توسیع کے معاملے میں عدلیہ کے لیے حکومتی شٹ اپ کال

سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے لیے آئین میں ترمیم کرنے کی بجائے حکومت نے آرمی ایکٹ میں ترمیم کرتے ہوئے یہ غیر آئینی نقطہ بھی شامل کر دیا ہے کہ وزیراعظم کی طرف سے مدت ملازمت میں توسیع کو کسی بھی فورم، بشمول عدلیہ، چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔ حکومت کے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ آئین کے مطابق عدلیہ کو کسی بھی معاملے کے جوڈیشل ریویو کا آئینی اور قانونی اختیار حاصل ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے معاملے پر حکومت کی عجیب و غریب حکمت عملی نے قانونی اور سیاسی حلقوں کو ششدر کرکے رکھ دیا ہے۔ سپریم کورٹ کی جانب سے جنرل باجوہ کو چھ ماہ کی مشروط توسیع دینے کے بعد حکومت پابند ہے کہ آئین میں ترمیم کرکے اس حوالے سے قوانین کو واضح کرے ورنہ جنرل باجوہ 6 ماہ بعد ریٹائرڈ تصور ہوں گے اور ان کی جگہ صدر مملکت کو نئے آرمی چیف کے نام کی منظوری دینا ہوگی۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد تحریک انصاف حکومت نے کئی ہفتے تو خاموشی سے گزار دئیے مگر پھر اچانک یوٹرن لیتے ہوئے عدالت کے ساتھ بد عہدی کی اور اس فیصلے کو ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔
بات یہیں تک محدود نہ رہی بلکہ ابھی سپریم کورٹ نے فیصلے کے خلاف اپیل کو سنا ہی نہیں تھا کہ وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس بلاکر آرمی ایکٹ میں تبدیلی کے لئے بل کا مسودہ بھی منظور کروالیا جسے اب تین جنوری کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا حالانکہ اس سے پہلے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ اس معاملے پر کسی بھی قسم کی کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ حیران کن طور پر اس بل میں یہ شرط بھی رکھ دی گئی ہے کہ وزیراعظم کی صوابدید پر منحصر ہے کہ وہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کریں اور پھر اس فیصلے کو کسی بھی عدالت یا کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔
آرمی ایکٹ کی چیپٹرون اے کی شق 8 بی کے پارٹ ون میں لکھا ہے کہ اگرچہ اس ایکٹ یا دیگر کسی قانون میں نہیں بتایا گیا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تقرر ہوسکتا ہے، تاہم وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدرمملکت آرمی چیف کو تین سال کے لیے دوبارہ عہدے پر متعین کر سکتا ہے یا اس کے علاوہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے شرائط و ضوابط وزیراعظم کی ایڈوائس پر صدرمملکت ہی طے کر سکتے ہیں۔
آرمی ایکٹ کی ذیلی شق 8 بی کے پارٹ ٹومیں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ اگرچہ یہ کہیں نہیں لکھا کہ چیف آف آرمی سٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع یا دوبارہ تقرر کیا جاسکتا ہے لیکن اگر مجاز اتھارٹی ایسا کر گزرے تو اسے کسی عدالتی فورم پر چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ یعنی سپریم کورٹ کے جوڈیشل ریویو کے اختیارات کو ختم کیا جا رہا ہے۔ لہذا قانونی اور آئینی ماہرین آرمی ایکٹ میں مجوزہ ترمیم کے حوالے سے سخت حیرت میں مبتلا ہیں کیونکہ ماضی میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ وزیراعظم کے کسی فیصلے یا کسی قانون میں تبدیلی کرتے وقت ایسی غیر آئینی شرط عائد کردی جائے کہ عدلیہ اس معاملے کا نوٹس نہیں لے سکتی جبکہ ساری دنیا میں عدلیہ کو جوڈیشل ریویو کا آئینی اختیار حاصل ہے۔
قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے مجوزہ بل میں اس شق کو شامل کرنا دراصل عدلیہ کو شٹ اپ کال دینے کے مترادف ہے جو کہ اپوزیشن کی طرف سے بھی شدید تنقید کا نشانہ بن سکتی ہے۔ حکومت نے مجوزہ بل میں یہ بات شامل کرکے اصل میں عدالت عظمیٰ کو پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ آئندہ اگر وزیراعظم اس طرح کا کوئی فیصلہ کرے گا تو آپ کو اس میں مداخلت کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی۔
سیاسی حلقے بھی اس حوالے سے انگشت بدنداں ہیں کہ آخر تحریک انصاف کیا کرنا چاہتی ہیں۔ ایک طرف عدالت میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کی گئی ہے تو دوسری جانب آرمی ایکٹ میں ایسی شرط رکھ دی گئی ہے جو اپوزیشن جماعتوں کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ لہذا یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ شاید تحریک انصاف جنرل باجوہ کی توسیع کا معاملہ خراب کرنا چاہتی ہے کیونکہ پہلے عدالت سے ایک آئینی ترمیم کے لیے مہلت لینا اور پھر وہ ترمیم کرنے کی بجائے عدالت سے وعدہ خلافی کرنا اور پھر اس کے اختیارات ختم کرنے کی کوشش کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button