جناح کے پاکستان کو کس نے اور کیسے غداروں کا نشیمن بنا دیا؟

وزیراعظم عمران خان کے دور اقتدار میں حکومت مخالف سیاستدانوں اور صحافیوں پر ہر گزرتے دن کے ساتھ لگنے والے غداری کے الزامات اور اسکے نتیجے میں بڑھتی ہوئی غداروں کی آبادی نے پاکستان کو غداروں کا نشیمن بنا کر رکھ دیا ہے اور اگلی مردم شماری میں محب وطنوں کے اقلیت بن جانے اور وطن دشمنوں کے اکثریت حاصل کرنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر اپنے تازہ تجزیے میں کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے غدار بنانے کا طریقہ کار بڑا آسان کر دیا ہے جس کے مطابق آپ عمران حکومت پر ذرا سی تنقید کر دیں تو آپ کو فوری طور پر پاکستان کا دشمن اور غدار ڈکلئیر کر دیا جائے گا لہذا اسی وجہ سے عمرانی دور میں پاکستان غداروں کا نشیمن بن چکا ہے۔ حامد میر کہتے ہیں کہ کوئٹہ میں اپوزیشن کے کامیاب جلسے کے بعد حکومتی ترجمان ضرورت سے زیادہ غضب ناک نظر آتے ہیں۔ اِس جلسے سے حکومت کی بڑی اُمیدیں وابستہ تھیں۔ سب سے بڑی اُمید یہ تھی کہ بلاول بھٹو زرداری اِس جلسے سے خطاب نہیں کریں گے۔ دوسری بڑی اُمید یہ تھی کہ نواز شریف بھی جلسے سے خطاب نہ کر پائیں گے۔ تیسری اُمید یہ تھی کہ اِس جلسے میں بی این پی مینگل اور مسلم لیگ ن کا جھگڑا ہو جائے گا اور بی این پی مینگل پی ڈی ایم سے نکل جائے گی لیکن کوئی بھی سرکاری اُمید پوری نہ ہوئی۔ حامد میر کے مطابق غداروں کے منعقدہ کوئٹہ جلسے میں اپوزیشن رہنماوں کی جانب سے نعرہ تکبیر کا بلند ہونا اور لگ کر پاکستان علامہ اقبالؒ کا ذکر حکومتی ترجمانوں کیلئے اہم نہیں تھا۔ اُن کیلئے تو یہ اہم تھا کہ شاہ اویس نورانی کی زبان سے آزاد پاکستان کی بجائے آزاد بلوچستان کا لفظ نکل گیا جسکی بنیاد پر شبلی فراز نے پی ڈی ایم کو بھارت اور اسرائیل کا اتحادی قرار دے دیا۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان کے دشمنوں کو پاکستان کی 11 سیاسی و دینی جماعتوں کی قیادت اور حامی بطور اتحادی میسر آ چکے ہیں۔ 1971 میں تو صرف ایک لیڈر شیخ مجیب الرحمٰن اور اس کی جماعت عوامی لیگ کو غدار قرار دیا جاتا تھا، 2020 میں ایک اور ایک مل کر گیارہ ہو چکے ہیں۔
حامد میرکے مطابق پتا نہیں آج کا شیخ مجیب الرحمٰن اور جنرل یحییٰ خان کون ہے لیکن اگر حکومتی ترجمانوں کو درست تسلیم کر لیا جائے تو پاکستان میں گندم، چاول اور چینی کی کمی اور غداروں کی افراط ہو چکی ہے بلکہ غدار پیدا کرنے میں پاکستان خود کفیل ہو چکا ہے۔ ریاستِ پاکستان تحسین کی مستحق ہے کہ مہنگائی کے اِس دور میں عوام کے لیے غداری کا سرٹیفکیٹ بہت سستا کر دیا گیا ہے۔ بس آپ نواز شریف کی تقریر سُن لیں یا اسے کسی کو سنا دیں تو آپ کو غداری کا سرٹیفکیٹ بغیر مانگے ہی مل جائے گا، بلکہ آپ کی جیب میں ٹھونس دیا جائے گا اور اگر جیب نہ ملے تو ایف آئی اے سائبر کرائم سیل والے آپ کا فون نمبر ڈھونڈ کر واٹس ایپ پر کسی نوٹس کی شکل میں ملک دشمنی کا الزام آپ کی خدمت میں پیش کر کے اپنے سیاسی آقائوں کو خوش کرتے نظر آئیں گے۔
حامد میر کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی تقریر نشر ہونے سے روکنے کے لئے نا صرف پورے شہر میں موبائل فون سروس بند کر دی گئی تھی بلکہ سیٹلائٹ سسٹم بھی جام کر دیا گیا۔ اربابِ اختیار صرف نواز شریف ہی نہیں بلکہ بلاول بھٹو زرداری کی ویڈیو لنک پر تقریر بھی روکنا چاہتے تھے تاکہ یہ تاثر دینا آسان ہو جائے کہ بلاول اور پی ڈی ایم کے راستے جدا ہونے والے ہیں اور اپوزیشن تقسیم ہونے جا رہی ہے۔ یہاں عمران کے سابقہ اتحادی سردار اختر مینگل مسلم لیگ (ن) کے کام آئے۔ اُن کے پاس دبئی کی ایک فون سِم موجود تھی جسکے ذریعے نواز شریف کی تقریر کوئٹہ کے جلسے تک پہنچ گئی اور یہی فون بلاول بھٹو زرداری کی لایئو تقیر نشر کرنے کے بھی کام آیا۔
حامد میر کے مطابق گمشدہ بلوچ قوم پرستوں کے لیا آواز۔بلند کرنے والے ماما قدیر بلوچ بھی کوئٹہ جلسے سے خطاب کرنا چاہتے تھے لیکن جب اُن کی یہ خواہش پوری نہ ہوئی تو اُن سے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے خلاف ایک ویڈیو پیغام جاری کروا دیا گیا۔ اور وہ لوگ جو اب تک ماما قدیر کو غدار کہتے تھے وہی میڈیا پر اُن کے اس ویڈیو پیغام کو اُجاگر کرواتے رہے۔ یوں پلک جھپکتے میں غدار غدار نہ رہا بلکہ یار بن گیا حالا کہ ماما قدیر بلوچ کو غداری کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے کے لئے بڑی محنت کرنا پڑی تھی۔ اُنہوں نے اس مقصد کے لیے اپنا بیٹا کھویا اور کوئٹہ سے اسلام آباد تک لانگ مارچ کیا۔ لیکن عمران خان کی حکومت نے تو غدار بنانا بہت ہی آسان بنا دیا ہے۔ آپ صرف عمران حکومت پر ذرا سی تنقید کر دیں، آپ کو پلک جھپکتے میں پاکستان کا دشمن بنا دیا جائے گا لہٰذا اس عمرانی دور میں پاکستان غداروں کا نشیمن بن چکا ہے اور اگلی مردم شماری میں محبِ وطنوں کے اقلیت بننے کا خطرہ بہت بڑھ گیا ہے۔
