جنرل عاصم منیر کے لیے غیر جانبدار رہنا چیلنج کیوں ہوگا

معروف صحافی اور تجزیہ کار حامد میر نے کہا ہے کہ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے لیے غیر جانبدار رہنا سب سے بڑا چیلنج ہو گا کیونکہ سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی جانب سے فوج کے غیر سیاسی ہونے کے اعلان کے بعد اب نئے فوجی سربراہ کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کسی کا ساتھ نہیں دے رہے اور واقعی نیوٹرل ہو چکے ہیں۔لیکن سیاسی بے یقینی کی کیفیت یہیں ختم نہیں ہوتی۔ اب جب کہ عمران کی جانب سے آرمی چیف کی تقرری رکوانے کی کوشش ناکام ہو گئی ہے، موصوف نے ایک نئے اعلان سے سب کو چونکا دیا ہے اور کہا ہے کہ پی ٹی آئی کے اراکین ان دونوں صوبائی اسمبلیوں سے استعفے دینے جا رہے ہیں جن پر ان کا اس وقت مکمل کنٹرول ہے۔ بظاہر عمران خان نے اپنا آخری کارڈ کھیلا ہے جو ابھی اعلان کی حد تک محدود ہے۔

 

معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے لیے اپنے تازہ تجزیے میں حامد میر لکھتے ہیں کہ مہینوں کی سازشوں کے بعد بالآخر پاکستان کو نیا آرمی چیف مل گیا ہے۔ یہ عہدہ طاقتور ملٹری انٹیلی جنس اور انٹر سروسز انٹیلی جنس کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کو دیا گیا ہے۔ بہت سے پاکستانیوں نے اس خبر پر سکون کا سانس لیا ہے جس نے وقتی طور پر ایک نئے سیاسی بحران کا خدشہ بھی دور کر دیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ عمران خان اعلیٰ فوجی قیادت کے ساتھ تصادم پر زور دے رہے تھے جس سے خدشہ تھا کہ فوج مارشل لاء کا اعلان کر سکتی ہے۔ لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ وہ خطرہ ٹل گیا ہے۔

 

حامد میر کا کہنا ہے کہ عمران خان ملکی تاریخ کے سب سے گھنائونے الیکشن کے نتیجے میں وزیر اعظم بنے تھے، جس میں خوف، بدعنوانی اور وسیع پیمانے پر دھاندلی کی گئی تھی۔ یہ تاثر عام تھا کہ جنرل قمر باجوہ کی زیر قیادت عمران کو 2018 کے الیکشن میں دھاندلی کروا کر جتوایا گیا اور پھر وزیراعظم بنوایا گیا۔ عمران کے سب سے بڑے سیاسی مخالف نواز شریف نے تب کے آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کو اپنی حکومت گرانے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔ حامد میر بتاتے ہیں کہ عمران خان نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد فوج کے ساتھ قریبی تعلقات بنا لیے ۔ جرنیلوں کے ساتھ انکے اچھے تعلقات نے ہندوستان کی نظروں میں ان کی ساکھ کو بڑھایا، جس نے دہلی کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے مختلف اقدامات شروع کرنے میں مدد کی، ان میں گزشتہ سال کی جنگ بندی بھی شامل تھی۔

 

لیکن عمران کی نااہلی اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے جلد ہی خالق اور مخلوق  کے مابین اختلافات سامنے آنے لگے۔ جنرل باجوہ بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے لیے تیزی سے آگے بڑھنا چاہتے تھے لیکن خان زیادہ محتاط تھے۔ 2021 کے موسم خزاں میں عمران خان لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی آئی ایس آئی سے ٹرانسفر پر جنرل باجوہ کے ساتھ الجھ گئے، حالانکہ فیض کے عہدے کی مدت پوری ہو چکی تھی۔ تاہم عمران انہیں آئی ایس آئی کے سربراہ کے طور پر برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ عمران کے مخالفین کو تب ہی شک ہونے لگا تھا کہ وہ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے فیض حمید کو نیا آرمی چیف مقرر کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ لیکن جنرل باجوہ نے اسٹینڈ لیا اور لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم کو نیا آئی ایس آئی چیف مقرر کر دیا۔ یاد رہے کہ آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ، لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے حال ہی میں عمران خان پر فوج سے "غیر قانونی” سیاسی مدد مانگنے کا الزام لگایا ہے۔ لیکن جب فوج نے غیر سیاسی ہونے کا اعلان کر دیا اور عمران کی مدد کرنے سے انکار کر دیا تو اپوزیشن نے انکے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا جو کامیاب رہی اور خان کی چھٹی ہو گئی۔

 

حامد میر کا کہنا ہے کہ فوج کے خلاف خان کی موجودہ رنجش کا یہی بنیادی سبب ہے: خان کا ماننا ہے کہ ان کے سابق اتحادیوں نے سیاسی طور پر ان کے ساتھ دھوکہ کیا، لہٰذا پچھلے چند ہفتوں میں عمران نے نئے آرمی چیف عاصم منیر کی تقرری روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر کے ماضی کا غصہ نکالنے کی کوشش کی۔ یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ خان صرف ایک عام اپوزیشن لیڈر نہیں۔ وہ ایک بڑے پاور پلیئر ہیں۔ ان کی جماعت، تحریک انصاف، دو بڑے صوبوں، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ دو چھوٹے علاقوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو کنٹرول کرتی ہے۔ صدر عارف علوی پی ٹی آئی کے سابق رکن ہیں۔ وہ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر کے طور پر خدمات انجام دیتا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وزیر اعظم کو کسی بھی نئے آرمی چیف کی تقرری پر کم از کم باضابطہ طور پر ان سے مشورہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ دوسری طرف عمران نے نئے فوجی سربراہ کی تقرری روکنے کے لیے صدر علوی کی مدد لینے کی کوشش کی لیکن صدر نے محتاط موقف اختیار کیا اور خان کو مشورہ دیا کہ وہ نئے آرمی چیف کے ساتھ پنگا ڈالنے کی کوشش نہ کریں۔

 

حامد میر کے بقول عمران خان کی فوج سے ناراضگی نے انہیں غصے اور جذباتیت کی انتہا پر پہنچا دیا ہے۔ اسی لیے موصوف فوج پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ انہیں مارنے کی کوشش کر رہی ہے، عمران خان نے تو ریڈ لائن کراس کرتے ہوئے وزیر آباد میں خود پر ہونے والے قاتلانہ حملے میں وزیراعظم اور وزیر داخلہ کے علاوہ آئی ایس آئی کے ایک سینئر ترین افسر کا نام بھی بطور ملزم  لے دیا حالانکہ حملہ آور ایک مذہبی جنونی تھا۔ اسکے علاوہ خان نے راولپنڈی کے گیریژن ٹاؤن میں ایک بڑی ریلی نکال کر فوج کے ساتھ جھگڑے کو مزید ہوا دینے کی کوشش کی۔ فوج کے ساتھ تصادم کو ہوا دے کر عدم استحکام کو ہوا دینے کی کوششیں شاید اس موسم سرما میں نئے انتخابات کرانے کے مقصد کو پورا کرتی ہیں۔

Back to top button