جسٹس فائز عیسی نے چیف جسٹس گلزار پر جانبداری کا الزام لگا دیا

پاکستان میں آزاد عدلیہ کی علامت قرار دیے جانے والے جسٹس قاضی فائز عیسی نے عمران خان کے کیسز سننے سے روکنے کی پابندی کو غیر آئینی اور بدنام کرنے کا باعث قرار دیتے ہوئے چیف جسٹس گلزار احمد پر جانبداری دکھانے کا الزام عائد کر دیا ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے اختلافی نوٹ میں اراکین پارلیمنٹ کو وزیراعظم کی جانب سے فنڈز فراہم کئے جانے سے متعلق کیس میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلز ار احمد کی جانب سے ان پر وزیراعظم کے کیسز سننے پر پابندی لگانے کو نہ صرف غیر آئینی و غیرقانونی قرار دیا ہے بلکہ یہاں تک کہا ہے کہ چیف جسٹس نے ایسا کرکے میری شہرت کو داغدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے انھیں وزیر اعظم عمران خان سے متعلقہ مقدمات کی سماعت سے روکنے کا سپریم کورٹ کے فیصلے کو آئین اور قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمہ کے فیصلے سے چیف جسٹس کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انکا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کسی جج کو کوئی مقدمہ سسنے سے نہیں روک سکتی۔ یاد رہے کہ 11 فروری 2021 کے روز وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے سے متعلق کیس کے تفصیلی فیصلے میں چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ وزیراعظم سے متعلق کیسز کی سماعت نہ کریں کیونکہ انہوں نے عمران خان کے خلاف کیس دائر کررکھا ہے۔ چیف جسٹس گلزار کے تحریر کردہ 5 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ کا وزیراعظم سے متعلق کیس کی سماعت کرنا درست نہیں۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ غیر جانبداری کے اصول کو مد نظر رکھتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ وزیراعظم سے متعلق کوئی بھی مقدمہ نہ سنیں۔
تاہم 20 فروری کے روز وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اراکین اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز کے اجراء کے ازخو نوٹس کے تحریری فیصلے پر اختلافی نوٹ تحریر کرتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ آئین کسی جج کو دوسرے جج کے دل میں جھانک کر جانبداری کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں دیتا، مقدمہ کے فیصلے سے چیف جسٹس کی ساکھ پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو ذاتی طور نہیں جانتا تو جانبدار کیسے ہوسکتا ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جانبداری کا الزام عمران خان خود لگا سکتے تھے جو نہیں لگایا گیا جبکہ اٹارنی جنرل انکے ذاتی وکیل نہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے مزید کہا ہے کہ وزیراعظم کے صرف آئینی اقدامات کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔وزیراعظم کیخلاف مقدمہ نہ سننے کا مطلب ہے جج صرف پرائیویٹ کیسز سن سکتا، ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے بھی ترقیاتی فنڈز کے اعلان کا نوٹس نہیں لیا جبکہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر تمام ججز کے دستخط نہ ہونے پر مقدمہ ختم نہیں ہوا بلکہ زیرالتوا ہے۔ اگرچہ سپریم کورٹ میں پیش کردہ دستاویزات کی تصدیق نہ ہوتی تو بات وہیں ختم ہوسکتی تھی لیکن دستاویزات کی تصدیق نہیں کرائی گئی۔ اختلافی نوٹ کے آخر میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ دعا ہے عدلیہ آئین کی ہر خلاف ورزی اور اختیارات کے غلط استعمال کیخلاف اٹھ کھڑی ہو۔
خیال رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد اور جسٹس قاضی فائز عیسی کے درمیان اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آئے تھے جب فیصلے کے بعد جسٹس عیسی نے یہ انکشاف کیا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ترقیاتی فنڈز بانٹنے کے خلاف کیس میں جاری کردہ فیصلے پر ان سے دستخط ہی نہیں کروائے گئے اور انہیں اس کا میڈیا کے ذریعے پتہ چلا۔رجسٹرار سپریم کورٹ کو ایک خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے لکھا تھا کہ میں حیران ہوں مجھے ابھی تک اس آرڈر کی فائل موصول کیوں نہیں ہوئی اور اس فیصلے کی کاپی مجھے فراہم کرنے سے پہلے میڈیا تک کیوں اور کیسے پہنچا دی گئی۔ انہوں نے رجسٹرار کو یہ بھی پوچھا یے کہ سپریم کورٹ کا فیصلے میڈیا کو جاری کرنے کا حکم کس نے دیا اور مجھے فیصلے سے اتفاق یا اختلاف کا موقع کیوں فراہم نہیں کیا گیا۔ جستس فائز عیسی نے لکھا کہ چیف جسٹس کی جانب سے انہیں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف کسی بھی مقدمے کی سماعت سے روکنے کی رولنگ کی میڈیا کے ذریعے تشہیر کروائی گئی لیکن انہیں اس سارے معاملے سے لاعلم رکھا گیا جس پر وہ اپنے تحفظات ریکارڈ کروانے کے لیے خط لکھ رہے ہیں۔ رجسٹرار کے نام خط کی کاپی انہوں نے چیف جسٹس گلزار احمد سمیت عدالت عظمیٰ کے تمام معزز ججز کو بھجوائی تھی۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے خط میں لکھا تھا کہ میں سپریم کورٹ کے اس بینچ میں شامل تھا لیکن مروجہ عدالتی پریکٹس کے برعکس مجھے اس کیس کی فائل نہیں بھجوائی گئی اور چیف جسٹس گلزار کا فیصلہ میڈیا کو جاری کر دیا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ انہیں اس فیصلے سے اتفاق یا اختلاف کا حق کیوں نہیں دیا گیا۔
چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر وزیراعظم عمران خان کے خلاف کیس سننے پر پابندی لگانے کے فیصلے نے چیف جسٹس کی اپنی جانبداری پر بھی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور ان پر حکومت کی بے جا سائیڈ لینے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے تاہم اب جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے نے چیف جسٹس کی ساکھ کو متاثر کیا ہے جو مناسب نہیں۔
