نواز شریف کی والدہ کی بیٹے کی تیمارداری کیلئے لندن پہنچ گئیں

سابق وزیراعظم نواز شریف کے دل کا پروسیجر آگلے ہفتے ہو گا، مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف کی والدہ بیٹے کی تیمارداری کیلئے لندن روانہ ہو گئیں. بیگم شمیم اخترنے اپنے بیٹے میاں نوازشریف کے علاج کے موقع پر موجود ہونے کی خواہش کی تھی. نوازشریف کی والدہ بیگم شمیم اخترکاکہنا ہے کہ آپریشن سے پہلے بیٹے سے ملنا چاہتی ہوں۔
ترجمان مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ نوازشریف کی والدہ آج لندن روانہ ہونگی، نوازشریف کی والدہ طبیعت خراب ہونے کے باوجود لندن جارہی ہیں، بیگم شمیم نواز شریف کی عیادت اوراپنا چیک اپ بھی کرائیں گی ۔ سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کی والدہ بیگم شمیم اختر پی آئی اے کی فلائٹ پی کے 757 سے لندن روانہ ہوئیں. پی کے 757 نے دوپہر 12بج کر 50منٹ پر لاہور سے لندن کیلئے اڑان بھری. بیگم شمیم اختر میاں نوازشریف کے پروسیجر سے پہلے لندن پہنچیں گی،،، میاں نوازشریف کے دل کا پروسیجر اگلے ہفتے متوقع ہے،،، قومی ایئرلائن کی پرواز برطانیہ کے وقت کے مطابق شام 4بج کر 10منٹ پر لندن پہنچے گی۔ بیگم شمیم اختر کے ساتھ ان کی بہن کوثر اور بہنوئی یوسف عزیز بھی لندن روانہ ہوئے.
دوسری طرف سابق وزیراعظم نواز شریف کی احتساب عدالت میں جمع کروائی گئی تازہ ترین میڈیکل رپورٹ میں نوازشریف کی انجیو گرافی جلد از جلد کروانے کی سفارش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کی اگر انجیو گرافی نہ کرائی گئی تو ان کی صحت کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ نواز شریف کے غیر متوازن پلیٹ لیٹس کی وجہ سے پہلے ہی علاج موخر ہوتا رہا تاہم ان کے پلیٹ لیٹس اب ٹھیک ہیں۔ میڈیکل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ںواز شریف کا ماہر امراض خون ڈاکٹر کاظمی سے 24 فروری کا وقت لیا گیا ہے۔ ڈاکٹر کاظمی سے کنسلٹ کرکے دل کے علاج کی طرف جائیں گے۔ نواز شریف کو علاج کے لیے برطانیہ میں طبی ماہرین کی زیر نگرانی رہنا چاہیے۔
واضح رہے کہ لندن کے ڈاکٹرز نے نوازشریف کی سرجری تجویز کی ہے تاہم انہوں نے مریم نواز کی موجودگی تک آپریشن کرانے سے انکار کردیاتھا،جبکہ مریم نواز نے ہائیکورٹ میں پاسپورٹ کی واپسی اور ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نام نکلوانے کیلئے درخواست دائر کررکھی ہے۔ تاہم حکومت کی طرف سے واضح کیا جا چکا ہے کہ وہ کسی بھی صورت انھیں باہر جانے کی اجازت نہیں دے گی اگر لاہور ہائیکورٹ نے ان کے خلاف فیصلہ دیا تو وہ فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گی.
24 دسمبر 2018 کو احتساب عدالت اسلام آباد نے نواز شریف کو العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ 29 اکتوبر 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے طبی بنیادوں پر سابق وزیراعظم کی 8 ہفتوں کے لیے سزا معطل کردی تھی۔ ہائیکورٹ کی جانب سے نوازشریف کی ضمانت منظوری اور سزا معطلی کا تحریری فیصلہ جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ نوازشریف کی ضمانت 8 ہفتوں کے لیے منظور اور سزا معطل کی جاتی ہے۔ فیصلے کے مطابق نوازشریف کی طبیعت خراب رہتی ہے تو وہ ضمانت میں توسیع کیلئے پنجاب حکومت سے رجوع کرسکتے ہیں، طبیعت خرابی پر نوازشریف 8 ہفتوں کی مدت ختم ہونے سے پہلے پنجاب حکومت سے رجوع کرسکتے ہیں۔ فیصلے میں حکم دیا گیا کہ پنجاب حکومت کے فیصلہ کیے جانے تک نوازشریف ضمانت پر رہیں گے، اگر نوازشریف پنجاب حکومت سے رجوع نہیں کرتے تو 8 ہفتے بعد ضمانت ختم ہوجائے گی۔ 16 نومبر 2019 کو لاہور ہائیکورٹ نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دیا تھا اور انہیں علاج کی غرض سے 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی جس کے بعد وہ 19 نومبر 2019 کو لندن روانہ ہوگئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button