جب نواز شریف نے ثاقب نثار کو نکالنے کا منصوبہ بنایا

سینئر صحافی انصار عباسی نے جسٹس رانا شمیم کا بیان حلفی شائع کرنے پر ہونے والی تنقید رد کرتے ہوئے یاد دلایا ہے کہ آج اگر انہوں نے چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف سٹوری دی ہے تو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ماضی میں انہوں نے ایک ایسی رپورٹ شائع کی تھی جو کہ ثاقب نثار کے حق میں گئی تھی اور جس پر نون لیگ والے سخت ناراض ہوئے تھے۔
سوشل میڈیا پر اپنی حالیہ رپورٹ شائع ہونے کے بعد حکومت نوازوں کی تنقید کا نشانہ بننے والے انصار عباسی نے اپنے یو ٹیوب چینل پر کہا یے کہ میں نے جرنلزم ہمیشہ ایمانداری سے کی ہے اور مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ میری خبروں سے کون خوش ہوتا ہے یا ناراض، لیکن اس بات پر افسوس ضرور ہے کہ حکومتی وزرا میری خبر کا حوالہ دے کر جھوٹ بول رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ سیاسی پارٹیوں کے اپنے مفادات ہوتے ہیں لیکن بطور صحافی ہمارے پاس جو بھی خبر آتی ہے ہم اسے شائع کر دیتے ہیں، اس میں ٹائمنگ کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ ماضی میں جب میں نے ثاقب نثار کے حق میں ایک خبر بریک کی تھی تو نون لیگ والے نارض ہو گے تھے اور پی ٹی آئی والے خوش تھے، لیکن آج گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم والی خبر پر دونوں جماعتوں کا ری ایکشن الٹ ہے، یعنی نون لیگ والے خوش ہو رہے ہیں اور پی ٹی آئی والے سخت ناراض ہیں۔
انصار عباسی نے بتایا کہ جب انہوں نے رانا شمیم کے بیان حلفی پر ردعمل لینے کے لیے جسٹس ثاقب نثار سے رابطہ کیا تو انہوں نے گلہ کیا کہ آپ سے میرا اتنا تعلق رہا ہے لیکن آپ میرے خلاف رپورٹ دینے جا رہے ہیں۔ تاہم میں نے صحافتی اصولوں کے تمام تقاضے پورے کرتے ہوئے ثاقب نثار کا موقف لینے کے بعد یہ خبر شائع کردی۔ خیال رہے کہ اس سے کچھ عرصہ پہلے انصار عباسی نے ایک اور خبر رپورٹ کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ نواز شریف بطور وزیر اعظم اپنی نااہلی کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار کو ہٹوانا چاہتے تھے اور سپریم جوڈیشل کونسل میں انکے خلاف ایک ریفرنس بھیجنے کی تیاری بھی ہو چکی تھی۔ لیکن تب کے صدر ممنون حسین، وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور اٹارنی جنرل اشتراوصاف نے اسکی مخالفت کی تو ریفرنس ختم کر دیا گیا رھا۔
انصار عباسی نے اپنے یوٹیوب چینل پر گفتگو کرتے ہوئے اس خبر کی تفصیل دی جس سے مسلم لیگی قیادت ناراض ہو گئی تھی۔ اس خبر کے مطابق جب چیف جسٹس ثاقب نثار نے نواز شریف کو بطور وزیر اعظم نااہل قرار دے دیا تو معزول وزیراعظم نے ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہا لیکن ان کے جانشین شاہد خاقان عباسی نے انہیں ایسی کوششوں سے باز رہنے پر قائل کیا۔ اس وقت کے صدر ممنون حسین بھی ثاقب نثار کے خلاف ریفرنس دیکھ کر چونک گئے تھے۔ سابق اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے بھی انصار عباسی کے بقول ایسے اقدامات کی توثیق کرتے ہوئے بتایا کہ نوازشریف کو مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں کچھ عناصر نے گمراہ کیا اور وہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس لانے پر آمادہ ہوگئے۔
تاہم جب اشتر اوصاف نے اپنے تحفظات سے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو آگاہ کیا تو انہوں نے فیصلہ تبدیل کروا دیا۔ یہ 2018 کی بات ہے جب شاہد خاقان عباسی نے اٹارنی جنرل کو اپنے دفتر میں طلب کیا۔ شاہد خاقان نے انہیں صدارتی ریفرنس کی کاپی دکھائی اور اسے پڑھنے کے لئے کہا، لیکن اٹارنی جنرل نے اسے پڑھنے سے گریز کیا اور انہیں ثاقب نثار کے خلاف یفرنس آگے نہ بڑھانے کے لئے کہا۔ اشتر اوصاف کے مطابق ان کا مؤقف جاننے کے بعد شاہد خاقان عباسی نے ان سے اتفاق کیا۔ اشتر اوصاف کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ آ جانے کے بعد اب ایسا کوئی ریفرنس قابل قبول نہیں ہوگا کیونکہ سپریم جوڈیشیل کونسل کے سربراہ بھی خود چیف جسٹس آف پاکستان ہوتے ہیں۔ قانونی رُکاوٹوں کے علاوہ انہوں نے وزیراعظم کو یہ بھی بتایا کہ ایسے کسی صدارتی ریفرنس کا سیاسی اور قانونی حلقوں میں بھی خیرمقدم نہیں کیا جائے گا۔ اس سے حکومت اور ن لیگ دونوں کو ہی پشیمانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
چنانچہ اشتر اوصاف علی کے بقول وزیراعظم نے انکے مؤقف سے اتفاق کیا اور صدارتی ریفرنس کو آگے بڑھانے کی بجائے ختم کر دیا گیا۔ انصار عباسی نے بتایا کہ یہ خبر شائع ہونے کے بعد نواز لیگ کی جانب سے سخت ردعمل آیا تھا لیکن میں اپنے موقف پر قائم رہا۔ تاہم آج مجھے پی ٹی آئی کی جانب سے اسی ردعمل کا سامنا ہے جس کا اظہار ماضی میں نواز لیگ والوں نے کیا تھا۔
