جیکی چن کی زندگی سنسنی خیز فلم کیوں قرار پائی؟

کیمرے میں اپنی جارحانہ فائٹ، مزاحیہ انداز سے مداحوں کے دل جیتنے والے ہالی ووڈ سٹار جیکی چن کی اپنی زندگی میں کسی سنسنی خیز فلم سے کم نہیں ہے، حال ہی میں شائع ہونے والے مضمون میں جیکی چن کے خاندان کی کتھا بیان کی گئی ہے۔

مشکلات میں مسکرانے کا مشورہ تو سبھی دیتے ہیں مگر ان کو قہقہہ بنا کر دنیا کی طرف اچھالنے والے دو چار لوگوں میں ایک تو لازمی جیکی چن ہی ہیں،

عربی میگزین الرجل میں مشہور اداکار جیکی چن کے حالات زندگی پر ایک مضمون شائع ہوا ہے جس میں ان کے خاندان کی کتھا بیان کی گئی ہے، 1940 کی دہائی میں چین خانہ جنگی کی لپیٹ میں تھا، اس وقت چارلس چین اور لی نام کے جوڑے نے وہاں سے فرار ہو کر ہانگ کانگ میں پناہ لی، اس وقت ہانگ کانگ برطانیہ کی کالونی تھا۔

چارلس چین ایک شیف تھے اور ایک ریستوران سے وابستہ ہو گئے اور پھر سات اپریل 1954 کو ان کے ہاں ایک بچے کی پیدائش ہوئی۔اس وقت ہانگ کانگ میں بھی خانہ جنگی کے اثرات پہنچنا شروع ہو گئے تھے، زندگی کے ابتدائی برسوں کے دوران اسے صرف گولیوں کی آوازیں سننے کو ملتی رہیں۔

بہرحال پانچ برس کا ہونے پر جیکی چن کو پرائمری سکول میں داخل کرایا گیا تو اپنے پہلے سال میں وہ فیل ہو گئے جس پر ان کو سکول سے اٹھا لیا گیا، ننھے جیکی کی عمر صرف چھ برس تھی جب ہانگ کانگ میں ان کے والدین کے لیے رہنا مشکل ہو گیا اور انہوں نے کسی اور ملک میں سیاسی پناہ کے لیے جدوجہد شروع کی اور بالآخر انہیں آسٹریلیا جانے کا موقع مل گیا اور کینبرا میں امریکی سفارت خانے میں ہیڈ شیف کے طور پر کام کرنے کا موقع بھی مل گیا۔

جیکی کے لیے یہ ایک نئی دنیا تھی، جہاں انہیں سکول میں داخل کرایا گیا اور سکول میں وہ خود کو سب سے الگ تصور کرتا کیونکہ اس کے جسمانی خدوخال کلاس فیوز سے بہت مختلف تھے۔ایک بار بروس لی کی تصویر کو کچھ زیادہ انہماک سے دیکھنے پر ان کے والد نے ان کو مارشل آرٹ کلب میں داخلہ کروا دیا جو جیکی کی زندگی کا سب سے اہم موڑ ثابت ہوا۔

یہ بروس لی کے عروج کا دور تھا اور انہی کی زندگی پر بننے والے ایک سٹیج ڈرامے میں انہیں بروس لی کے بچپن کا کردار کرنے کا موقع ملا جس کو کافی پسند کیا گیا اور چند برس میں ان کو اسی نوعیت کے کچھ مزید کردار بھی ملے۔اس کے بعد انہیں کچھ فلموں میں کاسٹ کیا گیا اور انہیں بروس لی کے ہی روپ میں دکھانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ کچھ خاص رنگ نہ جما سکے پھر 1975 میں ’آل ان دی فیملی‘ ریلیز ہوئی جس میں ان کا کردار مزاحیہ تھا، جس کو پسند کیا گیا۔

1976 تک جیکی چن اداکاری کے کیریئر سے مایوس ہو چکے تھے اور واپس اپنے والدین کے پاس کینبرا (آسٹریلیا) چلے گئے۔وہ اپنے والدین کا ہاتھ بٹانا چاہتے تھے اس لیے تعمیراتی کمپنی کے لیے بطور مزدور کام شروع کیا۔

اپنے ایک انٹرویو میں جیکی چن کا کہنا تھا کہ 1978 میں ایک فلمساز نے ایسی فلم بنانے کا ارادہ کیا جس میں ایکشن بھی تھا کامیڈی بھی، ’سنیک ان دی ارتھ شیڈو‘ اس فلم میں جیکی چن نے کھل کر سٹنٹس کیے اور لڑائی بھڑائی کے دوران بھی لوگوں کو ہنساتے رہے۔

80 کی دہائی کے آخر تک جیکی چن پوری دنیا میں مشہور ہو چکے اور 1989 میں انہیں پولیس سٹوری میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی۔ اس کے کامیاب ہونے کے بعد پولیس سٹوری ٹو بنی، اس کے بعد دی آرمر آف گاڈ، پولیس سٹوری تھری، رمبل ان دی برونکس اور مزید بے شمار فلمیں، یعنی ہالی وڈ میں بھی جیکی چن قدم جما گئے۔

جیکی چن کسی موٹیویشنل سپیکر سے کم نہیں۔ وہ انٹرویوز میں ایسی باتیں بتاتے رہتے ہیں جن سے زندگی کے مسائل سے نمٹنے میں مدد ملتی ہے۔وہ کہتے ہیں جب آپ کامیاب لوگوں کو دیکھتے ہیں تو یہ بھی دیکھیں کہ جب آپ سو رہے ہوتے ہیں تو وہ اس وقت بھی محنت کر رہے ہوتے ہیں، اس لیے محنت کریں۔

انھوں نے کہا کہ مارشل آرٹ صرف کمزوروں کی مدد کے لیے ہے، کسی کو زخمی کرنے کے لیے نہیں، خود کو حالات کے دھارے پہ پر کبھی مت چھوڑو بلکہ انہیں اپنے لیے موافق بناؤ، بڑی کامیابی بڑی خواہشات سے جنم لیتی ہے، زندگی دکھ دیتی ہے مگر اس کے جواب میں کھڑا ہونا ہے یا نہیں، یہ ہمارے ہاتھ میں ہے، میرے لیے سب سے حوصلہ افزا بات یہ ہوتی ہے کہ جب کوئی کسی کام کے لیے ’ناممکن‘ کا لفظ استعمال کرے۔

Back to top button