عمران خان غیر مقبول ہو گئے، فوج نے انتظامی امور سنبھال لیے

معروف امریکی ادارے بلومبرگ نیوز نے ایک تحقیقاتی رپورٹ میں قرار دیا ہے کہ کرونا وبا سے نمٹنے میں ناکامی کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی مقبولیت کم اورحکومتی امور پر گرفت انتہائی کمزور ہو گئی ہے جس کے بعد گورننس میں فوج کے مخفی اور براہِ راست کردار میں پہلے سے کہیں زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کلیدی حکومتی عہدوں پر بڑی تعداد میں ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی افسران کو تعینات کر کے حکومت پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کی جو تھوڑی سی گنجائش سویلین اداروں کے پاس ہوتی ہے، اسے بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملکی معاملات میں فوج کی بڑھتی ہوئی مداخلت اب جمہوریت کے لئے ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے خصوصاً جب وزیراعظم کے قریبی ساتھیوں پر کرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں۔
اگرچہ کچھ سرکاری مشیران فوج کے اس کردار کی کھلم کھلا حمایت بھی کرتے ہیں تاہم عمران خان نے ہمیشہ سے فوج کے بہت قریب ہونے کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ بلوم برگ کے رپورٹ کے مطابق 2017 میں انتخابات سے قبل ہی عمران خان نے فوج کی کٹھ پتلی ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ایک گھٹیا الزام قرار دیا تھا۔ گذشتہ برس انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ فوج میرے ساتھ کھڑی ہے۔ تاہم کرونا کی عالمی وبا کے دوران معاشی ابتری ایک بار پھر عمران خان اور فوج کے ورکنگ ریلیشن شپ میں مسائل پیدا کر رہی ہے۔ الزام لگایا جا رہا ہے کہ عمران خان کرونا کی معاملے پر کنفیوژن کا شکار ہیں جبکہ فوج کے لئے کٹ سوچ کے ساتھ چل رہی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستان ایشیا میں بھارت کے بعد کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے جہاں اب تک 1 لاکھ 17 ہزار سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں جب کہ اموات کی تعداد 2300 سے تجاوز کر چکی ہے۔
دوسری طرف 68 سال میں پہلی مرتبہ پاکستانی معیشت گذشتہ برس کے مقابلے میں سکڑ رہی ہے۔ مرکزی بینک کے تخمینے کے مطابق معیشت گذشتہ ایک برس میں ملکی معیشت 1.5 فیصد سکڑ چکی ہے۔ پاکستان کو آئی ایم ایف کی جانب سے 1.4 ارب ڈالر کی امداد بھی ملی ہے اور حکومت قرضوں کی ادائیگیوں میں چھوٹ کی درخواست بھی کر رہی ہے۔
بلوم برگ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق فوج کے ملک میں بڑھتے ہوئے انتظامی کردار پر سوالات اس وقت اٹھنا شروع ہوئے جب مارچ کے مہینے میں وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی آنا شروع ہوئی۔ وزیر اعظم عمران خان نے تو قوم سے خطاب کر کے عوام کو پرسکون رہنے کی تلقین کی لیکن فوج کے ترجمان نے اگلے ہی دن ٹی وی پر آ کر لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا۔ ملک میں کرونا وائرس کے خلاف جنگ کی قیادت کرنے والے ادارے کی سربراہی اسوقت منصوبہ بندی کے وزیر اسد عمر کے پاس ہے لیکن اس کے ہونے والے ہر اجلاس کا اعلامیہ آئی ایس پی آر سے جاری ہوتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ عمران خان کی طاقت اور اہمیت آنے والے دنوں میں مزید کم ہوتی جائے گی کیونکہ معیشت کی بگڑتی صورتحال عمران خان پر دباؤ کو مزید بڑھائے گی۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فوج نے عمران خان حکومت کے کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے کنفیوذڈ طریقہ کار کو زیادہ پسند نہیں کیا ہے۔ ایسے اشارے بھی مل رہے ہیں کہ چین پاکستان معاشی راہداری کو چلانے کے معاملے پر بھی فوج حکومت سے ناخوش ہے، اور ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں گورننس پر بھی فوج کے خیال میں حکومتی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت ایک درجن سے زائد ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی افسران کلیدی حکومتی عہدوں پر تعینات ہیں۔ ان عہدوں پر رہتے ہوئے وہ ملک کی قومی فضائی سروس، واپڈا، اور قومی ادارہ برائے صحت سمیت کئی ادارے چلا رہے ہیں۔ قومی ادارہ برائے صحت وہ ادارہ ہے جو ملک کی کرونا کے خلاف جنگ کی قیادت کر رہا ہے۔ اسی دوران ملک میں کلیدی عہدوں پر فوجی تعیناتیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
یاد رہے کہ فوج نے گذشتہ برس ہی سے پالیسی سازی میں زیادہ فعال کردار ادا کرنا شروع کر دیا تھا، اور اب اسکا کردار صرف خارجہ اور دفاعی پالیسیاں شامل نہیں۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے معیشت کو سدھارنے کے لئے ملک کے اعلیٰ ترین کاروباری لیڈرز سے ذاتی طور پر ملاقات کی تھی۔ جنوری میں ملک کی پارلیمنٹ نے ایک قانون پاس کیا جس کے تحت جنرل باجوہ کو نومبر 2019 سے شروع ہونے والی تین سالہ توسیع بھی مل گئی اور وہ حکومت کی بنائی گئی معاشی کمیٹی کے ایک رکن بھی ہیں۔
اس ضمن میں جنوبی ایشیا کی سیاسی حرکیات کے ماہر مائیکل کگلمین کہتے ہیں کہ دنیا میں کئی جمہوریتیں ریٹائرڈ فوجی افسران کو اہم حکومتی عہدوں پر تعینات کرتی ہیں لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب فیصلہ سازی سویلینز کے ہاتھوں سے نکل کر فوج کے پاس چلی جائے۔
پاکستان کے انتظامی امور میں فوج کی مداخلت میں اضافہ ایک ایسے وقت میں دیکھنے میں آ رہا ہے جب وزیر اعظم عمران خان کا نہ صرف اثر و رسوخ کم ہو رہا ہے بلکہ ان کی مقبولیت میں بھی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کی وجوہات میں معیشت کی زبوں حالی، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور وزیر اعظم کے قریبی ساتھیوں کے خلاف کرپشن الزامات کی تحقیقات ہیں۔ مبصرین کا ہمیشہ سے ماننا ہے کہ عمران خان کی سیاسی جماعت کے لئے فوج کی حمایت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ تحریک انصاف کے پاس پارلیمنٹ میں 46 فیصد نشستیں ہیں اور حکومت کو برقرار رکھنے کے لئے اس کو بہت سی چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی حمایت درکار ہے۔ دیکھا جائے تو یہ کچھ ایسا نیا بھی نہیں ہے۔ فوج پاکستان کا طاقتور ترین ادارہ ہے اور اس نے گذشتہ سات دہائیوں میں بہت لمبا عرصہ براہِ راست ملک پر حکومت کی ہے لیکن یہ صورتحال قطعاً اس نئے پاکستان کے خواب سے میل نہیں کھاتی جس کا وعدہ عمران خان نے 2018 میں انتخابی کامیابی سے قبل کیا تھا۔
اٹلانٹک کونسل سے تعلق رکھنے والے ایک محقق عزیر یونس کے مطابق کلیدی حکومتی عہدوں پر ریٹائرڈ اور حاضر سروس فوجی افسران کو تعینات کر کے حکومت پالیسی سازی اور اس پر عمل درآمد کی جو تھوڑی سی گنجائش سویلین اداروں کے پاس ہوتی ہے، اسے بھی وہ خود ختم کر رہی ہے۔ دوسری جانب گورننس میں فوج کا مخفی اور براہِ راست کردار بڑھتا جا رہا ہے۔ بہت سے مبصرین ٹی وی سکرینوں پر فوجی افسران کو کرونا وائرس سے متعلق صورتحال سے نمٹنے کے لئے ریاستی اداروں کی رہنمائی کرتا دیکھ رہے ہیں۔ ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ اب عمران خان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات ہیں جن کی ذمہ داریوں میں چین کی 60 ارب ڈالر مالیت کی سرمایہ کاری سے بننے والا سی پیک منصوبہ بھی ہے جس کی اتھارٹی کے وہ سربراہ ہیں۔ کابینہ میں کم از کم 12 ایسا اراکین ہیں جو سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کی انتظامیہ میں بھی فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔ ان میں وزیرِ داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ، فروغ نسیم، مخدوم خسرو بختیار، طارق بشیر چیمہ، غلام سرور خان، شیخ رشید، ملک امین اسلم، زبیدہ جلال، عبدالرزاق داود اور مشیرِ خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ بھی شامل ہیں۔
مائیکل کگلمین کے خیال میں فوج کی بڑھتی ہوئی مداخلت ملک میں جمہوریت کے لئے بڑا خطرہ بن چکی ہے کیونکہ جب انتظامی امور دیکھنے والے جرنیل سیاسی باسز کی بجائے اپنے ادارے کے ریٹائرڈ سربراہان کے مطابق چلتے ہیں تو جمہوریت کہیں پیچھے رہ جاتی ہے۔
