بلاول بھٹو نے بھی نئے صوبوں کی حمایت کردی

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 28ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کوئی پروپوزل ابھی تک ہمارے سامنے نہیں آیا، تاہم صوبوں سے متعلق پیپلز پارٹی کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ عوام کی رضامندی اور اتفاق رائے سے نئے صوبے قائم ہونے چاہییں۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ حکومت تو ہر جگہ یہ کہتی ہے کہ پیپلز پارٹی رکاوٹیں ڈالتی ہے، لیکن عوام کی رائے سے جو بھی فیصلہ ہوگا، پیپلز پارٹی اس کا ساتھ دے گی۔
بلاول بھٹو نے واضح کیاکہ اگر پیپلز پارٹی کے اعتراضات دور نہ کیے گئے تو پارٹی کا کوئی بھی رکن قانون سازی میں ووٹ نہیں دے گا، تاہم قومی ایشوز پر کوئی پیش رفت ہوئی تو پیپلز پارٹی تعاون کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ آزاد کشمیر کے انتخابات متنازع تھے، ہمارے تحفظات دور ہونے تک ن لیگ کے ساتھ کوئی تعاون نہیں ہوگا، پیپلز پارٹی کے جائز اعتراضات دور کرنے کے لیے ن لیگ نے کوئی کوشش نہیں کی، کیا اتحادیوں کے ساتھ ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔
عمران خان سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہر قیدی کو صحت اور علاج کی سہولت فراہم کرنا اس کا بنیادی حق ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حکومت کے اعتراضات انہوں نے نہیں دیکھے، اس لیے اس پر تبصرہ نہیں کریں گے۔ مسلم لیگ ن کے بعض اہم رہنماؤں اور وزرا نے بھی فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔
انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے بھی قیدی کو علاج اور صحت کی سہولت دینا حق قرار دیا ہے۔ بانی پی ٹی آئی سمیت ہر قیدی کو علاج اور طبی سہولیات ملنی چاہییں۔ صحت کے معاملے میں قیدی کے بنیادی حق کو تسلیم کرنا خوش آئند ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ بہتر ہوتا حکومت خود علاج یا طبی معائنے کا انتظام کرتی، سپریم کورٹ کے حکم سے پہلے حکومت کو خود طبی سہولت فراہم کرنی چاہیے تھی۔
