جسٹس مظاہر نقوی نے اپنی کرپشن کا اعتراف کیسے کیا؟

سپریم کورٹ کے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے خود پر عائد کردہ مالی کرپشن، بددیانتی، اختیارات کے ناجائز استعمال سمیت مختلف الزاماتپر  سپریم جوڈیشل کونسل کے شوکاز نوٹس کا جواب دینے کے بجائے کونسل کی تشکیل پر ہی اعتراض اٹھا دیا ہے۔ اور آزاد عدلیہ کی علامت قرار دئیے جانے والے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت قانون پسند 3 ججز کے کونسل سے الگ ہونے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ تاہم دوسری جانب آئینی و قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے اپنے اوپر الزامات رد کرنے سے زیادہ توانائی عدالتی آزادی، انصاف اور نظام کے ساتھ ساتھ غیر جانبداری پر سوالات اٹھانے پر صرف کی ہے اگر تھوڑی سی توجہ وہ اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات اور ثبوتوں پر دیتے تو لازمی طور پر وہ اپنی بچی کھچی عزت سنبھالتے ہوئے مستعفی ہونے کو ترجیح دیتے۔

روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کے ان الزامات، خدشات اور اعتراضات کے جواب میں ریفرنسز دائر کرنے والے قانون دان میاں دائود کا کہنا ہے کہ ’’میں نے آمدنی سے زائد اثاثوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور کرپشن پر جو ریفرنس دائر کیا ہے اس پر جسٹس نقوی کے اعتراضات درحقیقت اعتراف جرم ہیں اور انہوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ ان کے پاس اس کرپشن، جس کے ثبوت بھی فراہم کیے گئے ہیں، کا کوئی جواب نہیں۔‘‘ایک سوال کے جواب میں میاں دائود ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’’جسٹس مظاہر نقوی صاف صاف بتائیں کہ لاہور چھائونی اور گلبرگ کی جائیدادوں کے لیے ناجائز پیسہ کہاں سے آیا۔ اگر جسٹس نقوی نے چوری نہیں کی تو رسیدیں دکھانے میں کیا حرج ہے۔ پراپرٹی ڈیلر نے جسٹس نقوی کی صاحبزادی کے بینک اکائونٹ میں دس ہزار برطانوی پائونڈ کیوں بھجوائے؟

میاں داؤد ایڈووکیٹ کا مزید کہنا تھا کہ درحقیقت جسٹس نقوی کی ناجائز دولت میں زیادہ اضافہ جنرل پرویز مشرف کی سزائے موت ختم کرنے کے بعد ہوا۔ یہ سزا ختم کرنے کے عوض انہیں اور ان کے خاندان کو نوازا گیا۔ جسٹس نقوی اخلاقی ہمت دکھائیں اور اپنے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کی کھلی عدالت میں سماعت کی استدعا کریں، کھلی عدالت میں کارروائی ہونے سے عوام کو سچ اور جھوٹ کا پتہ چل جائے گا۔ جبکہ وہ ریکارڈ کی عدم فراہمی کے بارے میں درست نہیں کہہ رہے کیونکہ شکایات یعنی ریفرنسز کے ساتھ تمام مصدقہ ثبوت منسلک کیے گئے ہیں۔جسٹس نقوی الزامات کا سامنا کرنے اور جواب دینے کے بجائے جج جیسے اہم ترین منصب کے برعکس ایک پیشہ ور ملزم کے انداز میں سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی میں تاخیری حربے استعمال کررہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں میاں دائود ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’’آئین کا آرٹیکل دو سو نو اور رولز سپریم جوڈیشل کونسل کو شکایات کے ساتھ منسلک ثبوتوں کو کسی بھی ادارے سے تصدیق کروانے کا اختیار دیتا ہے۔ چنانچہ سپریم جوڈیشل کونسل تاخیری حربوں سے اثر لینے کے بجائے متعلقہ ادارے سے ریکارڈ کی تصدیق کروالے۔

دوسری جانب ریفرنسز کی سماعت کرنے والے سپریم جوڈیشل کونسل کے ارکان چیف جسٹس مسٹر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ، مسٹر جسٹس سردار طارق مسعود احمد بلوچستان کے ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس نعیم اختر افغانی پر اعتراض کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سابق جج اور بار کونسل کے سابق وائس چیئرمین محمد رمضان چودھری نے کہا کہ ’’کسی بھی بینچ میں شامل جج صاحبان پر یا کسی ایک جج پر اعتراض کیا جانا کوئی نئی بات نہیں۔ ایسے اعتراضات ہوتے رہتے ہیں۔جہاں تک جسٹس سید مظاہر علی نقوی کا چیف جسٹس سمیت تین معزز جج صاحبان پر ان کے خلاف ریفرنسز پراعتراض ہے تو اس سے ریفرنسز کے الزامات اور کارروائی پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ ایسے اعتراض تسلیم کر کے بینچ سے الگ ہو جانا یا پھر اپنے فرائض جاری رکھنے کا فیصلہ کرنا کلی طور پر ان جج صاحبان کی اپنی صوابدید ہے۔ اعتراض کی صورت میں جج کا کارروائی سے الگ کر لینا کوئی قانونی پابندی نہیں ایسے مواقع جسٹس مظاہر علی نقوی کی بطور جج فرائض کی انجام دہی کے دوران بھی آتے ہوں گے۔ لہٰذا ریفرنس کی شکایات کا فیصلہ سپریم جوڈیشل کونسل نے الزامات کو ثابت کرنے کے لیے فراہم کیے گئے ثبوتوں کی روشنی میں ہی کرنا ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے ٹرک والے جج جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی پر اثاثوں اور بددیانتی جیسے الزامات کے تحت لاہور کے قانون دان میاں دائود احمد اور پاکستان بار کونسل اور سندھ بار کونسل سمیت وکلا کے منتخب اداروں کی طرف سے ریفرنسز دائر کیے گئے تھے۔ لیکن اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے انہیں التو میں رکھا تھا۔ جبکہ  جسٹس قاضی فائز عیسیٰ موجودہ چیف جسٹس اورجسٹس سردار طارق مسعود نے اس وقت کے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کو ان ریفرنسز پر آئینی و قانونی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے تحریری طور پر باور بھی کروایا تھا۔ مگر اس پر کوئی پیش رفت نہیں کی گئی تھی۔اب جبکہ سپریم جوڈیشنل کونسل ان ریفرنسز پر ابتدائی کارروائی شروع کر چکی ہے اور کونسل کی طرف سے جاری ہونے والے شوکاز نوٹس پر مدعا علیہ جج جسٹس مظاہر علی نقوی نے اپنے بیان میں اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کو تحریری شواہد کے ساتھ رد کرنے کے بجائے بعض اعتراضات اٹھا دئیے ہیں جن میں سے سب سے بنیادی اعتراض چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور مسٹر جسٹس سردار طارق مسعود پر اٹھایا گیا ہے تاکہ وہ ان کے خلاف سپریم جوڈیشل کی کونسل کی کارروائی سے خود کو الگ کر لیں۔اس ضمن میں ان کی طرف سے سابق چیف جسٹس کو لکھے جانے والے مراسلے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے اور اپنے لیے ان دونوں جج صاحبان کے دل میں مخاصمت کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ ان پر عائد کردہ الزامات کی اب تک تحقیق نہ ہونے پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ انہوں نے ابھی اپنا جواب داخل کرنا ہے۔ جبکہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کی منظوری بھی درست نہیں۔

Back to top button