عطا تارڑ کا خیبرپختونخوا حکومت پر دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے کا الزام
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت دہشتگردوں کو مبینہ طور پر گنجائش دے رہی ہے اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اس کی ذمہ داری ہے

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ نے خیبرپختونخوا حکومت پر دہشتگردی کے فروغ اور اس کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
اسلام آباد سے جاری اپنے بیان میں عطا تارڑ نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت دہشتگردی روکنے میں ناکام ہے اور ان کے بقول صوبائی حکومت دہشتگردوں کو کارروائیوں کیلئے گنجائش فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر صوبائی حکومت شہریوں کے جان و مال کا تحفظ نہیں کر سکتی تو یہ اس کی ناکامی ہے۔ ان کے مطابق دہشتگردی کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے دہشتگردوں کو مبینہ طور پر اسپیس دی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں اپیکس کمیٹی کا اجلاس بھی نہیں بلایا جاتا، جبکہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جوان اور افسران شہید ہوچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود دہشتگردی کی مذمت تک نہیں کی گئی۔
عطا تارڑ نے کہا کہ پاکستان سے فوائد حاصل کیے جاتے ہیں لیکن حمایت افغانستان کی کی جاتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبائی حکومت کے نمائندوں کو شہداء کے جنازوں میں شرکت سے کون روکتا ہے۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت کی دوغلی پالیسی اور دہشتگردوں کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ سامنے آچکا ہے۔ عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ سیاسی معاملات اپنی جگہ، تاہم عوام کے جان و مال کا تحفظ سب سے مقدم ہونا چاہیے۔
