جسٹس فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس سے متعلق ویڈیو کی وضاحت دیدی

عدالت اعظمیٰ کے سینئر جج جسٹس فائز عیسیٰ نے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے متعلق سوشل میڈیا پر وائرل ویڈٰیو کی وضاحت پیش کر دی ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس کی حلف برداری کی تقریب کے دوران شرعی عدالت کے چیف جسٹس کی اہلیہ کے پاس گیا اور ان کو مبارکباد دی، شرعی عدالت کے چیف جسٹس اقبال حمیدالرحمان سے ملنے سے قبل چیف جسٹس پاکستان کو ملا، میں چیف جسٹس شرعی عدالت کی تقریب حلف برداری میں چیف جسٹس پاکستان کو سلام کر چکا تھا۔
انہوں نے کہا کہ کسی نے ویڈیو بنا کر یہ غلط تاثر دیا کہ میں نے چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کو سلام نہیں کیا، میڈیا میں غلط تعبیرات سامنے آئیں، غلط خبریں نہ پھیلائی جائیں کیونکہ یہ غیرضروری غلط فہمیاں نقصان کا باعث بنتی ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ گٹھ جوڑکےذریعےگھڑی گئی جھوٹی کہانیوں سے ماضی قریب میں مجھےاور میرے خاندان کوپہنچی تکلیف کا بخوبی اندازہ ہے۔
ان کا کہنا تھا یہ بات بالکل غلط ہےکہ میں نے سپریم کورٹ میں ایک الگ گروپ بنایا ہے، قرآن پاک کی آیت ہے کہ خبر پھیلانے سے قبل اس کی صداقت کی تحقیق کر لیا کرو کہ کہیں تم لاعلمی میں کسی کو نقصان نا پہنچا بیٹھو،
انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے تحفظ اور دفاع کے لیے اپنے منصب کے حلف کا پابند ہوں، اپنے حلف کے خلاف کسی چیز کی تائید نہیں کر سکتا، حقائق مسخ کرکے ایک متنازع بیانیہ گھڑنا ادارے کے لیے نقصان دہ ہے۔
