تین برس سے لاپتہ صحافی مدثر نارو کس کی تحویل میں ہے؟


حکومت کی جانب سے بار بار کی یقین دہانیوں اور عدالتی احکامات کے باوجود تین برس پہلے پراسرار طور پر لاپتہ ہو جانے والے اینٹی اسٹیبلشمنٹ صحافی اور بلاگر مدثر نارو کا کوئی سراغ نہیں مل پارہا لہذا ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ وہ طاقتور خفیہ اداروں کی تحویل میں ہے۔
یاد رہے کہ مدثر نارو اگست 2018 میں اپنی اہلیہ صدف اور تب چھ ماہ کے بیٹے سچل کے ہمراہ ملک کے شمالی علاقوں کی سیر کی غرض سے گئے تھے لیکن اسی دوران پراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے۔ ان کے خاندان نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ مدثر کو خفیہ اداروں نے اٹھا لیا ہے۔ مدثر نارو کی گمشدگی کے بارے میں اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی پٹیشن کے مطابق 2018 کے دھاندکی زدہ انتخابات کے چند روز بعد ان کو فون پر وارننگ دی گئی کہ وہ الیکشن میں ہونے والی بدعنوانی کے بارے میں سوشل میڈیا پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں۔ ان کی والدہ کہتی ہیں کہ گمشدگی سے چند ماہ قبل ان کی نوکری بھی چلی گئی تھی اور اس کی کوئی واضح وجہ بھی نہیں بتائی گئی تھی۔ پھر مئی 2021 میں ان کی نوجوان اہلیہ صدف کی بھی وفات ہو گئی۔ تب اسلام آباد ہائی کورٹ میں مدثر نارو کی بازیابی کے حوالے سے سماعت کا سلسلہ جاری تھا اور ان کی اہلیہ اسلام آباد کی سڑکوں پر جلوس نکالنے میں مصروف تھیں۔
مدثر نارو کا خاندان پچھلے تین برس سے عدالتوں اور حکومتی ایوانوں میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہا ہے لیکن ان کے بیٹے کا کوئی سراغ نہیں مل پایا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں مدثر کی بازیابی کے لئے دائر کردہ درخواست کی کئی سماعتیں ہوچکی ہیں لیکن بار بار کے عدالتی احکامات کے باوجود کوئی نتیجہ نہیں نکل پایا۔ مدثر کی فیملی کی جانب سے دائر درخواست میں وزارت داخلہ اور وزارت دفاع کو فریق بنایا گیا ہے جبکہ وزارت دفاع کا موقف ہے کہ مدثر نارو ان کی تحویل میں نہیں۔
یکم دسمبر کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے مدثر نارو کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہماری آدھی زندگی غیر جمہوری حکومتوں میں گزری، اور یہ سب انہی کا کیا کرایا ہے۔ وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری اور سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر عدالت میں پیش ہوئے جبکہ درخواست گزار کی جانب سے عثمان وڑائچ ایڈوکیٹ پیش ہوئے تاہم ایمان مزاری بیماری کے باعث پیش نہ ہو سکیں۔ وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے شیریں مزاری سے کہا کہ آپ کے اندر احساس ہے، لیکن ریاست میں احساس نظر نہیں آتا، لاپتہ افراد کی فیملیز سڑکوں پر رل رہی ہوتی ہیں، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ہر شہری کے بنیادی حقوق کا خیال کرے، ریاست کا ری ایکشن اس کیس میں افسوس ناک ہے، ریاست ماں کی جیسی ہوتی ہے، آپ ماں کی طرح مدثر کی فیملی کو لے جائیں اور انہیں مطمئن کریں، لاپتہ بلاگر کا ایک بچہ بھی ہے، اس کی بیوی بھی دنیا چھوڑ گئی، لہٰذا اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اسکے بچے اور اس کے والدین کو مطمئن کرے، وزیراعظم اور وفاقی کابینہ اس متاثرہ فیملی کو سنیں اور اسے مطمئن کریں۔
اس موقع پر ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ میں مختلف اتھارٹیز سے رابطے میں ہوں ان کو کہا ہے وہ اس معاملے کو دیکھیں، جبری گمشدگی کے خلاف آمنہ جنجوعہ کے ساتھ ملکر وزیراعظم عمران خان احتجاج بھی کرتے رہے ہیں، مدثر نارو کی فیملی کے ساتھ ملنے میں وزیراعظم کو کوئی مسئلہ نہیں ہے، فیملی کو ماہانہ بنیادوں پر معاوضہ دینے کو پراسس کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سپین: پاکستانی شوہر، بیوی ، دو بچوں‌ سمیت جاں بحق
وزیر انسانی حقوق نے کہا کہ ہمیں مدث کے خاندان کی جانب سے بیان حلفی ابھی تک نہیں ملا، اس کے مطابق اخراجات کی ادائیگی کے لیے پراسیس کریں گے، وزیراعظم ان کو ضرور سنیں گے، پہلے ہم چاہتے ہیں کہ ان کے لیے اخراجات کی ادائیگی کا پراسیس کر لیں، شیری مزاری نے کہا کہ لاپتہ شخص کے کمسن بچے اور دادی کی وزیراعظم سے ملاقات کرائی جائے گی، اس سے پہلے آئندہ ہفتے تک ان کو معاوضہ کی رقم کی ادائیگی کا پراسیس مکمل کرنے دیں، انکا دعوی تھا کہ ہماری حکومت جبری گمشدگی کو سنگین جرم سمجھتی ہے، اور جمہوریت میں کسی کو لاپتہ کرنے کی اجازت کسی صورت نہیں دی جا سکتی۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیوں نا ایک قانون بنایا جائے کہ جو ذمہ دار ہے اس سے معاوضہ لیا جائے، اگر کوئی 2002 میں لاپتہ ہوا تو کیوں نا اس وقت کے ذمہ داروں کو جرمانے کیے جائیں، اس وقت کے چیف ایگزیکٹو کو ذمہ دار ٹھہرا کر اسے ازالے کی رقم ادا کرنے کا کیوں نا کہا جائے؟ کسی نہ کسی کو تو اس کا ذمہ دار ٹھہرانا چاہئے، ہماری آدھی زندگی غیر جمہوری حکومتوں میں گزری اور یہ انہی کا کیا کرایا ہے، ابھی تو پولیس، منسٹری والے ہر ایک کوئی فری ہینڈ ملا ہوا ہے، اس میں صرف اسٹیٹ ایکٹر نہیں غیر ریاستی عناصر بھی آتے ہیں، تمام ایجنسیاں وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں، الزام درست ہو یا نا ہو ذمہ داری ریاست کی ہے کہ وہ متاثرہ فیملی کو مطمئن کرے، تین سال سے وہ در بدر پھیر رہے ہیں، اس سلسلے کو اب رکنا چاہیے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ وزیراعظم کے پاس لے کر جائیں، کابینہ ارکان سے ملاقات کرائیں، آپ کوشش کریں کہ یہ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد مطمئن ہو کر واپس آئیں، لاپتہ افراد کی ذمہ داری تو وزیراعظم اور کابینہ ارکان پر آتی ہے، ریاست کی بجائے معاوضے کی رقم وزیراعظم اور کابینہ ارکان کیوں نا ادا کریں؟ تاکہ یہ معاملہ ہی ہمیشہ کے لیے ختم ہو سکے۔ چیف جسٹس نے شیریں مزاری سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرتے ہوئے کیس 13 دسمبر تک ملتوی کردیا۔

Back to top button