آ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق ترین گروپ کے بعد تحریک انصاف کے حرکت میں آنے والے اس گروپ کے 15 سے زائد اراکانِ پنجاب اسمبلی کو 25 مئی کی رات لاہور میں عشائیہ دیا گیا ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پی ٹی آئی کے ایم پی اے ملک غضنفر عباس چھینہ نے ہم خیال ارکان کے اعزاز میں عشائیہ دیا۔عشائیے میں ہم خیال گروپ کیلئے ترقیاتی اسکیمیں شامل نہ کرنے پر شکوے شکایات کی گئیں۔ ذرائع کے مطابق عشائیے میں سردار شہاب الدین خان، سردار محی الدین خان کھوسہ، عامر عنایت خان شاہانی، اعجاز سلطان بندیشہ، نواب علی رضا خان خاکوانی، تیمور امجد لالی، بلال اصغر وڑائچ، غضنفر علی شاہ، اعجاز خان جازی، فیصل فاروق چیمہ، گلریز افضل چن، علی اصغر خان لاہڑی اور احسن جہانگیر بھٹی شریک ہوئے۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ عشائیے میں جلد وزیرِ اعلیٰ پنجاب کے سامنے اپنے تحفظات رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ جہانگیر ترین گروپ کا معمالہ ختم ہوانہ تھا کہ اب اس ناراض گروپ نے منظر عام پر آکر کپتان کے لئے نئی مشکلات کھڑی کردی ہیں۔
سنیئر صحافی مظہر عباس اپنے تازہ ترین تجزیئے میں کہتے ہیں کہ پنجاب کا سیاسی معرکہ وزیر اعظم عمران خان کے لئے مشکل ہوتا جارہا ہے۔ فیصلہ بہرحال انہوں نے ہی کرنا ہے کہ بات کس سے کی جائے ڈوریاں ہلانے والوں سے یا جو ڈوریاں ہل رہی ہیں ان سے۔ سیاسی طور پر شاید آج عمران خان صاحب کو جتنی ماضی کے قابل اعتماد ساتھی جہانگیر خان ترین کی ضرورت ہے وہ 2018 میں بھی نہیں تھی حالانکہ اس وقت بھی ترین نے خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے ساتھ مل کرالیکشن سے لے کر حکومت بنوانے تک اہم کردار ادا کیا تھا۔ مگر اس وقت اندرون خانہ خٹک صاحب کی ہمدردیاں ترین کے ساتھ ہیں کیونکہ ان کے ساتھ بھی وزیر اعظم نے بہت اچھا نہیں کیا۔ مظہر عباس کے بقول عام انتخابات 20018 سے پہلے عمران خان فصلی بٹیروں کی شہرت رکھنے والے روایتی الیکٹ ایبلز کو ساتھ ملانے پر رضا مند نہ تھے لیکن جہانگیر ترین نے کپتان کو باور کروایا کہ اقتدار میں آنے کے لئے سٹیٹس کو کی ضرورت ہوتی ہے جب ایک بار حکومت میں آگئے تو پھر آہستہ آہستہ سٹیٹس کو ختم کرنا شروع کردیں ۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ اب ترین کے اسی مشورے پر عمل کرتے ہوئے کپتان سٹیٹس کو ختم کرنے کی کوشش میں نئی مصیبت میں پھنس چکے ہیں کیونکہ ان کے پاس پارلیمان میں مانگے تانگے کی واجبی سی اکثریت ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ عمران خان کے لئے اس وقت بڑا مسئلہ یہ ہے کہ 2018 میں عمران خان اور پی ٹی آئی کو بڑی تعداد میں ان لوگوں نے ووٹ دیا جو ایک تیسرے آپشن کو آزمانا چاہتے تھے مگر 2023 کے الیکشن میں وہ اس حکومت کی کارکردگی، گورننس اور اپنے منشور پر عمل درآمد یا عدم عمل درآمد کو سامنے رکھ کر فیصلہ کریں گے۔ اگر 2018 میں 2016 کے پانامہ لیکس، میاں نواز شریف کی نااہلی کے باوجود پنجاب کم از کم مسلم لیگ (ن) کے ساتھ کھڑا رہا تو 2021 میں ضمنی الیکشن میں مسلسل کامیابیوں نے مسلم لیگ میں ایک نئی امید پیدا کردی ہے۔ مگر پی ٹی آئی آج بھی ایک بڑی حریف ہے۔ ایسے موقع پر عمران خان کے لئے ترین سے لڑائی کو بڑھانا خاصا مشکل فیصلہ ہوگا۔ البتہ ایک بات طے ہے کہ اگر دوبارہ ’’ملاپ‘‘ ہو بھی جاتا ہے تو پلڑا بہرحال ترین صاحب کا ہی بھاری رہے گا۔ اس وقت بھی ترین صاحب کے ساتھ ایک واضح اور بڑا گروپ ہے اور بس ’’ڈوریاں‘‘ ہلانے والوں کے اشارے کا انتظار ہے۔ کپتان مضبوط اعصاب کے مالک ضرور ہیں مگر بڑا فیصلہ نہیں کر پارہے۔کچھ بااثر کاروباری لوگ جن کے وزیر اعظم اور ترین صاحب سے اچھے تعلقات ہیں ان کا جھکائو بھی اس وقت ترین کی طرف ہے۔ ایک ایسے ہی بزنس مین نے تصدیق کی ہے کہ ان کی دونوں سے گفتگو ہوئی ہے۔ انہوں نے ایک بڑا انکشاف یہ کیا ہے کہ انہیں لگتا ہے کہ معاملہ محض ترین گروپ کا نہیں ہے بلکہ ڈوریاں ہلانے والوں سے ہے جس میں بعض معاملات میں خان کی ’’ضد‘‘ آڑے آرہی ہے۔
مظہر عباس کے بقول تحریک انصاف حکومت کے تین سال میں پی ٹی آئی کی ڈوریوں میں بندھے کوئی اتحادی بھی خوش نہیں اور نہ ہی پارٹی کے اندر مکمل اتفاق رائے ہے۔ایسے میں انقلاب نہیں آتا۔ اسٹیٹس کو کے ساتھ ہی چلنا پڑتا ہے، فیصلہ آپ نے اور ترین صاحب نے ہی کیا تھا۔ دو بڑے اتحادی مسلم لیگ (ق) اور ایم کیو ایم (پاکستان) ڈوریوں سے بندھے ہیں۔ متحدہ کی ڈوریاں تو 22؍اگست 2016 سے ہلانے والوں کے ہاتھ میں ہیں۔ ذرا ہل جل ہوتی ہے تو رشتہ لندن سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ مرکز اور بلوچستان میں اتحادی جماعت باپ کی ڈوریاں جس کے ہاتھ میں ہے اسے بھی سبھی جانتے ہیں۔اب ان حالات میں عمران نے شاید اپنے 25سالہ سیاسی کیرئیر کا مشکل ترین فیصلہ کرنا ہے۔

Back to top button