جیل کی سختی، کیاعمران خان ملک سے بھاگنے والے ہیں؟

ایک وقت تھا کہ جب چئیرمین تحریک انصاف کی ہر تقریر کا موضوع یہی ہوتا تھا کہ ان کے مخالفین چور اور ڈاکو ہے جن سے وہ کسی بھی قسم کے مذکرات نہیں کریں گے۔ عمران خان اپنے مخالفین کو ہر کیس میں ریلیف ملنے کے بعد نعرہ لگاتے کہ ان کو این آر او دے دیا گیا ہے لیکن آج وہ چئیرمین تحریک انصاف جیل میں ہیں اور محض ایک ماہ کے کم عرصے کی قید کاٹنے کے بعد اپنی اہلیہ بشری بی بی کے ذریعے این آر او یا کسی ڈیل کی تلاش میں سر گرم ہیں۔

دارلحکومت اسلام آباد میں آج کل جہاں سابق خاتون اول بشریٰ بی بی المعروف پنکی پیرنی کی کسی دوست ملک کے سفیر سے ملاقات کی خبریں گرم ہیں وہیں دوسری طرف مختلف سیاسی حلقوں کی جانب سے یہ دعوی بھی سامنے آ رہا ہے کہ عمران خان کو ریلیف دے کر بیرون ملک بھجوانے کے حوالے سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم کی اہم ملاقات صدر عارف علوی سے ایوان صدر میں ہوئی ہے۔جس میں عمران خان کے کیسز کھ خاتمے اور انھیں این آر او دینے بارے امکانات کا جائزہ لیا گیا ہے۔

دوسری جانب ذرائع کا دعوی ہے کہ قطرکے سفیر سے بشریٰ بی بی نے چئیرمین تحریک انصاف کے حوالے سے ملاقات کی اور درخواست کی کہ وہ بانی پی ٹی آئی کو ریلیف دلوانے میں کردار ادا کرے۔ذرائع یہ بھی دعوے کر رہے ہیں کہ بشریٰ بی بی نے اس ریلیف کے بدلے میں دوست ملک کے سفیر کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ چئیرمین تحریک انصاف عمران خان خاموشی سے باہر جانے کو بھی تیار ہیں۔

بشری بی بی کی ملاقات کی خبریں سامنے آنے کے حوالے سے ناقدین کا کہنا ہے کہ چیرمین پی ٹی آئی کی حقیقت قوم کے سامنے آ چکی ہے وہ ڈیموکریٹ نہیں ہیپوکریٹ ہے،عمران خان بشری بی بی کے ذریعے این آر او کی ڈیل میں مصروف ہے ۔کل تک این آر او نہیں دینے کا گردان کرتے نہیں تھکتے تھے آج خود این آر آو کی بھیک مانگ رہا ہے۔ بشریٰ بی بی کی ملاقاتوں کی سی سی ٹی فوٹیج موجود ہے ۔

دوسری جانب سینئر صحافی کامران یوسف نے دعوی کیا ہے کہ ایوان صدر میں صدر عارف علوی کے ساتھ آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ندیم انجم کی اہم ملاقات ہوئی ہے جو کم و بیش دو گھنٹے تک جاری رہی۔ اس ملاقات میں کون سے معاملات زیر بحث آئے، اس حوالے سے حتمی طور پر تو بس یہی تین شخصیات جانتی ہیں تاہم قیاس کیا جا سکتا ہے کہ اس میں انتخابات کی تاریخ کے حوالے سے ضرور بات چیت ہوئی ہو گی کیونکہ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے برعکس کوئی تاریخ صدر مملکت دے دیتے ہیں تو انتخابات کو لے کر ملک میں تنازع پیدا ہو سکتا ہے۔ گمان کیا جا سکتا ہے کہ آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے صدر مملکت سے ایسا کوئی اقدام لینے سے باز رہنے کی بات کی ہو گی۔اس کے علاوہ صدر مملکت چونکہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان کے مابین ایک رابطہ کار کا کردار بھی ادا کرتے رہے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ اس ملاقات میں اہم پیغامات کا تبادلہ کیا گیا ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ پس پردہ 1999 کی طرح کوئی ایسا منصوبہ بن رہا ہو جس میں عمران خان کو ملک سے باہر بھجوانے کا انتظام کروایا جا رہا ہو۔ 1999 میں نواز شریف کو اسی طرح سعودی عرب کی مدد سے ملک سے باہر جانے کی اجازت دلوائی گئی تھی اور نواز شریف سعودیہ چلے گئے تھے۔ پاکستان میں جس طرح حالات راتوں رات بدل جاتے ہیں تو ہو سکتا ہے عمران خان کی سزا معطلی اور انہیں ملک سے باہر بھجوانے کا کوئی پس پردہ منصوبہ ترتیب پا رہا ہو۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عمران خان باہر چلے جائیں گے؟ عمران خان کے ملک سے باہر جانے کا انحصار دو باتوں پر ہے؛ پہلی یہ کہ کیا عمران خان سیاست سے لاتعلق ہونے اور ملک چھوڑنے کی حامی بھر لیں گے، جبکہ دوسری بات یہ کہ کیا کوئی ملک ان کی گارنٹی دینے کو تیار ہو جائے گا۔ عمران خان ماضی میں متعدد مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ملک چھوڑ کر باہر نہیں جائیں گے اور ان کے حامی بھی عمران خان سے یہی توقع کرتے ہیں کہ وہ نواز شریف کی طرح ملک چھوڑ کر نہ جائیں۔ لیکن یہ پاکستان کی سیاست ہے جس میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ چیزیں دیکھتے ہی دیکھتے بدل جاتی ہیں اور موجودہ تناظر میں ہونے والی یہ ملاقات نہایت معنی خیز ہے۔

Back to top button