جرمنی: مسلمانوں پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے والے گروہ کے خلاف کارروائی

جرمن پولیس نے سیاستدانوں، پناہ کے متلاشی افراد اور مسلمانوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے انتہاپسند دہشت گرد گروہ کے خلاف کارروائی کے سلسلے میں مختلف شہروں میں چھاپے مارے ہیں۔
جرمن وفاقی دفتر استغاثہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق محکمہ پولیس کے ایک اسپیشل یونٹ نے جمعے کی صبح چھ صوبوں میں تیرہ مختلف مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔ پانچ مرکزی مشتبہ افراد اور ان کے آٹھ دیگر حامیوں کا منصوبہ تھا کہ وہ ‘سیاستدانوں، پناہ کے متلاشی افراد اور مسلمانوں پر حملوں سے ملک میں خانہ جنگی جیسی کیفیت پیدا کر دیں‘۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ دہشت گرد گروپ کس طرح کے حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
جرمن تحقیقات کاروں کو یقین ہے کہ ستمبر سن 2019 میں معرض وجود میں آنے والے اس گروہ کا بڑا مقصد ‘جرمنی میں ریاستی اور معاشرتی نظام کو بڑا دھچکا پہنچانا تھا‘۔ مزید یہ کہ پانچ مرکزی مشتبہ افراد اور ان کے آٹھ ساتھیوں نے اتفاق کیا تھا کہ وہ اسلحہ حاصل کرنے اور فنڈز جمع کرنے کے علاوہ مستقبل میں کیے جانے والے حملوں میں عملی معاونت بھی کریں گے۔ جمعے کو کی گئی اس کارروائی کے بارے میں مزید معلومات فراہم کرتے ہوئے استغاثہ نے بتایا کہ پولیس ان چھاپوں سے اندازہ لگانا چاہتی تھی کہ آیا یہ مشتبہ افراد اسلحہ حاصل کرچکے ہیں؟ بتایا گیا ہے کہ ان تازہ کارروائیوں کے دوران مبینہ حملوں کی منصوبے کے الزام میں بارہ مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ ہورسٹ زیہوفر بھی ان گروہوں کو ایک بڑا خطرہ قرار دے چکے ہیں۔ گزشتہ برس دسمبر میں انہوں نے اسی لیے اعلان کیا تھا کہ وفاقی محکمہ پولیس اور داخلی سکیورٹی فورس میں چھ سو نئی پوسٹس پیدا کی گئی ہیں تاکہ ایسے ممکنہ خطرات سے بہتر طریقے سے نمٹا جا سکے۔ وفاقی جرمن پولیس اب تک ملک بھر میں فعال ایسے اڑتالیس مشتبہ افراد کی شناخت کر چکی ہے، جنہیں ‘خطرناک‘ قرار دیا گیا ہے۔ انتہائی دائیں بازو کے ان انتہا پسندوں کے بارے میں شبہ ہے کہ وہ حملے کر سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button