ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین ڈیل کس نے کروائی؟

آرمی ترمیمی ایکٹ پر ن لیگ اور اسٹیبلشمنٹ کے مابین مفاہمت کروانے میں ایک بڑی عمر کے ریٹائرڈ اعلی افسر نے اہم کردار ادا کیا ہے جو کہ ایک اہم ترین ملکی شخصیت کے سسر بھی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ شریف برادران کو اگلے سیاسی سیٹ اپ کے حوالے سے یقین دہانی بھی اسی شخصیت کے ذریعے کروائی گئی ہے۔
تاہم مسلم لیگ ن کے بعض رہنما اس حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں کہ ماضی قریب میں بھی اس بڑی عمر کے سابقہ افسر نے نواز شریف اور اسٹیبلشمنٹ میں روابط کا کام کیا تھا مگر تب بھی ن لیگ کو بجائے فوائد حاصل ہونے کے مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ دوسری طرف کہا جا رہا ہے کہ اس ریٹائرڈ افسر کے ذریعے ن لیگ کی قیادت اپنے کیسز ختم کروانے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ دیگر لیگی رہنماؤں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے حوالے سے بھی بارگیننگ کر رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق آج کل مسلم لیگ ن کے ایک مرکزی رہنما اورایک ریٹائرڈ اعلیٰ افسر کے درمیان گاڑھی چھن رہی ہے جنہوں نے دونوں فریقین کے مابین رابطے کا کام کیا ہے اور کامیابی سے سارا عمل مکمل ہوا۔ جنرل باجوہ کی توسیع کے معاملے پر ان کی بات کو اہمیت دی گئی تھی لیکن کئی لوگوں بشمول ان کی اپنی ہی پارٹی کے لوگوں کو ان پر شک تھا کہ وہ ضرورت سے کچھ زیادہ ہی کر رہے ہیں۔ لیگی ذرائع کے مطابق چند ہفتے قبل انہوں نے اپنی پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو لندن میں ایک اہم پیغام دیا تھا جس میں مسلم لیگ ن کے لئے اقتدار میں شراکت کی بات شامل تھی۔ خیال رہے کہ پارٹی کے با اثر حلقوں کے ساتھ رابطوں کی بات نئی نہیں۔ نواز شریف جب اڈیالہ جیل میں تھے تو اس وقت بھی انہوں نے ایک انتہائی با اثر شخص کا استقبال کیا تھا۔ چوہدری شوگر ملز کیس میں مریم نواز کی گرفتاری کے وقت اسی شخصیت نے ایک مرتبہ پھر اُن سے ملاقات کی تھی اور ساتھ ہی ٹیلیفون پر بھی گفتگو کی تھی تاہم، ان رابطوں کے باوجود شریف فیملی کے فائدے کے لئے کچھ نہیں ہوا یہی وجہ ہے کہ ن لیگ کے بعض رہنما اس شخصیت کی ن لیگ کے مرکزی رہنما سے قربت کو پسند نہیں کرتے۔
واقفان حال کا کہنا ہے کہ اب شریف فیملی کی سوچ بھی بدل چکی ہے۔ شریف خاندان کی اولین ترجیح اس وقت یہ ہے کہ اصل قوتوں کے ساتھ خراب تعلقات کو درست کیا جائے۔ ن لیگ کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ شریف فیملی اس وقت اقتدار میں شراکت کے آپشن کو وزن نہیں دے رہی لیکن موجودہ صورتحال سے نکلنے کے لئے نئے الیکشن کے امکانات کو بھی دیکھ رہی ہے۔ عمومی طور پر ن لیگ اور خصوصاً اس کے اعلیٰ قائدین نواز شریف اور مریم نواز پر پارٹی کے اندر اور باہر سے شدید تنقید ہو رہی ہے کیونکہ انہوں نے عوام کی بالادستی کے اپنے گزشتہ چند برسوں کے مؤقف سے مکمل یو ٹرن لے لیا ہے۔ نواز شریف اور مریم نواز دونوں میڈیا کی رسائی میں نہیں ہیں لیکن ن لیگ کے دیگر رہنما کھل کر یا نجی محفلوں میں جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ ایسا ہے جس پر کوئی قائل نہیں ہو سکتا۔ کچھ رہنما نجی طور پر اس صورتحال کی پوری ذمہ داری اسی رابطہ کرانے والے شخص پر ڈال رہے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو یہ ماننے کے لئے تیار نہیں کہ ن لیگ نے حالیہ دنوں میں جو کچھ بھی کیا ہے وہ نواز شریف کی مرضی کے بغیر ہوا ہے۔
بہت سے ن لیگی رہنماؤں کے لئے یہ بات بھی پریشان کن ہے کہ اس بات کی بھی کوئی وضاحت سامنے نہیں آ رہی کہ نواز شریف اور مریم نواز کیوں خاموش ہیں اگر ان کی غلط نمائندگی کی گئی ہے۔ سیاست اور میڈیا میں کئی لوگوں کو شک ہے کہ ن لیگ کی حالیہ قلابازی کسی ممکنہ رعایت کی وجہ سے ہے۔ لیگی رہنماؤں میں سے اکثر کو یہ آئیڈیا نہیں کہ ن لیگ کو اقتدار میں حصہ ملے گا یا پھر شریف فیملی کو کوئی ایسی یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ انہیں اور جیلوں میں قید انکی پارٹی رہنماؤں کو کوئی مستقل ریلیف ملے گا یا نہیں۔
