توسیع کے بعد PTI والے اپنی چھٹی کے خطرے سے دوچار

سروسز چیف ترمیمی ایکٹ منظور کروانے کے لیے مسلم لیگ نون اور پیپلز پارٹی کی جانب سے بغیر کسی چوں چراں کے غیر مشروط حمایت کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں کے دلوں میں یہ خوف بیٹھ گیا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرورہے۔ حکومتی حلقوں میں اب اسٹیبلشمنٹ کو پی ٹی آئی کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ مبینہ طور پر نون لیگ نے اقتدار واپس ملنے کی شرط پر ہی اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ دیا ہے۔
وفاقی وزیر فواد چوہدری نے جمعہ کے روز ایک ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے بڑی وضاحت سے یہ بات کی ہے کہ نون لیگ کبھی بھی گھاٹے کا سودا نہیں کرتی اور یقینا نواز شریف کی جماعت کی جانب سے توسیع کی غیر مشروط حمایت کے پیچھے کوئی کہانی چھپی ہے۔ لہذا اب حکومتی حلقوں میں یہ خوف سرایت کر رہا ہے کہ سپریم کورٹ سے توسیع کے حوالے سی کیس ختم ہونے کے بعد تحریک انصاف کا کاؤنٹ ڈاؤن شروع ہو جائے گا۔
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ سروسز چیفس ترمیمی ایکٹ پر قانون سازی کے بعد حکومتی لوگ پریشان ہیں کہ اب ہمارا کیا بنے گا؟ کیونکہ ان کو لگتا ہے پاکستان میں ڈیل بہت جلد ہوجاتی ہے، اپوزیشن کی جانب سے توسیعی ایکٹ کی غیرمشروط حمایت کے حوالے سے اگر واقعی کوئی ڈیل ہوئی ہے تو اس کا سب سے بڑا نقصان تحریک انصاف کو ہوگا۔ دوسری جانب حکومتی ارکان اس حقیقت سے بھی اچھی طرح واقف ہیں کہ ان کی حکومت عوام کی نظروں سے گر چکی ہے اور توسیع کے معاملے کو جس انداز میں مس ہینڈل کیا گیاہے اس کے بعد اسٹیبلشمنٹ کی مایوسی بھی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتدر قوتوں نے حکومتی نااہلی کا بوجھ مزید اپنے کندھوں پر نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے اور متبادل کے طور پر ن لیگ بہترین آپشن کے طور پر دستیاب ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے کپتان سے جو جو کام لینا تھا وہ ہوچکا ہے اور اب تحریک انصاف کی موجودہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کے لیے ایک بوجھ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے لہذا اب پہلی فرصت میں اس سے جان چھڑائی جائے گی۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف کی حکومت قومی اسمبلی میں دس سے بھی کم ووٹوں کی اکثریت پر قائم ہے جسے گھر بھیجنا کوئی مشکل کام نہیں۔
واقفان حال کہتے ہیں کہ حکومتی وزراء اور ارکین اسمبلی نجی محفلوں میں ایک دوسرے سے یہ پوچھ رہے ہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے اور اب ہمارا کیا بنے گا؟ تحریک انصاف والوں کو خدشہ ہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی غیر مشروط حمایت حاصل کرنے کے لیے مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ نے جو ڈیل کی ہے، اس کے بعد کپتان اینڈ کمپنی کے سر پر تلوار لٹکنا شروع ہوگئی ہے۔ پی ٹی آئی والوں کو پریشانی اسی بات کی ہے کہ ن لیگ کس یقین دھانی پر مزاحتمی سیاست سے نکل کر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اچانک مفاہمتی سیاست پر اتر آئی ہے۔
انہیں لگتا ہے کہ ن لیگ کے ساتھ معاملات طے پا چکے ہیں اور اگر کہیں بھی کوئی ڈیل ہوئی ہے تو اس سے نقصان صرف تحریک انصاف کا ہوگا۔
بعض تجزیہ کاروں کا بھی یہی خیال ہے کہ آرمی ایکٹ میں ترمیم والا مسئلہ اب ختم ہوگیا ہے، تینوں بلز منظور ہوگئے ہیں اور اب حکومت کے احتساب کی باری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہبازشریف نے بھی 15فروری سے پہلے ہر حال میں پاکستان واپس آنے کا ذہن بنا لیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ وہ بدلتے سیاسی حالات کے باعث پاکستان واپس آرہے ہیں جن میں ان کے اچھے دن شروع ہونے والے ہیں اور کپتان کے برے دنوں کے آغاز کی نوید سنائی جا رہی ہے۔ تاہم دوسری پارٹیوں سے تحریک انصاف میں شامل ہونے والے پی ٹی آئی رہنماؤں کی یہ خواہش ہے کہ اگر پارلیمنٹ کے اندر سے بھی تبدیلی آنی ہے تو دوبارہ انہیں کی جماعت کو ہی اقتدار سونپ دیا جائے بجائے کہ شریفوں کو اقتدار سونپا جائے۔
