جشنِ افتخار عارف!

تحریر:عطا الحق قاسمی۔۔۔۔۔۔بشکریہ:روزنامہ جنگ
میرے بہت سے نوجوان شاعر دوست شکوہ کناں نظر آتے ہیں کہ انہیں ادبی کانفرنسوں میں مدعو نہیں کیا جاتا، اندرون اور بیرون ملک بڑے شاعروں میں بھی ان کا نام نہیں ہوتا، ظاہر ہے یہ کوئی ناجائز خواہش نہیں ہے۔ کون نہیں چاہتا کہ اسے اس کی زندگی میں وہ مقام نہ ملے جس کا وہ مستحق ہےتاہم استحقاق کا فیصلہ ادب کے عوام و خواص نے کرنا ہوتا ہے۔ ایک گلہ یہ بھی ہے کہ سارے ادبی اداروں کی سربراہی ’’بزرگوں‘‘ کے مقدر میں آتی ہے۔چنانچہ یہ بزرگ ادیبوں کی وفات حسرت آیات کے منتظر رہتے ہیںتاکہ ان کی گدی خالی ہو اور وہ ان کی جگہ مسند نشین ہوسکیں۔ان سب کی شکایتیں بجا مگر میرے خیال میں بزرگوں کوبھی اپنی باری پر ہی وہ مقام میسر آتا ہے جو ان کی چاہت ہوتی ہے۔ تمام بڑے شاعر ان مقامات سے گزرتے ہیں اور بالآخر وہ اپنا نام اور مقام بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ کراچی میں احمد شاہ اور لاہور میں، میں نے عالمی ادبی کانفرنسوں کا آغاز کیا تھا، احمد شاہ ابھی تک روبہ عمل ہیں اور وہ ہر عمر کے ادیبوں کو اس کانفرنس میں مدعو کرتے ہیں ، یہ کام میں بھی ’’حسب توفیق‘‘ کیا کرتا تھا مگر اب ایک وقت ایسا بھی آیا ہے کہ دعوت نامہ ملنے کے باوجود گزشتہ دو کانفرنسوں میں شریک نہیں ہوسکا۔ اور جہاں ادبی اداروں کی سربراہی کا تعلق ہے ان پر فائز ہونے والے کچھ ادیب بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھنے سے پہلے مختلف اداروں کے سربراہ مقرر ہوگئے تھےجن میں ناصر عباس نیر، اصغر ندیم سید، انعام الحق جاوید، عقیل عباس جعفری اور بہت سے دوسرے ادیب ہاتھوں پر رعشہ طاری ہونے سے پہلے پہلے حق بہ حق دار رسید کے محاورے پر پورے اتر چکے تھے۔
میں یہاں ایک نوجوان کی مثال دیتا ہوں جو ادبی مرکز سے بہت دور ایک قصبے میلسی میں رہتا تھا اور چپکے چپکے شعر کہتا رہتا تھا اس کا نام عباس تابش ہے اور اب اسے وہ مقام حاصل ہو چکا ہے جس کا وہ اور مقام دونوں منتظر تھے اور اب وہ پاکستان اور بیرون پاکستان کے ہر بڑے مشاعرے میں مدعو ہوتا ہے۔ حال ہی میں انہیں مجلس ترقی ادب کی سربراہی سونپی گئی ہے اور بہت کم عرصے میں انہوں نے ثابت کردیا ہے کہ وہ صحیح جگہ پہنچ گئے ہیں۔ وہ جہاں مجلس ترقی ادب کے ادبی ورثہ کے پھیلائو میں مشغول ہیں وہاں انہوں نے پاکستان کی پہلی سب سے بڑی ادبی ویب سائٹ ’’عشق آباد‘‘ کا اجرابھی کیا ہے اور نوجوانوں کی پوری ٹیم اس کام میں ان کےساتھ سرگرم عمل ہے۔ ’’عشق آباد‘‘کے زیر اہتمام’’ جشن جون ایلیا‘‘ میں بہترین انتظامی صلاحیتوں اور ملک بھر سے ادیبوں کی شرکت کےسبب ابھی تک اس کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اور گزشتہ جمعہ سے اس کا نفرنس کا آغاز ہو چکا ہے اور آج یعنی اتوار کو اس کا آخری دن ہے۔ افتخار عارف کا ذکر آیاہے تو بتاتا چلوں کہ میرا یہ دیرینہ دوست اپنے عہد شباب ہی میں شاعری میں بھی اپنا لوہا منوا چکا تھا اور مسلسل ادبی اداروں کی سربراہی بھی اس کے ذمہ رہی اور یوں جشن افتخار عارف، افتخار عارف کا حق تھا۔ آج جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں یعنی 9 دسمبر بروز ہفتہ بہت سے اہم موضوعات پر بھرپور سیشن ہوئے۔ پہلا سیشن ’’اوپن مائیک‘‘ کے زیر عنوان تھا، دوسرے سیشن کا موضوع ’’پاکستان میں اداروں کی نج کاری‘‘ تھا۔ یہاں شبر زیدی، فواد حسن فواد، ظفر مسعود، عدنان رضوی اور ظفر احسن مدعو تھے، اس سیشن کی میزبان ناصرہ زبیری تھیں۔ تیسرا سیشن ’’ محمل و جرس‘‘کے زیر عنوان تھا اور اس کے شرکاء میں افتخار عارف، شبر زیدی، ڈاکٹر نجیب جمال اور اقبال حیدر ایسے جید نام شامل تھے۔ ایک بہت ہم سیشن ’’اکیسویں صدی کی عورت‘‘ کے حوالے سے تھا۔ کشور ناہید، ڈاکٹر نجیبہ عارف اور ڈاکٹر صائمہ ارم کے نام سے اس سیشن کی معنویت ثابت ہوتی ہے۔ جوش ملیح آبادی کی زندگی کے حوالے سے ایک فلم بھی پروگرام میں شامل کی گئی۔ ’’مشاعرے کی تہذیب کل اور آج‘‘ اپنے اہم موضوع کے شرکاء میں عباس تابش، ڈاکٹر ناصر عباس نیر شامل تھے۔ ایک زبردست محفل مشاعرہ بھی پروگرام کا حصہ تھا اور ’’فیض شناسی‘‘ کے عنوان کےتحت افتخار عارف، سلمیٰ ہاشمی، اصغر ندیم سید اور ڈاکٹر ناصر عباس نیر شامل تھے۔ ایک دلچسپ سیشن ’’عشق نامہ۔ ایک…..‘‘ کی بات ہی کچھ اور تھی۔ عارف وقار، شریف اعوان اور فرخ یار اس سرشاری میں شریک تھے اس کے علاوہ اکبر معصوم کی یاد میں آئندگان شعری نشست ، رئیس امروہوی فن اور شخصیت، مظہر محمود شیرانی کی ادبی خدمات، ادب کے فروغ میں ٹیکنالوجی کا کردار، دعائوں بھرے دالان، پرانے لاہور کی داستان، کسوٹی کا سفر، افتخار عارف کی مذہبی شاعری، افتخار عارف کے تراجم، صباحت عاصم واسطی کے ساتھ اور افتخار خوانی ایسے نادر موضوعات پر بھی سیشن ہوئے۔
یہ کانفرنس شاہی قلعہ کے دیوان عام میں ہو رہی ہےاور اسے وال سٹی کا تعاون حاصل ہے۔ اتوار جشن افتخار عارف کا آخری دن ہے اور اس میں بھی ادب و فن اور زندگی کے مختلف حوالوں کی بابت متعدد سیشنز میں ’’افتخاران ادب‘‘ اظہار خیال کریں گے۔ جشن کا آغاز صبح گیارہ بجے ہوتا ہے اور اس میں ہر روز ایک مشاعرہ بھی شامل کیاگیا ہے۔ آپ سمجھیں کہ اس ادبی دستر خوان کی یہ ’’سویٹ ڈش‘‘ ہے۔ اب اور کیا لکھوں میرے اس تھوڑے لکھے کو براہ کرم ’’بوتا‘‘ سمجھیں۔
