جہانگیر ترین اور علی ترین کے کیسز کی سماعت کرنے والے جج کو تبدیل کر دیا گیا

جہانگیر ترین اور علی ترین کیسز کی سماعت کرنے والے ایڈشنل سیشن جج کو تبدیل کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف ترین گروپ کے سربراہ جہانگیر ترین اور ان کے صاحبزادے علی ترین کے کیسز کی سماعت کرنے والے ایڈشنل سیشن جج حامد حسین کو تبدیل کر دیا گیا۔ پانچ سماعتیں کرنے والے ایڈشنل سیشن جج حامد حسین سے کیسز لے کر دوسری عدالت منتقل کر دیے گئے۔
خیال رہے کہ ایڈشنل سیشن جج حامد حسین نے ایف آئی اے کو مذکورہ کیسز میں تفتیش مکمل کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ ایڈشنل سیشن جج احسن محبوب آئندہ جہانگیر ترین کیسز کی سماعت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق احسن محبوب بخاری کا مظفر گڑھ سے لاہور تبادلہ ہوا تھا۔ جہانگیر ترین کیسز کی سماعت کرنے والے جج کی تبدیلی کے بعد سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ کیا جہانگیر ترین کیسز میں مرضی کے فیصلے لینے کے لیے جج کا تبادلہ کیا گیا ہے یا پھر کوئی اور وجہ ہے۔ تاہم تاحال جج کی تبدیلی کے حوالے سے کوئی وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ یاد رہے کہ آج صبح ہی ایڈشنل سیشن جج حامد حسین کی جانب سے جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری ضمانت میں توسیع کی گئی تھی۔ جسٹس حامد حسین نے سماعت کے دوران جہانگیرترین اور علی ترین کی درخواست ضمانت پر کی عبوری ضمانت میں11جون تک توسیع کر دی۔جسٹس حامد حسین کا کہنا تھا کہ پچھلے دنوں میں کچھ تقرری و تبادلے ہوئے ہیں نئے جج آج چارج لیں گے، اس لیے کیس کو بغیر سماعت ملتوی کررہے ہیں۔ جسٹس حامد حسین نے استفسار بھی کیا کہ پچھلے 15دن میں آیف آئی اے نے کیا تحقیقات کی ہیں، جس پر ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے بتایا کہ ادارے کے ایک آفیسر کا ٹرانسفر ہو گیا ہے۔ جسٹس حامد حسین نے کہا کہ یہ معاملہ کب سے چل رہا ہے اب تک تحقیقات کیوں مکمل نہیں کی گئیں اگر آپ کا ادارہ تفتیش نہیں کرنا چاہتا تو بتائیں۔ جس کے بعد جہانگیر ترین اور علی ترین کی عبوری ضمانت میں 11 جون کی توسیع کرنے کے بعد کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی گئی۔
