حوروں کے انجکشن کے بعد اب سانس رکنے سے انسانوں کے مرنے کا انکشاف

وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے ایک ہوشربا انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب انسان کی جان نکل جاتی ہے تووہ مر جاتا ہے۔ لیکن وزیر اعلیٰ نے یہ بتانا مناسب نہیں سمجھا کہ کیا ان کے اس اعلان سے پہلے سانس رکنے کے بعد انسان زندہ رہتے تھے؟
حکومتی شخصیات کے بیانات پر تنقید کوئی نئی بات نہیں ماضی میں یہ کام عموماً اپوزیشن کے لیے خاص سمجھا جاتا تھا لیکن اب سوشل میڈیا صارفین باہمی رابطے کی ویب سائٹس پر اپوزیشن کا کردار ادا کرتے نظر آتے ہیں۔سوشل میڈیا پر جہاں حکومتی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کی جاتی ہے وہیں سیاستدانوں کے الفاظ اور جملے بھی زیر بحث رہتے ہیں۔ پاکستان میں کچھ حکومتی شخصیات کے جملے اور الفاظ سوشل میڈیا کی خصوصی توجہ کا مستحق ٹھہرے تاہم اس مرتبہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلی محمود خان اس فہرست میں تازہ اضافہ بن گئے ہیں۔
نشتر ہال پشاور میں منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان نے زندگی، موت اور انسانیت و احساس کا تذکرہ کیا لیکن وہ اپنے ابتدائی جملے کی وجہ سے سوشل میڈیا ٹرولنگ کا نشانہ بن گئے۔ کچھ صارفین نے ان کے جملے ’جب انسان کی جان نکل جاتی ہے تو وہ زندہ نہیں رہتا‘ کی ویڈیو شیئر کرنے پر اکتفا کیا تو کچھ نے اس کی مخالفت و حمایت میں خوب تبصرے کیے۔
کسی نے کہا کہ ’ہمیں تو آج تک معلوم ہی نہ تھا کہ انسان سانس رکنے کے بعد زندہ نہیں رہتا۔ کسی نے کہا کہ آج تک میں سمجھتی رہی کہ انسان سانس رک جانے کے بعد بھی زندہ رہتا ہے۔ سوشک میڈیا پر ٹرولنگ کے معاملے نے شدت اختیار کی تو وزیراعلی خیبرپختونخوا کے مشیر اور حکومت کے ترجمان اجمل وزیر سامنے آئے۔ انہوں نے موقف اپنایا کہ وزیراعلی کی تقریر کے ایک حصے کو ایڈیٹ کر کے غلط انداز سے پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس ٹویٹ کا مقصد معاملے کو سلجھانا تھا تاہم تفصیلی کلپ دیکھنے والوں نے جہاں اس پر نئے سوال کیے وہیں وزیراعلی کے ایک اور جملے پر تنقید شروع کر دی۔
تصویر کا دوسرا رخ سامنے آنے کے بعد وفاقی وزیر برائے سائنس فواد چوہدری بھی گفتگو کا حصہ بنے۔ تاہم انہوں نے صرف سوشل میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے بحیثیت مجموعی میڈیا کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اپنے شکوے بھرے ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ ’ اس رویہ نے میڈیا کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے لیکن پی بی اے ان معاملات پر مکمل خاموش ہے۔‘ وزیراعلی کی حمایت میں حکومتی شخصیات کی کاوشیں شاید سوشل میڈیا کو زیادہ نہیں بھائیں تبھی کچھ صارفین نے انہیں حکومت میں رہتے ہوئے شکوے کے بجائے عمل کی راہ دکھائی۔ ملک محمد فیاض نامی صارف نے لکھا کہ ’بھائی صاحب، آپ لوگوں کی ہی حکومت ہے، پتہ نہیں آپ لوگوں کو اس بات کا احساس کب ہو گا۔ انہوں نے فواد کو یاد دلوایا کہ سیاسی تقریروں میں استعمال کیے جانے والے جملوں اور الفاظ پر گرفت کرنا سوشل میڈیا کا وطیرہ ہے اور اسکے پیچھے کوئی سازش کارفرما نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button