قاضی فائز عیسیٰ نے شہزاد اکبر کو چارج شیٹ کر دیا

سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز اور ان کے فیملی ممبران کے اثاثوں بارے معلومات جمع کرنے والے وزیر اعظم کے معاون خصوصی شہزاد اکبر کی اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی بطور سربراہ تقرری، اختیارات، شہریت اور اثاثوں سے متعلق سوالات اٹھاتے ہوئے انہیں چارج شیٹ کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے خلاف دائر ہونے والے صدارتی ریفرنس میں سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں احتساب سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر کی تقرری، ان کی شہریت اور اثاثوں سے متعلق 15 سوالات اٹھائے ہیں۔ سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے جواب میں بلوچستان کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر کو جس محکمہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کا سربراہ بنایا گیا اس کا کیا معیارمقرر کیا گیا ہے؟ اُنھوں نے مزید کہا کہ کیا اس عہدے پر کسی شخص کی تقرری کے لیے کوئی اشتہار وغیرہ دیا گیا اور کیا درخواستیں موصول کی گئیں اور کیا یہ عہدہ پبلک سروس کمیشن کے طریقہ کار کی روشنی میں چنا گیا ہے؟اپنے جواب میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ شہزاد اکبر کو اثاثہ جات ریکوری یورنٹ کا سربراہ مقرر کرنے کے حوالے سے کیا شرائط اور ضوابط طے کیے گئے تھے؟
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے جواب میں مزید کہا ہے کہ مرزا شہزاد اکبر کے پاس غیرمعمولی اختیارات ہیں جو ان کو خودمختار قانونی اداروں جیسے کہ ایف بی آر، ایف آئی اے اور نادرا سے معلومات کے حصول میں مددگار ہیں۔انہوں نے شہزاد اکبر کے تقرر، ان کے اختیارات پر قانونی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ معاون خصوصی کا حکومت چلانے سے کوئی سروکار نہیں ہوتا اور سپریم کورٹ اس حوالے سے اپنے فیصلوں میں قرار دے چکی ہے کہ وزیراعظم کے معاون خصوصی کی پوسٹ آئینی نہیں اور ان کو وزیرمملکت کے برابر درجہ دینا صرف مراعات کے لیے ہے۔
جسٹس قاضی فائز نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس میں وزیر قانون فروغ نسیم، معاون خصوصی شہزاد اکبر اور سابق اٹارنی جنرل انور منصور کو ٹرائیکا قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ فریق بنانے گئے سرکاری حکام عوام اور سپریم کورٹ کو جوابدہ ہیں جن کو سچائی کا سامنا کرنے سے گھبرانا نہیں چاہیے اور اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینا چاہیے۔ جسٹس قاضی فائز نے اپنی متفرق درخواست میں کہا ہے کہ شہزاد اکبر اپنی سابقہ اور موجودہ سیاسی وابستگی کے بارے میں بتائیں اور یہ بھی بتائیں کہ کیا وہ سرکاری ملازم ہیں؟ سیاست دان ہیں؟ دونوں ہیں یا ان میں سے کچھ بھی نہیں؟ انہوں نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ سابق اٹارنی جنرل کے صدارتی ریفرنس پر سماعت کرنے والے لارجر بینچ پر الزامات کی وضاحت طلب کی جائے اور اس کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کے لیے کہا ہے۔
اپنے جواب میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے اثاثہ جات کی ریکوری کے سربراہ کی شہریت کے بارے میں بھی سوال اُٹھایا ہے اور کہا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ شہزاد اکبر کی شہریت کیا ہے اور کیا وہ پاکستانی ہیں یا غیر ملکی اور کیا وہ دوہری شہریت رکھتے ہیں؟
جسٹس قاضی فائز عیسی نے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی قانونی حثیت پرسوال اُٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ قوم کے ٹیکسز سے جو پیسہ اس ادارے پر خرچ ہو رہا ہے وہ کیسے قانونی ہوسکتا ہے؟ سپریم کورٹ کے جج نے یہ بھی سوال اُٹھایا ہے کہ اُن کے اور ان کے بیوی بچوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے جو پیسہ خرچ ہوا اس کی قانونی حثیت کیا ہے؟ سپریم کورٹ کے جج نے اپنے جواب میں احتساب سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر کے انکم ٹیکس ریٹرنز کے علاوہ ان کے بیوی بچوں کے ناموں اور ان کی شہریت کے بارے میں بھی سوالات اُٹھائے ہیں اور یہ بھی کہا ہے کہ شہزاد اکبر نے اپنے بیوی بچوں کے نام پاکستان یا بیرون ممالک جائیداوں کے بارے میں کیوں نہیں بتایا؟
اپنے جواب میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے وزیر قانون فروغ نسیم پر بھی سوال اُٹھایا ہے کہ کیسے اُنھوں نے اُن کے خلاف وکلا برادری کو تقسیم کرنے کے لیے عوام کے ٹیکسوں کی 17 ملین روپے سے زیادہ رقم خرچ کی۔ قاضی فائز عیسیٰ نے 20 صفحات کی درخواست کے اختتام پر لکھا ہے کہ سپریم کورٹ میں ریکارڈ کی درستگی کے لیے ان کے نکات کو کارروائی کا حصہ بنایا جائے۔
واضح رہے کہ اس جواب سے قبل بھی جسٹس قاضی فائز عیسی تین سے زائد جواب داخل کرواچکے ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسی اور سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس کے کے آغا کے خلاف صدارتی ریفرنس کے خلاف درخواستوں کی سماعت دو جون کو دوبارہ شروع ہوگی اور جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا دس رکنی بینچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گا۔درخواستوں کی آخری سماعت فروری کے مہینے میں ہوئی تھی۔ موجودہ اٹارنی جنرل خالد جاوید نے ان درخواستوں میں وفاق کی نمائندگی کرنے سے معذوری ظاہر کی تھی جس کے بعد ایڈشنل اٹارنی جنرل آئندہ سماعت پر دلائل دیں گے۔ ایڈیّشنل اٹارنی جنرل کے دلائل کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل منیر اے ملک جواب الجواب دلائل دیں گے۔
یاد رہے کہ سابق اٹارنی جنرل انور منصور، وزیر قانون بیرسٹر فروع نسیم اور احتساب سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر شہزاد اکبر کا سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے ساتھ بلواسطہ یا بلا واسطہ تعلق رہا ہے۔ سابق اٹارنی جنرل اور موجودہ وزیر قانون سابق فوجی صدر کے خلاف آئین شکنی اور سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں مجرم کے وکیل رہے ہیں جبکہ شہزاد اکبر سابق فوجی صدر کے دور میں قومی احتساب بیورو میں تعینات ہوئے تھے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button