کلبھوشن کے لیے قانون بنانے والے ‘محب وطن’ ڈوب مریں


معروف اینکر پرسن اور سینئر صحافی حامد میر نے کہا ہے کہ کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی یے، پاکستان میں خونی دہشت گردی کروانے والے گرفتار بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے لیے پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس سے قانون منظور کروانے والے نام نہاد ‘محب وطن’ آج خود شرم سے ڈوب مریں۔
حامد میر نے کپتان حکومت کی جانب سے قانون سازی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کروانے اور بم دھماکوں میں درجنوں معصوم پاکستانیوں کو مروانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو سزا سے بچانے کے لیے ایک اور اپیل کی سہولت دینے کے خلاف تمام اپوزیشن جماعتیں متحد تھیں، لیکن حکمران اتحاد نے اپنی اکثریت کے بل بوتے پر اسکے حق میں قانون سازی کر دی۔ انہوں نے کہا کہ آج کے بعد اپنے مخالفین کو غدار اور مودی کا یار کہنے والے محب وطن خود شرم سے ڈوب مریں۔ اس سے قبل حامد میر نے ایک ٹویٹ میں جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان اور ایم این اے مولانا چترالی کی ایک ویڈیو شئیر کرتے ہوئے سوال کیا کہ کون ہے جو اس قسم کے قوانین منظور کرانے کے لئے زور لگا رہا ہے؟اس معاملے پر خواجہ آصف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ “حکومت نے یہ قانون پاس کرکے کلبھوشن کو NRO دیا ہے۔ بھارت کو خوش کرنے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلے جا رہے ھیں۔۔ یہ انڈیا کے ترکے خود کرتے ھیں اور الزام دوسروں پر لگاتے ھیں۔ کوئی شرم کوئی حیا ھوتی ھے۔
خیال رہے کہ 18 نومبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ہونے والی متنازعہ قانون سازی کے دوران گرفتار انڈین جاسوس کلبھوشن یادھو کو سزائے موت دیے جانے کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دینے کے لیے قانون سازی کی گئی جس پر اپوزیشن جماعتوں کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی صارفین نے خاصی لے دے کی ہے۔ پالیمینٹ کے دھواں دھار مشترکہ اجلاس میں 13 بِل منظور کیے گئے جن میں سے ایک عالمی عدالت انصاف حقِ نظرثانی بل 2021 (ریویو اینڈ ری کنسڈریشن) بھی تھا۔کلبھوشن کو اپیل کرنے کا حق دینے سے متعلق یہ بل رواں سال جون میں قومی اسمبلی سے منظور کیا گیا تھا تاہم پارلیمان کے ایوان بالا سینیٹ سے اس کی منظوری نہیں ہو سکی تھی۔
یاد رہے کہ مارچ 2016 میں پاکستانی حکام نے کلبھوشن کو بلوچستان سے گرفتار کیا تھا۔ اپریل 2017 میں ایک فوجی عدالت نے کلبھوشن کو جاسوسی کے الزام میں سزائے موت سنائی تھی۔ بھارتی حکومت معاملے کو عالمی عدالت انصاف میں لے گئی تھی جہاں 17 جولائی 2019 کو عالمی عدالت نے اس پر اپنا فیصلہ جاری کرتے ہوئے پاکستان کو کہا کہ وہ مبینہ جاسوس کی سزائے موت پر نظرثانی کرے اور اسے قونصلر رسائی دے۔ عدالت نے قرار دیا تھا کہ پاکستان نے کلبھوشن کو قونصلر تک رسائی نہ دے کر ویانا کنونشن کی شق 36 کی خلاف ورزی کی ہے۔ عالمی عدالت نے کہا تھا کہ پاکستان کے مقامی قوانین میں اپیل اور نظرثانی کی شِق ہونی چاہیے جو فوجی عدالت کے فیصلے کو دیکھنے کے لیے کام آ سکے۔
رواں سال جون میں اس معاملے پر وزیرِ قانون فروغ نسیم نے کہا تھا کہ دنیا کو یہ بتانے کے لیے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے، عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل کے لیے قانون سازی کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کلبھوشن سے متعلق بل کی قومی اسمبلی سے منظوری پر کہا تھا کہ ’اگر پاکستان یہ بِل منطور نہ کرتا تو انڈیا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے پاس پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے پہنچ جاتا۔‘
خیال رہے کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعد پاکستان نے کلبھوشن کو اپیل کا حق دینے کے لیے آرڈیننس جاری کیا اور یہ معاملہ اس وقت اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیرِسماعت ہے۔ ہائیکورٹ میں پانچ اکتوبر 2021 کو ہونے والی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے کیس میں اںڈیا سے کیے گئے رابطوں کے بارے میں بتایا تھا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے انڈین جاسوس کلبھوشن کو سزائے موت کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کے لیے ایک اور موقع دینے کی آبزرویشن کے ساتھ سماعت ملتوی کی تھی۔ چیف جسٹس اطہر منالکہ کی سربراہی میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے لارجر بینچ نے وزارت قانون کی جانب سے دائر پٹیشن کی سماعت کی جس میں کلبھوشن کے لیے وکیل کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔ عدالت نے مقدمے میں سینیئر وکیل حامد خان کو عدالتی معاون مقرر کر رکھا ہے جبکہ اٹارنی جنرل خالد جاوید خان حکومت کی نمائندگی کر رہے ہیں جن کے مطابق انڈیا کی حکومت جواب نہیں دے رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے پٹیشن دائر کر کے وکیل مقرر کرنے کی اجازت چاہی ہے تاکہ فوجی عدالت کے فیصلے کو متعلقہ فورم ری وزٹ کیا جا سکے۔ اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پاکستان عالمی ضابطوں پر اسی وقت عمل کر سکتا ہے جب کلبھوشن اپنی سزا کے خلاف نظرثانی اپیل دائر کرنے کے لیے کسی وکیل کو اختیار دیں۔

Back to top button