جسٹس وقار سیٹھ کی سپریم کورٹ ترقی میں رکاوٹ کون؟


آئین شکنی پر جنرل مشرف کو 3 مرتبہ سزائے موت سنانے والے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے خود کو بطور سپریم جج ترقی نہ دیے جانے کیخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے تین ججز کی عدالت عظمیٰ میں تقرری چیلنج کردی ہے۔ وقار احمد سیٹھ نے پٹیشن میں استدلال پیش کیا کہ ان تین ججز کی تقرریاں سینارٹی کے اصول کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔ یاد رہے کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ اس وقت ہائی کورٹ کے سینئر ترین جج ہیں اورسابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد سے اب تک سپریم کورٹ میں ہونے والی تینوں تقرریوں کے وقت ان کو نظر انداز کیا گیا ہے اور سینیارٹی کے اصول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے تین جونیئر ججز کو عدالت عظمی میں ترقی دی گئی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ کے سابق ججز جسٹس قاضی محمد امین، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس سید مظہر علی اکبر نقوی کی سپریم کورٹ میں تقرری کو چیلنج کرنے کی درخواست چیف جسٹس وقار سیٹھ کی جانب سے سینئر وکیل حامد خان کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔
خیال کیا جا رہا ہے کہ جسٹس وقار سیٹھ کو اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ پر سپریم کورٹ میں نہیں بھیجا جارہا۔ یاد رہے کہ جنرل مشرف کو آئین شکنی کے جرم پر تین مرتبہ سزائے موت سنائے جانے کے بعد پاک فوج کے تب کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ جسٹس سیٹھ کے خلاف کارروائی کی جائے کیونکہ کسی سابقہ آرمی چیف کو غدار قرار دیا ہی نہیں جاسکتا۔
تب کے وزیر قانون فروغ نسیم نے ایک پریس کانفرنس میں یہ اعلان کیا تھا کہ ایک سابق آرمی چیف کو سزائے موت کا فیصلہ سنانا دراصل پاک فوج کی توہین ہے اس لیے حکومت نے جسٹس سیٹھ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ وہ ذہنی طور پر فٹ نہیں ہیں۔ تاہم حکومت کے اس اعلان کے خلاف پاکستان بار کونسل نے ڈٹ جانے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد حکومت بیک فٹ پر چلی گئی لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کو بطور چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ ہی ریٹائر کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اسی لیے انہیں سپریم کورٹ میں ترقی نہیں دی جا رہی۔
تاہم دوسری طرف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے تین دفعہ موقع بننے کے باوجود خود کو سپریم کورٹ نہ بھیجنے کے فیصلے کو عدالت عظمٰی میں چیلنج کر دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ کے تین ججز کے علاوہ اپنی درخواست میں انہوں نے فیڈریشن، جوڈیشل کمیشن آف پاکستان اور ججز تقرری کی پارلیمانی کمیٹی کو بطور فریق نامزد کیا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 184 (3) کے تحت دائر درخواست میں حامد خان ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ وقار احمد سیٹھ کا 2 اگست 2011 کو پشاور ہائی کورٹ میں بطور ایڈیشنل جج کی حیثیت سے تقرر کیا گیا اور بعد ازاں 28 جون 2018 کو انہوں نے اعلیٰ عدالت کے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف لیا۔ درخواست میں آئین کی متعلقہ دفعات اور قائم شدہ آئینی کنونشن کے علاوہ 1996 میں الجہاد ٹرسٹ اور 1998 میں ملک اسد علی کے مقدمات کا حوالہ دیا گیا ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا کہ ’درخواست گزار کی سینارٹی اور قابلیت کی بنیاد پر انہیں سپریم کورٹ کے جج کے طور پر تقرر کیا جائے‘۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ’چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کو سنے بغیر تین مرتبہ نظرانداز کیا گیا‘۔ پٹیشن میں انہوں نے مزید کہا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ سے ججوں کی تقرری سنیارٹی کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا کہ جسٹس قاضی محمد امین، جسٹس امین الدین خان اور جسٹس سید مظہر علی اکبر نقوی کو عدالت عظمیٰ کا جج مقرر کرتے ہوئے ہائی کورٹس کے چیف جسٹس کے سینٹارٹی کو نظر انداز کردیا گیا۔ پٹیشن میں کہا گیا کہ اس ’ناانصافی‘ کے خلاف 18 مارچ 2020 کو جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کو بھی درخواست پیش کی گئی لیکن اس شکایت پر ابھی تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔
اپنی پٹیشن میں جسٹس وقار احمد سیٹھ نے مزید کہا ہے کہ ’سندھ بار کونسل نے مئی میں چیف جسٹس آف پاکستان کو ایک خط کے ذریعے حالیہ تقرریوں پر قانونی برادری کے تحفظات بھی بتائے تھے کہ ’کسی بھی مناسب وجہ یا جواز کے سبب درخواست گزار کو 3 مرتبہ نظر انداز کیا گیا‘۔
درخواست میں کہا گیا کہ آئین کے آرٹیکل 175 اے کو متعارف کرانے کے بعد عدالت عظمیٰ میں ججوں کی زیادہ تر تقرریوں کے لیے (سوائے تین لاہور ہائی کورٹ کے جونیئر ججوں کے) اعلیٰ عدالتوں کے چیف جسٹس کو منتخب کیا گیا ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا کہ ’عدلیہ کی آزادی ججوں کی تقرری کے ساتھ منسلک ہے‘۔ چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ نے اپنی پٹیشن میں عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ وہ تینوں ججوں کی تقرری کے نوٹی فکیشن کو مسترد کرے اور ’ خالی آسامیوں پر تقرری اعلیٰ عدالتوں کے چیف جسٹس کی سنیارٹی کی بنیاد پر جائے‘۔ پٹیشن کی سماعت کے لیے ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا۔
تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان اس آئینی درخواست پر کیا فیصلہ کرتے ہیں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button