جناح پور کا نقشہ پکڑا جانا ایک سازش تھی یا حقیقت؟

فوج کی جانب سے الطاف حسین کی متحدہ قومی موومنٹ پر جناح پور منصوبہ بنانے کا الزام عائد ہوئے بیس برس گزر گئے لیکن تمام تردیدوں کے باوجود یہ داغ آج دن تک مہاجر پارٹی کے دامن سے نہیں دھل پایا۔
یاد رہے کہ یہ الزام 19 جون 1992 کو کراچی میں ایم کیو ایم کے خلاف شروع ہونے والے آپریشن کلین اپ کے بعد عائد کیا گیا تھا۔ 17 جولائی 1992 کو کراچی میں فوج کی ففتھ ’ریزرو‘ کور کے جنرل آفیسر کمانڈنگ جنرل سلیم ملک نے صحافیوں کو فوجی آپریشن سے متعلق ’پریس بریفنگ‘ میں مدعو کیا۔ اس بریفنگ میں فوج کے سائیکلاجیکل وار فیئر ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ بریگیڈیئر آصف ہارون اور شعبہ تعلقات عامہ کے اعلیٰ افسران اور اہلکار بھی موجود تھے۔ اس بریفنگ کے بعد ملکی اخبارات میں اس سنسنی خیز الزام پر مبنی شہ سرخیاں شائع ہوئیں کہ الطاف حسین کی ایم کیو ایم ملک توڑ کر ’جناح پور‘ بنانا چاہتی ہے۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے بتایا گیا کہ الطاف حسین اور اُن کی تنظیم کراچی کو باقی ملک سے الگ کر کے سنگاپور کی طرز پر علیحدہ ملک بنانے کے منصوبے پر کارفرما ہے۔ ان خبروں میں ایم کیو ایم کے دفاتر پر فوجی و غیر فوجی اداروں کے چھاپوں کے دوران برآمد ہونے والے ’جناح پور کے نقشے‘ کا بھی حوالہ دیا گیا۔
فوراً ہی ذرائع ابلاغ کی خبروں، اداریوں اور مضامین میں یہ بحث بڑے زور و شور سے شروع ہوئی کہ کیا واقعی فوج نے ایم کیو ایم کا ’ملک توڑنے کا منصوبہ‘ ناکام بنا دیا ہے یا پھر ’جناح پور کے برآمد‘ ہونے والے یہ نقشے محض افسانہ اور الزام ہیں؟ یاد رہے کہ کراچی آپریشن کے باقاعدہ آغاز سے قبل ہی ایم کیو ایم کے بانی و قائد الطاف حسین لندن جا پہنچے تھے۔ آپریشن کے دوران تنظیم کے خلاف کارروائی کے خدشات کے پیشِ نظر ایم کیو ایم کی باقی اعلیٰ ترین قیادت بھی روپوش ہو چکی تھی یا انڈر گراؤنڈ جا چکی تھی۔ تنظیمی ڈھانچے کی اس تباہی کی وجہ سے ایم کیو ایم پہلے ہی بدترین مصائب و مشکلات کا شکار تھی کہ اس نئی بحث کے نتیجے میں شدید دباؤ کا شکار نظر آنے لگی۔ ایم کیو ایم کی وہ ’متبادل قیادت‘ جو بزرگ اور خواتین رہنماؤں پر مشتمل تھی اور آپریشن کے باوجود بھی کراچی کے علاقے عزیز آباد میں واقع نائن زیرو کہلائی جانے والی الطاف حسین کی رہائش گاہ پر موجود رہتی تھی تاکہ عوام اور صحافیوں کو آپریشن اور اس کے خلاف ایم کیو ایم کی سیاسی حکمت عملی سے آگاہ رکھ سکے۔ مگر ’جناح پور کے نقشوں کے برآمد‘ ہونے کے بعد اُن کے لیے بھی تنظیم کا دفاع مشکل ترین محاذ بن کر رہ گیا۔
1996 کے اواخر تک اس بحث کے دوران کہ کراچی آپریشن اپنے مقاصد حاصل کر سکا یا نہیں؟ سندھ کے شہری علاقوں میں جاری فوجی کارروائی تو آہستہ آہستہ ختم ہو گئی مگر ’جناح پور کے اس بھوت‘ سے نہ تو فوج کی جان چھوٹی اور نہ ہی ایم کیو ایم کی۔ الزام درست تھا یا محض مبالغہ آرائی یا پھر کچھ خفیہ ہاتھوں کی کارستانی، یہ تو کئی برس تک واضح نہیں ہو سکا مگر جناح پور کے اس آسیب نے دونوں فریقوں کا تعاقب آئندہ برسوں تک کیا۔ الطاف حسین اور اُن کی ایم کیو ایم تب سے اب تک ہمیشہ اس الزام کی تردید کرتی رہی ہے اور اسے ایم کیو ایم کی مقبولیت سے خائف ریاستی اداروں کی ’سوچی سمجھی سازش‘ قرار دیتی رہی حتی کہ سنہ 2016 میں کئی دھڑوں میں بٹ جانے کے باوجود آج بھی ایم کیو ایم کے تمام دھڑے اسی موقف پر قائم ہیں۔
اب سچ کیا تھا اور کیا ہے؟ اس کا فیصلہ تو تاریخ کرے گی مگر ریاستی اہلکاروں کی جانب سے پیش کردہ وضاحتوں اور تردیدی بیانات میں اتنی کجی اور خامیاں رہیں کہ معاملہ سلجھنے کی بجائے مزید الجھا ہوا نظر آنے لگا۔ تردید کرنے والے افسران، جن میں خود الزام لگانے والے فوجی افسران بھی شامل تھے، نہ صرف اپنے ہی ادارے کی قیادت پر بھی الزام لگاتے رہے بلکہ ان کی جانب سے جناح پور کے الزام کے سلسلے میں جو وضاحتیں سامنے آئیں اُن سے کم از کم یہ تو ثابت ہوگیا کہ خود فوج میں اس معاملے پر اختلافات بھی تھے، ہوم ورک کی کمی بھی تھی اور جناح پور کے ان مبینہ نقشوں کی برآمدگی کے بارے میں بھرپور تضادات بھی۔
پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مواد اور اس دور کے صحافیوں کی فراہم کردہ معلومات پر بھروسہ کیا جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ 17 جولائی 1992 کی پرہجوم پریس کانفرنس میں موجود فوجی افسران کی جانب سے دعویٰ تو کیا گیا کہ فوج کے مختلف تفتیشی اور خفیہ اداروں کی مدد سے جو چھاپے الطاف حسین کی ایم کیو ایم اور اے پی ایم ایس او کے دفاتر پر مارے گئے ان کے دوران کچھ ’ایسے نقشے برآمد ہوئے ہیں جن سے انکشاف ہوا ہے کہ الطاف حسین اور اُن کی ایم کیو ایم پاکستان توڑنا اور ایک نیا ملک جناح پور بنانا چاہتے ہیں۔‘ مگر 23 اگست 2009 کو اچانک ایک سنسنی خیز پیشرفت کے تحت فوج کے ایک سابق افسر اور کراچی آپریشن کے وقت انٹیلیجینس بیورو کے سابق سربراہ بریگیڈیئر امتیاز نے اے آر وائی کے ایک پروگرام میں ’جناح پور اور اس کے نقشوں کی برآمدگی‘ دونوں ہی کو ’ڈرامہ‘ قرار دے دیا۔ اس نشریے میں آئی بی کے سابق افسر بریگیڈئیر امتیاز اور ایم کیو ایم کے تب کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر و رکن قومی اسمبلی حیدر عباس رضوی دونوں ہی موجود تھے۔ بریگیڈیئر امتیاز نے میزبان کے سوال کے جواب میں کہا کہ ’یہ ٹوپی ڈرامہ تھا۔ میں نے خود سات روز تک مسلسل تفتیش کی اور اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ سراسر ڈرامہ ہے اور ایم کیو ایم کے کسی دفتر سے یہ نقشے برآمد نہیں ہوئے۔‘
