حکومتی اعلان کے برعکس چین سے پاکستانیوں کی واپسی شروع

حکومت پاکستان کی جانب سے چین سے پاکستانیوں کو وقتی طور پر ملک واپس نہ لانے کے اعلان کے برعکس چین سے مختلف پروازوں کے ذریعے 183 پاکستانی اور چینی مسافر 3 فروری کو اسلام آباد پہنچ گئے لیکن چین سے آنے والے کسی پاکستانی یا چینی باشندے میں کرونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی۔ ائیر پورٹ پر سکیننگ اورمیڈیکل چیک اپ کے بعد تمام مسافروں کو گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔ چین میں مہلک کرونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی 375 سے زائد اموات کے بعد پاکستان اور چین کے درمیان منقطع ہونے والا فضائی آمدورفت کا سلسلہ بحال ہونے کے بعد چین سے 3 پروازوں کے ذریعے 40 طلبا سمیت 183 مسافر اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جس میں 172 پاکستانی اور 11 چینی باشندے شامل ہیں۔
چین میں وائرس کے پھیلاؤ کے بعد حکومت پاکستان نے ابتدائی طور پر وہاں موجود پاکستانیوں کو واپس نہ لانے کا فیصلہ کیا تھا اور 29 جنوری 2020 کے روز سے پاک چین فضائی اور زمینی راستے بند کر دئیے گئے تھے۔ تاہم بعد ازاں سوشل میڈیا پر شدید عوامی اور سیاسی رد عمل کے بعد حکومت کی طرف سے فضائی حدود کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ چین سے کوئی پاکستانی 14روز کی اسکریننگ سے پہلے واپس نہیں آرہا، پاکستان میں کورونا وائرس کے 7 مشتبہ کیسز سامنے آئے لیکن کسی میں بھی کرونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی ۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ چین سے آنے والے مسافروں کا ائیرپورٹ پر جائزہ لیا گیا ہے لیکن کوئی ایسا مسافر نظر نہیں آیا جسے آبزرویشن میں رکھنے کی ضرورت ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کی تشخیص ممکن ہو گئی ہے، ائیرپورٹ پر روک تھام کے لیے مزید بہتر انتظامات کریں گے اور اسپتالوں میں بھی منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ قومی ادارہ برائے صحت نے کرونا وائرس کی تشخیص کا آغاز کر دیا ہے۔ کراچی، لاہور، ملتان سے حاصل کیے گئے 6 نمونوں کی جانچ کی جائے گی۔ قومی ادارہ برائے صحت نے چین سے پاکستان آنے والوں کے نمونے لیے ہیں، 24 سے 48 گھنٹے میں رپورٹ آنے کا امکان ہے، دوسری طرف پاکستان میں تعینات چین کے سفیر یاؤژنگ کا کہنا ہے کہ ووہان کے سوا چین کے دیگر شہروں سے پاکستانیوں کوواپس بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاہم کوئی بھی پاکستانی یا چینی طبی معائنہ مکمل کئے بغیر چین نہیں چھوڑ سکتا ۔
یاد رہے کہ چین میں مہلک کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد370 سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 17ہزار ہو گئی ہے۔ وائرس کی وجہ سے گوگل کے بعد ایپل نےبھی چین میں دفاتر عارضی طور پر بند کردئیے ہیں جبکہ چینی حکومت نے تمام تقریبات پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button