جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف بولنے والے وزیر برے پھنس گئے


پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنانے پر توہین آمیز بیانات جاری کرنے والے وفاقی وزراء اور معاونین خصوصی کو پیشی کا حکم جاری ہونے کے بعد بیرسٹر فروغ نسیم، فواد چوہدری، فردوس عاشق اعوان اور مرزا شہزاد اکبر مشکلات میں گھرے نظر آتے ہیں کیونکہ اگر انہیں توہین عدالت پر سزا سنا دی گئی تو یہ سب نااہل ہو جائیں گے۔
پشاور ہائی کورٹ نے 17 دسمبر 2019 کو سنائے گئے پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے تاریخی فیصلے سے متعلق مبینہ توہین آمیز بیانات پر وفاقی وزراء اور معاونین خصوصی کو توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ پرویز مشرف سنگین غداری کیس فیصلے کے بعد وفاقی وزراء کی جانب سے خصوصی عدالت کے سربراہ جج کے خلاف پریس کانفرنس کا معاملے پر توہین عدالت کیس کی سماعت پشاور ہائیکورٹ میں جسٹس روح الامین اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس روح الامین نے ریمارکس دیے کہ جنہوں نے توہین عدالت کی ہے وہ آئندہ سماعت پر خود پیش ہوں۔
یاد رہے کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خصوصی عدالت کے 3 رکنی بینچ نے 17 دسمبر 2019 کو پرویز مشرف سنگین غداری کیس کے مختصر فیصلے میں انہیں آرٹیکل 6 کے تحت سزائے موت سنائی تھی۔ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار سیٹھ، لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر پر مشتمل بینچ نے اس کیس کا فیصلہ 2 ایک کی اکثریت سے سنایا تھا۔ بعد ازاں 20 دسمبر کو کیس کا 167 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا، جس میں جسٹس نذر اکبر کا 44 صفحات پر مشتمل اختلافی نوٹ بھی شامل تھا۔
تفصیلی فیصلے میں جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس شاہد کریم نے پرویز مشرف کو سزائے موت سنائی تھی جبکہ جسٹس نذر اکبر نے انہیں بری کردیا تھا۔ تاہم اس تفصیلی فیصلے میں جسٹس شاہد کریم نے جسٹس وقار احمد سیٹھ کی اس رائے سے اختلاف کیا تھا جس میں انہوں نے پیرا گراف 66 میں یہ لکھا تھا کہ اگر پرویز مشرف سزا سے پہلے فوت ہوجاتے ہیں تو ان کی لاش کو گھسیٹ کر اسلام آباد میں ڈی چوک پر لایا جائے اور 3 دن کے لیے لٹکایا جائے۔ اس پیرا پر جسٹس شاہد نے اختلاف کیا اور کہا تھا کہ یہ بنیادی قانون کے خلاف ہے اور مجرم کے لیے موت کی سزا کافی ہے۔
سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد وفاقی وزراء بیرسٹر ڈاکٹر فروغ نسیم، فواد چوہدری، معاونین خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور بیرسٹر مرزا شہزاد اکبر نے پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس وقار احمد سیٹھ کے خلاف مبینہ توہین آمیز ریماکس دیے تھے حتی کہ ان کی دماغی صحت اور قوت فیصلہ پر بھی سوالات اٹھائے تھے۔ ان بیانات کے خلاف خیبر پختونخوا بارکونسل نے ہائی کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی۔
وفاقی وزراء اور معاونین خصوصی کے خلاف توہین عدالت کیس کی حالیہ سماعت کے دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر جاوید نے عدالت سے استدعا کی کہ فریقین کی طرف سے ہم کیس میں پیش ہوں گے اور دلائل دیں گے۔ تاہم جسٹس روح الامین نے کہا کہ توہین عدالت جس نے کی وہ پیش ہوجائے پھر آپ کو بھی سنیں گے۔ عدالت کا آئندہ سماعت پر وفاقی وزرا کو خود پیش ہونے کا حکم دیا۔ عدالتی حکم کے بعد حکومتی صفوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ واضح رہے ہے کہ مشرف کو سزائے موت سنانے والے جسٹس وقار سیٹھ چند روز قبل کورونا وائرس اور عارضہ دل کے باعث انتقال کر چکے ہیں۔ حیران کن امر یہ بھی ہے کہ جب تک جسٹس وقار سیٹھ زندہ رہے، ان کے خلاف بدزبانی کرنے والوں کو توہین عدالت کی کارروائی کا سامنا کرنے کے لئے نہیں بلوایا گیا تاہم گیارہ مہینے گزر جانے کے بعد اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اب سرگرمی نظر آرہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرف کو پھانسی کی سزا سنائے جانے کے بعد باز وفاقی وزرا اور معاونین خصوصی نے وفاقی وزراء اور معاونین خصوصی نے جسٹس وقار سیٹھ کے خلاف جو گندی زبان استعمال کی، اس کے ویڈیو ثبوت موجود ہیں لہذا اس بات کا قوی امکان ہے کہ مذکورہ حکومتی شخصیات کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیا جائے جس کے بعد یہ تمام افراد اپنے اپنے عہدوں سے بھی فارغ قرار پائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button