حکومتی اتحادی ایم کیوایم اور ق لیگ کہیں نہیں جا رہی

وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم اور ق لیگ کہیں نہیں جا رہے. چودھری برادران حکومت کے ساتھ تھے، ساتھ ہیں اورساتھ ہی رہیں گے.
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگلے ہفتے ایم کیو ایم سے ملنے جاؤں گا اور چودھری برادران بڑے بھائیوں جیسے ہیں، چودھری صاحبان کے بیانات پڑھ کر حیرت ہوئی. باقیوں کا نہیں کہہ سکتا تاہم حکومتی اتحادی (ق) لیگ اور ایم کیو ایم کہیں نہیں جا رہے وہ حکومت کے ساتھ ہی رہیں گے۔ نواز شریف کی واپسی کے حوالے سے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ‘میں نے پہلے ہی واضح کردیا تھا کہ نواز شریف نے واپس آنا نہیں، مریم نے جانا نہیں جبکہ شہباز شریف واپس آسکتے ہیں’۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان سے کہا ہے ہماری اپوزیشن ن لیگ اور پیپلزپارٹی نہیں بلکہ منہگائی ہے، ن لیگ اور پیپلز پارٹی تو ختم ہو چکی ہیں۔
کراچی سرکلر ریلوے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر شیخ رشید کا کہنا تھا کہ کے سی آر کا 6 کلو میٹر کا علاقہ خالی کرانے سے رہ گیا ہے جو خون خرابے والا علاقہ ہے اور عدالت نے نوٹس دیا ہے کہ 15 دن میں کے سی آر کو بحال کرنا ہے، 6 کلومیٹر کے علاقے میں لاکھوں لوگ رہتے ہیں۔ وزیر ریلوے نے کہا کہ خان صاحب کو بتایا ہے کہ 15 دنوں میں کے سی آر کو خالی کرانا مشکل ہے، وزیراعظم نے یہی کہا ہےکہ عدلیہ جس طرح کہہ رہی ہے اس کو مطمئن کریں، کے سی آر میں کوئی واقعہ ہو جاتا ہے تو یہ بات وزیراعظم کے علم میں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کے لیے جا رہا ہوں، چاہتا ہوں کے سی آر کا معاملہ سندھ حکومت اور کراچی کے لوگوں کے ساتھ مل کر طے ہو جائے۔
سانحہ تیز گام پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے نے کہا کہ تیز گام کی رپورٹ کے خدوخال کا جائزہ لے رہے ہیں، تیزگام حادثے کے بارے میں فرانزک رپورٹ کا انتظار ہے۔
شیخ رشید نے کہا کہ سپریم کورٹ میں پیش کی گئی ریلوے آڈٹ رپورٹ ان کے دور کی نہیں اور ان کے دور کی رپورٹ 30 جون سے قبل جمع کرائی جائے گی۔ جب ہماری رپورٹ جمع کرائی جائے گی تو قوم ہم پر الزامات لگائے یا ہماری کارکردگی کو سراہے گی، تاہم پیش کردہ رپورٹ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں’۔ سانحہ تیز گام کے حوالے سے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ‘ریلوے میں ہم نے 3 کمیٹیاں قائم کردی ہیں جو سانحہ تیزگام کے حوالے سے پیش کی گئی رپورٹ کے خدو خال کو دیکھیں گی’۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ‘اختیار تھا کہ سانحہ تیز گام کی رپورٹ کو روک لوں تاہم ہم نے اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کی’۔
واضح رہے کہ رواں ہفتے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریلوے خسارہ کیس میں ادارے کی آڈٹ رپورٹ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر ریلوے کو طلب کرکے ان کی سرزنش کی تھی۔ چیف جسٹس نے وزیر ریلوے کو کہا تھا کہ آپ کا سارا کچا چٹھا ہمارے سامنے ہے، آپ کی انتظامیہ سے ریلوے نہیں چلے گی۔ اسی دوران چیف جسٹس نے سانحہ تیزگام سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ آتشزدگی سے واقعے سے متعلق آپ بتائیں، 70 لوگ جل کر مرگئے، اس پر تو آپ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button