جسٹس فائز عیسی اور جسٹس سیٹھ کپتان کے خلاف میدان میں


پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے وزیراعظم کی بیرون ممالک میں جائیدادوں کے حوالے سے تحقیقات کا مطالبہ کر دیا ہے۔ دوسری جانب پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے مشرف کیس میں اپنے خلاف نازیبا بیان بازی کے حوالے سے وزیراعظم اور ان کی ٹیم کے خلاف کارروائی کی کوششوں کا آغاز کر دیا ہے جس کے بعد کپتان مشکلات میں گھرا نظر آتا ہے۔
اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کا دفاع کرتے ہوئے جسٹس فائز عیسی اب خود سپریم کورٹ میں پیش ہوگئے ہیں اور انہوں نے سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست جمع کرائی ہے جس میں وزیر اعظم عمران خان کی مبینہ طور پر برطانیہ میں موجود جائیدادوں کی چھان بین کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس درخواست میں جسٹس عیسی کی جانب سے کہتان کے معاون خصوصی برائے احتساب و داخلہ بیرسٹر شہزاد اکبر اور لیگل ایکسپرٹ ضیا المطفی کیخلاف بینکنگ آرڈیننس اور متعلقہ قوانین کے مطابق کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ جسٹس عیسیٰ نے مطالبہ کیا ہے کہ شہزاد اکبراور ضیا المصطفی سے تمام مراعات واپس لی جائیں اور ایسٹ ریکوری یونٹ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ختم کرنے کا حکم دیا جائے۔ انہوں نے درخواست کو مرکزی کیس کا حصہ بنانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ درخواست میں جسٹس عیسی نے موقف اختیار کیا کہ میری اور میرے خاندان بارے معلومات شہزاد اکبر کے ایسٹ ریکوری یونٹ نے غیر قانونی طریقے سے اکٹھی کی ہیں اور جس سرچ انجن سے میرے خاندان کی پراپرٹیز چیک کی گئیں اس کے ریکارڈ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سمیت کئی حکومتی ارکان کی بیرون ممالک جائیدادیں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرچ انجن 192.com کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی یو کے میں اہنی 6 جائیدادیں ہیں, درخواست انکشاف کیا گیا کہ یو کے میں شہزاد اکبر کی پانچ, زلفی بخاری کی 7,عثمان ڈار کی تین اور ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی ایک جائیداد موجود ہے۔ علاوہ ازیں جہانگیر ترین کی ایک اور پرویز مشرف کی بھی 2 جائیدادیں موجود ہیں۔ جسٹس عیسی نے استدعا کی کہ میرے اور میرے خاندان کی جاسوسی کرتے ہوئے غیر قانونی طریقے سے معلومات جمع کی گئیں۔ ایسٹ ریکوری یونٹ اور اس کا چیئرمین دونوں غیر قانونی طریقے سے بنائے گئے۔ لہذا غیر قانونی طریقے سے سپریم کورٹ کے ایک موجوفہ جج کے خاندان کی جاسوسی کرنے پر شہزاد اکبر اور ان کے ایسٹ ریکوری یونٹ کو فوری طور پر غیر قانونی قرار دے کر ختم کر دیا جائے۔
دوسری جانب پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ نے بھی وزیر اعظم کے خلاف کارروائی کے لئے کوششیں تیز کردی ہیں۔اس سلسلے میں پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت اور وزیر اعظم کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست سماعت کیلئے منظور کرلی۔ پشاور ہائی کورٹ نے سابق آرمی چیف پرویز مشرف سنگین غداری کیس میں خصوصی عدالت کے جج اور پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف نازیبا الفاظ کا استعمال کرنے پر توہین عدالت کے نوٹسز بھی جاری کردیئے ہیں۔ عدالت نے وزیراعظم عمران خان، وزیر قانون، وزیر سائنس ٹیکنالوجی فواد چوہدری، سابق مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان اور پیمرا کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کردیئے۔عدالت نے خصوصی عدالت کے جج کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر 14 روز میں جواب طلب کیا۔ یاد رہے کہ جنرل مشرف کو آئین شکنی کے کیس میں دو دفعہ سزائے موت سنانے والے جج جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف تب کے آئی ایس پی آر ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ چونکہ ایک آرمی چیف غدار ہو ہی نہیں سکتا اس لئے جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف جنرل مشرف کو غداری کا مجرم قرار دینے پر سخت کاروائی کی جائے۔ چنانچہ اسی روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تب کے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم اور فردوس عاشق اعوان نے جسٹس وقار سیٹھ کو ذہنی طور پر ان فٹ قرار دیا تھا اور ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں نااہلی کا ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم بعد ازاں وکلاء برادری کی جانب سے حکومت کو ایسا ایکشن لینے پر سنگین نتائج کی دھمکی دی گئی تھی جس کے بعد یہ ریفرنس دائر نہیں ہو سکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button