جنرل باجوہ سمیت کونسے 4 جرنیل عمران پر قربان ہوئے؟

جنرل قمر جاوید باجوہ نے اعتراف کیا ہے کہ ان سمیت پاک فوج کے چار سینئیر ترین جرنیل عمران خان اور ان کی تحریک انصاف پر قربان ہوئے۔ یہ انکشاف سینئر صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے ٹویٹر پر اپنے ایک ویڈیو پیغام میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں صحافیوں سے جنرل قمر باجوہ کی ایک آف دی ریکارڈ ملاقات کا احوال بیان کرتے ہوئے کیا ہے، عاصمہ بتاتی ہیں کہ انہوں نے جنرل باجوہ سے سوال کیا کہ کیا وہ عمران کی ہائبرڈ حکومت تخلیق کرنے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں کیونکہ اس سے پاک فوج اور پاکستان دونوں کا بے پناہ نقصان ہوا ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ نے بہت دکھی دل کے ساتھ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ کی بات بالکل درست ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں فوج کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا گیا ہے اسکی بنیاد پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مجھ سمیت پاک فوج کے 4 سینئر ترین جرنیل عمران خان اور ان کی تحریک انصاف پر قربان ہوئے۔ عاصمہ نے اپنی ویڈیو میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فوج کا ادارہ جنرل قمر باجوہ کی زیر قیادت عمران خان کی حمایت میں جس حد تک جا سکتا تھا گیا، لیکن عمران اور ان کی جماعت نے فوج کے ساتھ جو سلوک کیا، جس طرح اسکے سربراہ کو "غدار” قرار دیا، اور جس طرح فوج کو طعنے دیئے، وہ اس کی مستحق نہیں تھی حالانکہ مخالفین اسے مکافات عمل بھی کہتے ہیں۔
عاصمہ کے بقول یہ بات درست ہے کہ عمران صرف فوج کے بل بوتے پر اقتدار میں آئے تھے اور انہیں آج تک سیاست کے لیے جو میدان ملا ہوا ہے وہ بھی فوج ہی کی وجہ سے ہے لیکن موصوف شتر بے مہار کی طرح فوج اور جرنیلوں کے بارے میں جو منہ میں آتا ہے بول دیتے ہیں۔ ان کا جس پر دل چاہتا ہے الزام لگا دیتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود فوج کی جانب سے عمران خان سے نرم رویہ روا رکھا گیا یے اور انہیں کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے،عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ عمران کے بارے میں فوجی پالیسی نئے آرمی چیف کی تقرری کے بعد بدلتی ہے یا نہیں، یہ دیکھنا ہوگا۔
سینئر اینکر پرسن کا کہنا تھا کہ جس طرح امریکی سازش کے بیانیے کو بنیاد بنا کر فوج اور دیگر اداروں کو گندا کیا گیا اور ان پر الزامات لگائے گئے یہ انتہائی تشویشناک اور افسوسناک بات تھی۔ تاہم اپنے الوداعی خطاب میں جنرل باجوہ نے "امریکی سازش” کے بیانیے بارے بڑے واضح الفاظ میں بتایا کہ یہ ایک جھوٹا اور جعلی بیانیہ تھا جس سے اب آہستہ آہستہ راہ فرار اختیار کی جارہی ہے۔ عمران کے جھوٹے امریکی سازش کے بیانی کی تصدیق تو انکی اس آڈیو لیک سے بھی ہو گئی تھی جس میں وہ یہ کہتے سنائی دیے تھے کہ اب ہمیں اس خط کیساتھ کھیلنا ہے۔
عاصمہ کے بقول، جنرل قمر باجوہ نے یہ بھی کہہ دیا کہ آئندہ ایسا رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ یہ عمران خان اور انکی تحریک انصاف کے لئے ایک واضح پیغام تھا کہ بس بہت ہو گئی۔ عاصمہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حکومت مخالف تحریک کے غبارے سے بھی اسی لیے ہوا نکل گئی کہ وہ پہلے امریکی سازش کے بیانیے سے دستبردار ہوئے اور پھر اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے سے بھی پیچھے ہٹ گے۔ اب وہ مافیا اور لینڈ مافیا پر بات کررہے ہیں لیکن وہ 190 ملین پاونڈ کے اس سکینڈل پر بات نہیں کر رہے جس میں وہ خود ملوث ہیں اور جسکا مقصد پاکستان کے سب سے بڑے پراپرٹی مافیا ملک ریاض کو فائدہ پہنچانا تھا۔
