عمران خان کو رہائی کے لئے نواز شریف کی نقل کرنا ہو گی؟

سینئر صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ نے کہا ھے کہ سابق وزرائے اعظم نواز شریف اور عمران خان دونوں کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں اقتدار سے باہر کیا گیا ۔ نواز شریف نے مقتدرہ کے خلاف جارحانہ بیانیہ ضرور اپنایا لیکن مذاکرات کے دروازے بند نہ کئے جنرل باجوہ کی توسیع کا معاملہ آیا تو اپنے بیانیے کے مخالف جاکر انہیں توسیع دیدی ، عمران خان یہ لچک نہ دکھا سکے، وہ مقتدرہ سے ناراض ہوئے تو آگے ہی بڑھتے گے تا آنکہ 9 مئی ہوگیا۔ سیاست میں لچک ضروری ہے عمران خان نے مشکلیں آسان کرنی ہیں تو مذاکرات کا دروازہ کھولیں۔ اپنے ایک کالم میں سہیل وڑائچ لکھتے ہیں کہ مستقبل کی جمہوری بنیاد کو مضبوط کرنا ہے تو ماضی کے پوشیدہ جھروکوں کا بھی جائزہ لینا ہوگا ۔دیکھنا ہو گا کہ نواز شریف اور عمران خان کیوں اور کیسے نکالے گئے ،ان دونوں کے نکالے جانے میں کتنی مماثلت ہے اور کتنا فرق ؟میاں نواز شریف اقتدار سے نکلے تو کہتے رہے مجھے کیوں نکالا ؟ عمران حکومت سے رخصت ہوئے تو جنرل باجوہ کو مورد ِالزام ٹھہراتے رہے۔ دونوں کے نکالنے میں ایک قدر ِمشترک تو بہرحال ہے کہ دونوں کی رخصتی جنرل باجوہ کے دور میں ہوئی نواز شریف کو نکالنے کیلئے عدلیہ کا کندھا استعمال ہوا اور عمران خان کو انکے مخالفوں نے اکٹھے ہو کر عدم اعتماد کے ذریعے رخصت کیا۔ نواز شریف کو نکالنے کے حوالے سے بہت سے معاملات ابھی پسِ پردہ ہیں۔اصل میں نواز شریف کے معاملات جنرل راحیل شریف سے ہی خراب ہو گئے تھے حالانکہ جنرل راحیل شریف کا تقرر بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا تھا۔ جنرل راحیل شریف نے آرمی چیف بنتے ہوئے جن چار یا پانچ سینئر جرنیلوں کو اپنا مشیر بنایا وہ سارے نواز شریف کے خلاف تھے اور یہی مشیر ہر روز جنرل راحیل شریف کو بھڑکاتے تھے
سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ خلیجی ملک کے سربراہ نے جب جنرل راحیل شریف کو 60 کروڑ ڈالر کا جہاز تحفے میں پیش کرنے کا وعدہ کیا تو نواز شریف نے جنرل راحیل شریف کو منع کیا کہ آپ یہ جہاز نہ لیں مگر راحیل شریف نے یہ بات نہ مانی وزیراعظم نے اپنے سیکرٹری سے اس حوالے سے باقاعدہ خط لکھوایا مگر جنرل راحیل شریف نے یہ جہاز منگوا لیا۔ دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ سعودی عرب کے دورے کے دوران جب نواز شریف کی شاہ سلیمان سے ملاقات ہوئی تو اچانک انہیں بتایا گیا کہ جنرل راحیل شریف مجوزہ اسلامی فوج کے سربراہ ہونگے۔ وزیر اعظم کو بہت صدمہ ہوا کہ انہیں تو علم تک نہیں تھا، انہیں اندھیرے میں رکھ کر بالا ہی بالا یہ فیصلہ کر دیا گیا ۔صورتحال کچھ ایسی تھی کہ نواز شریف کو فوراً ہاں کرنا پڑ گئی نہ انہیں سوچنے کا وقت ملا اور نہ مشورے کا۔تیسرا واقعہ یہ ہوا کہ سعودی وزیر دفاع سے پاکستانی وفد کی ملاقات طے تھی وزیراعظم اور وزیر دفاع خواجہ آصف کو بتائے بغیر بلکہ ان سے چھپا کر جنرل راحیل شریف کو وفد کا سربراہ بنا دیا گیا۔ وزیر اعظم کو پتہ چلا تو انہوں نے خواجہ آصف کو کہا کہ نہیں آپ وفد کی سربراہی کریں گے اور پھر ایسا ہی ہوا۔ آخری تنازع جنرل راحیل شریف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا تھا جنرل راحیل نے کئی پیغام رساں بھیجے مگر نواز شریف توسیع پر نہ مانے حالانکہ انہیں یہ بھی پیام دیا گیا کہ اگر آپ نے توسیع دے دی تو پانامہ کا معاملہ حل ہوجائے گا۔نواز شریف توسیع پر نہ مانے اور جنرل باجوہ کو لے آئے ۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جنرل باجوہ شروع میں نواز شریف کے حامی تھے جنرل راحیل شریف اور انکے مشیروں کے خلاف تھے دھرنے میں ان کی حمایت پر باقاعدہ کھلے عام بول چکے تھے، یہ بھی کہتے تھے کہ جنرل راحیل شریف نے جہاز لیکر غلط کیا تھا۔ جنرل باجوہ پانامہ کے معاملے میں یہ کہہ چکے تھے کہ میں اس میں نہیں آئوں گا دوسرا وہ چاہتے تھے کہ ڈان لیکس کے ذمہ داروں کو حکومت سے نکالا جائے جنرل باجوہ سے معاملات کی خرابی ڈان لیکس پر ہوئی، کہا جاتا ہے کہ اسحاق ڈار نے جنرل باجوہ سے مشورہ کرکے فواد حسن فواد کو کہا کہ خط جاری کردیں، خط جاری ہوا تو باجوہ نے ٹویٹ بھی کروا دی اور ناراض بھی ہوگئے بعد میں معاملات کو درست کرنے کی کوشش بھی کی گئی مگر پھر یہ سنبھل نہ سکے اور اداروں اور عدلیہ کے باہمی اشتراک سے نواز شریف کو نااہل قرار دے دیا گیا۔
عمران خان کو جنرل باجوہ اور اسٹیبلشمنٹ کے باقی ساتھی بڑے شوق سے اقتدار میں لائے، نواز شریف کی رخصتی کے بعد ہی سے سارا وزن خان کے پلڑے میں ڈال دیا گیا۔ 2018ء کے الیکشن میں مقتدرہ نے پورا زور لگا کر نون کو ہروایا اور تحریک انصاف کو جتوایا۔ عمران اقتدار میں آگئے تو جنرل باجوہ شروع میں انکے بہت حامی رہے میڈیا میں وزیراعظم پر تنقید کرنے والوں کو وارننگ دی جاتی تھی مگر پھر حالات تبدیل ہونے لگے جنرل عاصم منیر کو آئی ایس آئی سے ہٹایا گیا تو یہ فوج کے حوالے سے عمران خان کا پہلا بڑا فیصلہ تھا اس پر عملدرآمد تو ہوگیا مگر ایک حلقے میں تلخی پھیل گئی۔
سہیل وڑائچ بتاتے ہیں کہ جنرل باجوہ اور انکے ساتھی جہاں عثمان بزدار اور محمود خان کی گورننس سے نالاں تھے وہاں گوگی اور پنکی پیرنی کی منفی اطلاعات بھی ان تک پہنچتی تھیں۔ جنرل باجوہ نے عمران خان پر سب سے پہلی تنقید اپنے اندرونی حلقے میں شروع کی، ایک نقطہ تو یہ تھا کہ یہ احتساب اور اپنی تعریفوں کے علاوہ کوئی اور بات نہیں سنتے جنرل باجوہ چاہتے تھے کہ اپوزیشن سے بھی کوئی معاملہ طے ہونا چاہئے۔ انکی تنقید کا دوسرا نقطہ یہ تھا کہ معیشت زبوں حالی کا شکار ہو رہی ہے عمران کی حکومت کے آخری چھ ماہ میں جنرل باجوہ نے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ ان کو لاکر بہت بڑی غلطی ہوگئی اب اس کا مداوا کرنا پڑے گا۔ جنرل باجوہ کا اس دوران ملک محمد احمد خان کے ذریعے شہباز شریف سے مسلسل نامہ و پیام بھی جاری تھا تاہم جنرل باجوہ ، عمران کو ہٹانے کے بارے میں آخر تک گو مگو کی کیفیت میں رہے ۔بلاول بھٹو بتا چکے ہیں کہ عدم اعتماد کے آخری دنوں میں جنرل باجوہ نے پیغام دیا تھا کہ عدم اعتماد واپس لے لیں لیکن پی ڈی ایم نے ان کا مشورہ نہیں مانا ۔ عمران خان سے مقتدرہ کے فیصلہ سازوں کی اصل لڑائی جنرل فیض حمید کو ہٹانے پر مزاحمت سے ہوئی، کہا جاتا ہے کہ جنرل باجوہ نے یہ ٹرانسفر کا آرڈر وزیراعظم سے مشورے کے بعد کیا تھا مگر اسکے باوجود جب آئی ایس پی آر نے ٹرانسفر کا اعلان بھی کردیا تو اس پر عمل نہ کیا گیا یوں شکر رنجیوں میں اضافہ ہوا۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اسد عمر، پرویز خٹک اور چودھری فواد چاہتے تھے کہ کسی بھی صورت جنرل باجوہ اور مقتدرہ کو ناراض نہ کیا جائے چنانچہ وہ عمران خان پر زور ڈال کر جنرل ندیم انجم کو آئی ایس آئی کا سربراہ بنوانے میں تو کامیاب ہوگئے لیکن اس دوران جو تلخی پیدا ہو چکی تھی وہ کبھی ٹھیک نہ ہو سکی۔دونوں وزرائے اعظم اقتدار سے نکلے تو دونوں نے ہی مقتدرہ مخالف بیانیہ اپنایا، نواز شریف نے’ ووٹ کو عزت دو ‘کی بات کی، جنرل باجوہ اور جنرل فیض کو اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا۔دوسری طرف عمران خان نے مقتدرہ مخالف بیانیے کےساتھ ساتھ اپنے سیاسی مخالفوں کو معاف نہ کرنے کا موقف جاری رکھا۔ نواز شریف نے مقتدرہ کے خلاف جارحانہ بیانیہ ضرور اپنایا لیکن مذاکرات کے دروازے بند نہ کئے جنرل باجوہ کی توسیع کا معاملہ آیا تو اپنے بیانیے کے مخالف جاکر انہیں توسیع دیدی مگر عمران خان ایسی لچک نہ دکھا سکے۔

Back to top button