تفتیش کے دوران فیض حمید کی ایک اور بڑی سازش بے نقاب ہو گئی

8 فروری 2024 کے الیکشن نتائج سامنے آنے کے فوری بعد راولپنڈی کے کمشنر لیاقت علی چٹھہ کی جانب سے نگران حکومت، الیکشن کمیشن اور چیف جسٹس سپریم کورٹ پر نون لیگ کے حق میں دھاندلی کے الزامات لگانے کی اصل حقیقت اب سامنے آ گئی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سابق کمشنر راولپنڈی نے الیکشن دھاندلی کی جھوٹی کہانی سابق آئی ایس آئی چیف جنرل فیض حمید کے کہنے پر سنائی تھی جس نے انہیں یقین دلایا تھا کہ ان الزامات کے بعد نتائج مسترد ہو جائیں گے اور بالآخر عمران خان دوبارہ وزیر اعظم بن جائیں گے۔
اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی محسن بیگ نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں دعوی کیا ہے کہ راولپنڈی کے سابق کمشنر لیاقت چٹھہ نے کورٹ مارشل کا سامنا کرنے والے جنرل فیض حمید کے خلاف بڑی گواہی دے دی ہے۔ ان کے مطابق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ لیاقت چٹھہ کو گرفتاری کے بعد ٹرائل کے دوران فیض حمید کے سامنے بھی لے جایا گیا تھا جہاں انہوں نے ان کے منہ پر یہ اعتراف کیا کہ انہوں نے 8 فروری کے الیکشن نتائج تبدیل کرنے اور نون لیگ کے امیدوار جتوانے سے متعلق جھوٹ پر مبنی جو پریس کانفرنس کی تھی وہ جنرل فیض حمید کے کہنے پر کی تھی ورنہ ان کے پاس اس حوالے سے کوئی شواہد موجود نہیں تھے۔ لیاقت چٹھہ نے تسلیم کیا کہ ان الزامات کا مقصد انتخابی نتائج کو مشکوک بنانا اور اس حوالے سے ایک عوامی تحریک چلانا تھا۔
لیاقت چٹھہ کے مطابق فیض حمید نے انہیں بتایا تھا کہ نومبر 2024 میں وہ صدر پاکستان ہوگا اور پھر عمران خان کو جیل سے نکال کر وزیر اعظم بنوا دے گا۔ دوران ٹرائل یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ عمران کو اقتدار سے ہٹتے ہی احتجاج، جلسوں اور ہنگاموں کی ایڈوائس بھی جنرل فیض حمید نے ہی دی تھی تاکہ ملک میں عدم استحکام رہے۔ محسن بیگ کے مطابق اس وقت بھی تحریک انصاف کی جانب سے احتجاج کی جو پالیسی چل رہی ہے اس کا ماسٹر مائنڈ بھی فیض حمید تھا تاکہ حکومت اور فوج پر دباؤ رہے اور یہ سب ریکارڈ سے ثابت بھی ہوگیا ہے۔
محسن بیگ کہتے ہیں کہ بہت سے عہدوں کی امید لگائے اور لیاقت چٹھہ جیسے بہت سے لوگوں کو جھوٹی کہانیاں سنا کر لالچ دینے والا فیض حمید آج مکافات عمل کے اصول کے تحت کورٹ مارشل کا سامنا کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ پنجاب کی بیوروکریسی میں "مدہوش کریک پاٹ” کہلانے والے سابق کمشنر راولپنڈی لیاقت چٹھہ نے الیکشن 2024 کے فوری بعد ایک پریس کانفرنس میں الزام عائد کیا تھا کہ راولپنڈی ڈویژن میں نون لیگی امیدواروں کو جعلی مہریں لگا کر جتوایا گیا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس غلط کاری کا ذمہ دار میں ہوں اور چیف الیکشن کمشنر اور چیف جسٹس اس کام میں پورے شریک تھے۔ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے لیاقت علی چٹھہ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا گیا تھا اور ثبوت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے ان الزامات کو بیہودہ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’کمیشن کے کسی عہدیدار نے الیکشن نتائج کی تبدیلی کے لیے کمشنر راولپنڈی کو کبھی کوئی ہدایات جاری نہیں کیں اور نہ ہی ایسا کرنا ممکن تھا ۔‘ کمیشن نے مزید کہا کہ ’کسی بھی ڈویژن کا کمشنر نہ تو ڈپٹی ریٹرنگ افسر، ریٹرنگ افسر یا پریزائڈنگ افسر ہوتا ہے اور نہ ہی الیکشن کے کنڈکٹ سے اس کا کوئی تعلق ہوتا ہے لہذا لیاقت چٹھہ نے یہ الزامات کسی ایجنڈے کے تحت لگائے ہیں۔
عمران خان نے فوج اور عدلیہ سے بغاوت کی غلط امید کیوں لگائی تھی ؟
تاہم لیاقت چٹھہ کا مخصوص ایجنڈا تب بے نقاب ہو گیا جب اس نے گرفتاری کے بعد تحقیقات کے دوران اعتراف کیا کہ اس نے جھوٹ پر مبنی پریس کانفرنس تحریک انصاف والوں کے ایما پر کی تھی جنہوں نے ان کے ساتھ کچھ وعدے کیے تھے۔ یاد رہے کہ لیاقت چٹھہ نے جب یہ الزامات لگائے تب تک اس کا اگلے سکیل میں پروموشن کا کیس مسترد یو چکا تھا اور وہ گورنمنٹ سروس سے کچھ ہفتوں بعد ریٹائر ہونے والا تھا۔ بعدازاں 22 فروری 2024 کو لیاقت چٹھہ نے تحریری طور پر اپنے الزامات پر شرمندگی کا اظہار کیا تھا اور قوم سے معافی مانگ لی تھی۔ چٹھہ نے غلط الزامات پر معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے ایک سیاسی جماعت کے بہکانے پر جھوٹا بیان دیا تھا جع صریحاً غیر ذمہ دارانہ عمل اور غلط بیانی تھی، مجھے اپنے بیان پر بہت شرمندگی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پریس کانفرنس کا دن سوچے سمجھے منصوبے کے مطابق ایک سیاسی جماعت کے احتجاجی پروگرام کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے17 فروری کو رکھا گیا تھو۔ چیف جسٹس کا نام بھی دھاندلی کرنے والوں میں جان بوجھ کر شامل کیا گیا اور اس کا مقصد عوام میں انکے خلاف نفرت بھڑکانا تھا۔ ایسے میں لیاقت چٹھہ نے اگر یہ اعتراف کیا ہے کہ انہیں الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگانے کا مشورہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے دیا تھا تو اس میں کوئی انوکھی بات نہیں چونکہ وہ تحریک انصاف کے منصوبہ ساز کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے میڈیا میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ فیض حمید نے کورٹ مارشل کے لیے گرفتاری کے بعد اعتراف کیا ہے کہ روس کے صدر پیوٹن ان کے رول ماڈل ہیں جو پہلے انٹیلیجنس کے سربراہ تھے لیکن پھر سیاست میں آنے کے بعد ملک کے صدر بھی بن گئے۔ اب سابق کمشنر لیاقت چٹھہ نے بھی اعتراف کر لیا ہے کہ فیض حمید نے انہیں یقین دلایا تھا کہ وہ نومبر 2024 میں پاکستان کے صدر بن جائیں گے۔
