حکومتی ایم این ایز عمران سے دور کیوں ہو رہے ہیں؟


اپوزیشن کے ہاتھوں کپتان حکومت کی پارلیمنٹ میں بار بار شکست اور ہزیمت کی بڑی وجہ اس کے منتخب اراکین کی ناراضی کو قرار دیا جا رہا ہے جو ایک جانب اپنے حلقے کے مسائل کی وجہ سے ووٹرز کے غیض و غضب کا شکار ہیں اور دوسری جانب انہیں وزیراعظم عمران خان بھی عزت دینے کو تیار نہیں۔
ان خیالات کا اظہار معروف صحافی نصرت جاوید نے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا یے۔ ان کا مشورہ ہے کہ 11 نومبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کو موخر کرنے سے ہونے والی حکومتی بدنامی کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کو حکومتی اراکین اسمبلی سے طویل مشاورت کا عمل شروع کرنا ہو گا اور ساتھ ہی اپوزیشن جماعتوں کو بھی کچھ عزت دینا ہوگی کیونکہ جمہوری نظام تخت یا تختہ کے اصول کے تحت نہیں چلایا جا سکتا۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالے تین برس گزرچکے ہیں لیکن ابھی تک وہ یہ حقیقت پوری طرح سمجھ نہیں پائے کہ ان کے اقتدار کا اصل منبع قومی اسمبلی میں حکومتی بنچوں پر بیٹھے اراکین ہیں۔ اس وقت بڑا مسئلہ یہ بن چکا ہے کہ عمران کی جماعت کے منتخب لوگ اپنے حلقوں میں جانے کے قابل نہیں رہ گئے چونکہ ان کے ووٹرز ان سے سخت ناراض ہیں، لہذا وہ اپنے ووٹروں سے منہ چھپائے اسلام آباد یا لاہور ہی میں ٹکے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والوں کا موقف ہے کہ جب ان کی اپنی حکومت کے دور میں بھی ان کے کام نہیں ہو رہے تو اس کی ذمہ داری وزیراعظم پر ہی عائد ہوتی ہے۔ اسی لیے حکومت کے غیر مقبول ہونے کا عمل شروع ہوتے ہی اگلے الیکشن کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے اراکین اپنی سیاسی بقاء کے لئے کپتان سے فاصلے بڑھانے اور دوسری جماعتوں کی قیادت کے ساتھ پیار کی پینگیں ڈالنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔
بقول نصرت جاوید، مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر براجمان رکھنے کی طاقت سے مالا مال حکومتی اراکین گزشتہ کئی مہینوں سے نہایت پریشان ہیں۔ ملک اس وقت تاریخی مہنگائی کا شکار ہو چکا ہے اور عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں۔ ہماری معیشت کو بحال کرنے کے لئے کابینہ پر کے سر پر ڈاکٹر حفیظ شیخ بطور وزیر خزانہ مسلط کردیے گئے تھے۔ وہ ڈیروں اور دھڑوں والے اراکین اسمبلی سے ہاتھ ملانابھی گوارا نہیں کرتے تھے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ انہوں نے ایک طویل المدت معاہدے پر دستخط کیے جس کے نتیجے میں لاکھوں لوگ روزگار سے محروم ہوئے۔ بجلی اور گیس کے نرخوں میں گرانقدر اضافہ ہوا۔ روپے کی اوقات دو ٹکے کی ہوگئی۔ عام آدمی کو اپنی زندگی اجیرن ہوتی محسوس ہوئی مگر حکومت ان کی مشکلات سے غافل نظر آئی بلکہ اُلٹا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کی حکومتوں ہی کو عوامی مشکلات کا ذمہ دار ٹھہراتی رہی حالانکہ بنیادی ضرورت ایسی پالیسیاں بنانے کی تھی جو عوام کو امید دلاتیں۔
نصرت جاوید کے بقول اصل المیہ یہ ہے کہ عمران خان عوامی مزاج کو کماحقہ سمجھنے کے لئے حکومتی بنچوں پر بیٹھے اراکین اسمبلی سے مسلسل رابطے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ اپنی اہمیت جتلانے کے لئے ان کی جماعت سے وابستہ لوگوں نے خاموشی سے یوسف رضا گیلانی کو ڈاکٹر حفیظ شیخ کے مقابلے میں قومی اسمبلی سے سینٹ کے لئے منتخب کروا دیا۔ کم از کم عمران کو اس انتخابی اپ سیٹ کے بعد حکومتی اراکین سے مسلسل رابطے کی اہمیت سمجھنی چاہیے تھی مگر وہ اس جانب مائل ہی نہ ہوئے اور بدستور اسی غلط فہمی میں مبتلا رہے کہ جب بھی کسی معاملے پر پارلیمان میں حکومتی اراکین کے ووٹ کی ضرورت پڑے گی تو ریاستی قوت انہیں بھیڑوں کے غول کی طرح قومی اسمبلی میں لے آئے گی۔ لیکن اب وہ لوگ بھی جا رہے ہیں جو عمران کے لئے بھیڑوں کے یہ غول اکٹھے کیا کرتے تھے۔ نصرت کہتے ہیں کہ حکومتی رعب کی قلعی تو حال ہی میں تب مضحکہ خیز انداز میں کھل گئی جب تمام تر بڑھکوں کے باوجود تحریک لبیک کو ٹھنڈا کرنے کے لئے مفتی منیب سے رجوع کرنا پڑا۔ اس پسپائی سے حکومتی رٹ اور رعب ہوا میں تحلیل ہوگیا۔ ان حالات میں بھی یہ کامل خوش گمانی تھی کہ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس ہو اور حکومتی اراکین اس میں شریک ہو کر 30 کے قریب ایسے قوانین کو منظور کرنے کے لئے غلاموں کی طرح انگوٹھے لگاتے نظر آئیں جو عوامی مسائل کا کوئی ٹھوس حل فراہم نہیں کرتے۔ آئندہ الیکشن میں الیکٹرانک مشین کے ذریعے ووٹ ڈالنے جیسے کپتان کے خواب اب ادھورے رہتے دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف گزشتہ کئی ہفتوں سے قومی اسمبلی کے اجلاس محض اس وجہ سے مؤخر ہوتے رہے کہ حکومتی بنچوں پر کورم کو یقینی بنانے والے 86 اراکین موجود نہیں ہوتے تھے۔ 9 نومبر کو قومی اسمبلی میں مختلف سوالات پر دوبار ووٹنگ ہوئی، دونوں مرتبہ حکومت اپنی اکثریت ثابت نہ کر پائی اور شکست سے دوچار ہوئی۔ اس کے باوجود حکومت مصر رہی کہ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلاکر 30 متنازعہ قوانین کو یکمشت منظور کروالیا جائے۔ نصرت جاوید کہتے ہیں کہ 10 نومبر کے روز مجوزہ اجلاس کے لئے اپنے بنچوں پر اکثریت کو یقینی بنانے کے لئے بھاگ دوڑ شروع ہوئی تو حکومت کو پہلا دھچکا وزیر اعظم کی سپریم کورٹ طلبی سے لگا، ہماری سیاسی تاریخ میں وزرائے اعظم کی سپریم کورٹ میں طلبی کبھی خیر کی خبر ثابت نہیں ہوئی۔ یوسف رضا گیلانی اور نواز شریف ایسی طلبی کے بعد ہی بالآخر اقتدار سے فارغ ہوئے تھے۔ چنانچہ عمران خان بھی 10 نومبر کے روز اسی راہ کی جانب بڑھتے ہوئے نظر آئے۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ 11 نومبر والی شکست کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیتے ہوئے عمران خان کو اب حکومتی اراکین اسمبلی سے طویل مشاورت کا عمل شروع کرنا ہو گا۔ ان کی مشاورت کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کوبھی تھوڑی عزت دینا ہوگی۔ جمہوری نظام تخت یا تختہ کا رویہ اختیار کرتے ہوئے چلا یا ہی نہیں جاسکتا۔ سیاست ہمیشہ لچک اور درمیانی راستہ ڈھونڈنے کا تقاضا کرتی ہے نہ کہ جو جی میں آیا کر گزریں۔۔۔

Back to top button