کیا مسلم لیگ ن کے لندن اور پاکستان دھڑے بن گئے؟

مسلم لیگ نواز میں مفاہمتی اور مزاحمتی بیانیہ لے کر چلنے والے دھڑوں کی آپسی چپقلش کھل کر سامنے آنے کے بعد اب ایسا لگتا ہے جیسے نون لیگ مسلم لیگ لندن اور مسلم لیگ پاکستان کے دھڑوں میں بٹ گئی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کی جانب سے پپلزپارٹی کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششوں کو سبوتاژ کرکے مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی نے ثابت کردیا کہ مسلم لیگ ن اب واضح طور پر دو دھڑوں مسلم لیگ ن لندن اور مسلم لیگ ن پاکستان میں تقسیم ہوچکی ہے۔
مریم نواز اور شاہد خاقان عباسی کی حالیہ بیان بازی بتاتی ہے کہ شہباز شریف کی جیل سے رہائی کے بعد مسلم لیگ ن دو دھڑوں میں واضح طعر پر بٹ ہو چکی ہے۔ لندن میں مقیم میاں نوازشریف کی قیادت میں مسلم لیگ نون لندن کی نمائندگی مریم نواز شریف، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال جیسے مزاحمت پسند رہنما کر رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ ن پاکستان کی قیادت شہباز شریف کے ہاتھ میں ہے، اس دھڑے میں مفاہمتی بیانیہ لے کر چلنے والے پارٹی رہنما شامل ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 25 مئی کو لاہور ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ نون کی نائب صدر اور نواز شریف کی جانشین مریم نواز نے پارٹی صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی ان تمام کوششوں کو سوچی سمجھی سکیم کے تحت سبوتاژ کیا ہے جو وہ پیپلز پارٹی کو اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم میں دوبارہ شامل کرنے کے حوالے سے کر رہے تھے۔ مسلم لیگ ن لندن سمجھتی ہے کہ شہباز درپردہ پیپلزپارٹی کو ساتھ ملا کر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بڑی ڈیل کے زریعے وزیراعظم بننے کی کوشش کررہے ہیں۔
یاد رہے کہ 24 مئی کو اسلام آباد میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی جانب سے پی ڈی ایم میں شامل جماعتوں کی قیادت کے لئے عشائیے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ شہباز شریف نے اس ڈنر میں شرکت کے لیے آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو خصوصی دعوت دی تھی تاہم مسلم لیگ نون کے انتہا پسند عناصر کی جانب سے منفی رد عمل کو مدنظر رکھتے ہوئے پیپلز پارٹی نے اپنی دوسرے درجے کی قیادت کو ڈنر میں بھیجا تھا۔ اس عشایئے کے اگلے روز نون لیگ کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو میں واشگاف الفاظ میں کہہ دیا کہ اگر پیپلز پارٹی کو دوبارہ پی ڈی ایم میں شامل کیا گیا تو وہ اتحاد کے سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے استعفی دے دیں گے۔ انکا موقف تھا کے پیپلزپارٹی پی ڈیم کو دھوکہ دینے پر معافی مانگے۔ عباسی کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد مریم نواز نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے یہ موقف دہرایا کہ شہباز شریف نے بطور اپوزیشن لیڈر پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو کھانے پر بلایا تھا اور اس بیٹھک کا پی ڈی ایم سے کوئی تعلق نہیں تھا۔شہباز شریف کے دیے گئے عشائیے میں شرکت نہ کرنے کے حوالے سے مریم نے کہا کہ جہاں شہباز شریف موجود ہوں وہاں میری موجودگی کی ضرورت نہیں ہے۔وہ قائد حزب اختلاف ہیں اور انہوں نے پارلیمینٹیرینز کے لیے عشائیہ دیا تھا اور میں رکن پارلیمان نہیں ہوں۔ مریم نواز نے وضاحت اور صراحت کے ساتھ یہ کہا کہ پیپلزپارٹی پی ٹی ایم کے شوکاز نوٹس کا جواب دے پھر اسے پی ڈی ایم اتحاد میں واپس لینے کے بارے میں سوچا جائے گا۔ مریم نے یہ بھی کہا کہ پیپلزپارٹی کے بارے میں ان کا وہی نقطہ نظر ہے جو شاہد خاقان عباسی کا ہے، شاہد خاقان عباسی نے وہی مؤقف پیش کیا جو مسلم لیگ (ن) کا مؤقف ہے، جو میرا اور پی ڈی ایم کا مؤقف ہے۔ شہباز شریف کی سربراہی میں ممکنہ نئے اتحاد کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کسی نئے اتحاد کی تردید کی اور کہا کہ پی ڈی ایم موجود ہے، اور پی ڈی ایم نے رمضان المبارک کے بعد اگلے لائحہ عمل کے لیے اجلاس کا فیصلہ کیا تھا جو آئندہ چند روز میں ہوگا اور اس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ کیا کرنا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون میں اس وقت پائی جانے والی واضح تقسیم کی وجہ وہ تاثر ہے جس میں شہباز شریف آئندہ وزیراعظم بتائے جارہے ہیں۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز سمیت مسلم لیگ نون کی مزاحمت پسند قیادت یہ سمجھتی ہے کہ مقتدر حلقے درپردہ شہباز شریف کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ بہتر بنا کر مستقبل قریب میں انہیں وزارت عظمی میں پر فائز کرنے کے لیے تیار ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ مسلم لیگ ن پاکستان دھڑے کے کرتا دھرتا شہباز شریف کی پرواز روکنے کے لئے مسلم لیگ ن لندن دھڑے کے سربراہ نواز شریف نے خود کوئی بیان جاری کرنے کی بجائے اپنی بیٹی مریم نواز اور پارٹی کے سینیئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی کو آگے کردیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق شہباز شریف کی جانب سے پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم اتحاد میں واپس لا کر اپوزیشن کو مضبوط بنانے اور مقتدر قوتوں کے ساتھ بہتر ڈیل کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے مسلم لیگ نون لندن کے سربراہ نواز شریف نے شاہد خاقان عباسی اور مریم نواز کو فرنٹ پر کھیلنے کا کہہ دیا ہے اسی لئے شہباز کا کھیل بگاڑنے کے لئے یہ دونوں رہنما پہلے مرحلے میں پیپلزپارٹی پر تنقید کررہے ہیں اور اس کے بعد شہباز شریف کے اصل سہولت کاروں کے خلاف بھی محاز کھولنے کی تیاری کر چکے ہیں۔
