کیا پاکستان میں بجلی چوری کے واقعات کو روکنا ممکن ہے؟

ملک بھر میں بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد بجلی کی مفت فراہمی اور بجلی چوری کے واقعات کے حوالے سے نئی بحث شروع ہو گئی ہے، سوشل میڈیا پر صارفین روزانہ ایسے افراد کے بجلی کے بل پوسٹ کر رہے ہوتے ہیں جن کو حکومت کی طرف سے مفت بجلی میسر ہے، چاہے وہ کوئی واپڈا کا ملازم ہے یا پھر کسی اور سرکاری محکمے سے۔بجلی چوری کے حوالے سے پاکستان الیکٹرک سپلائی کمپنی پیپکو کے سابق مینجنگ ڈائریکٹر طاہر بشارت چیمہ نے اردو نیوز کو بتایا کہ اس وقت لائن لاسز یا بجلی چوری کی مد میں 5 کھرب روپے سے زیادہ کا نقصان ہو رہا ہے، اس حوالے سے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے اگر یہ خسارہ ہی کنٹرول کر لیا جائے تو لوگوں کی مشکل کو بڑی حد تک کم کیا جا سکتا ہے اور یہ ٹیکنیکل طریقے سے کیا جا سکتا ہے۔اس شور شرابے میں وفاقی نگراں حکومت نے بجلی چوری روکنے کے لیے وزارت توانائی سے تجاویز طلب کی ہیں، ابھی تک جو تجاویز سامنے آئی ہیں ان میں حکومت ایک آرڈیننس لانے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں بجلی کا بل نہ دینے والے افراد کو بھی بجلی چور تصور کیا جائے گا، طاہر بشارت چیمہ کہتے ہیں کہ یہ تھوڑا سخت ہو جائے گا کیونکہ بل میں تاخیر ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، حکومت کو سارا پتا ہے کن علاقوں میں بجلی چوری ہو رہی ہے اور کون کرتا ہے تو ایکشن صرف ان کیخلاف ہونا چاہئے۔لاہور الیکٹرک سپلائی کپمنی لیسکو کی ریکوری سیکشن کے سربراہ محمد منظور کہتے ہیں کہ لیسکو میں لائن لاسز یا ریکوری کا کوئی مسئلہ نہیں، لیسکو 95 سے 97 فی صدر ریکوری کر کر رہا ہے، لائن لاسز یا بجلی چوری بھی پاکستان کے تمام ڈسکوز سے کم لیسکو میں ہے لیکن اگر حکومت کوئی بھی نئی پالیسی لے کر آتی ہے تو اس پر پوری سپرٹ کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے گا۔نئے آرڈیننس میں شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے کی پالیسی بھی بدلے جانے کا امکان ہے، اس وقت پاکستان بھر میں ایک ہزار میگا واٹ بجلی شمسی توانائی سے پیدا کی جا رہی ہے، وزارت توانائی کا ماننا ہے کہ سولر انرجی کی پیداوار سے کیپسٹی چارجز کا بوجھ بھی عوام پر پڑا ہے۔طاہر بشارت چیمہ کہتے ہیں کہ شمسی توانائی کا شعبہ نسبتاً نیا ہے اور اس میں ابھی مزید قانون سازی بھی ہوگی لیکن اگر حکومت نے ابھی سے اس کو مشکل بنا دیا تو جو لوگ سولر کی طرف راغب ہو رہے ہیں، وہ رک جائیں گے کہ فائدہ نہیں ہے اگر بل میں کٹوتی نہیں ہوگی تو سولر لگانے کا فائدہ کیا ہو گا؟ ابھی یہ آرڈیننس سامنے آئے گا تو مزید باتیں واضع ہوں گی۔خیال رہے کہ وزارت توانائی کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ سال ملک بھر میں بجلی چوری کے 20 ہزار سے مقدمات درج ہوئے تاہم ساڑھے پانچ سو افراد کی گرفتاری عمل میں آئی اگر بل نہ دینا بھی قانونی طور پر بجلی چوری میں تبدیل کر دیا گیا تو ان مقدمات کی تعداد یقیناً بڑھے گی لیکن اس سوال کا جواب فی الوقت کسی کے پاس نہیں کہ بجلی چوری رکے گی یا نہیں۔

Back to top button