نور مقدم کی سی سی ٹی وی فوٹیجز کیوں لیک کی گئیں؟

https://youtu.be/KAk5z1WAsQs

سوشل میڈیا پر حال ہی میں وائرل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز سے ثابت ہوگیا ہے کہ اسلام آباد میں قتل ہونے والی نور مقدم دراصل ظاہر جعفر کے گھر پر یرغمالی تھی اور قاتل نے اپنے سٹاف کی مدد سے اسکے فرار کی کئی کوششیں ناکام بنائیں جسکے بعد اس قتل کر دیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ سی سی ٹی وی فوٹیجز پولیس ذرائع نے میڈیا کو لیک کیں جس کا مقصد سمجھ نہیں آیا لیکن پیمرا حکام نے مین سٹریم میڈیا کو یہ ویڈیوز نشر کرنے سے منع کر دیا ہے۔ اس حکم نامے کا بھی کوئی جواز سمجھ نہیں آ سکا۔ تاہم ان ویڈیوز سے ارب پتی امیر خاندان کا بگڑا ہوا سپوت ظاہر جعفر قاتل ضرور ثابت ہو جاتا ہے۔ یاد رہے کہ قاتل نے سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لڑکی کا سر تن سے جدا کر دیا تھا۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سفاک قاتل ظاہر جعفر اپنے کمرے کی کھڑکی سے کود کر مرکزی دروازے تک پہنچ جانے والی نور مقدم کو کس طرح دبوچ کر دوبارہ واپس اندر لے جاتا ہے۔ فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ نور مقدم قید سے فرار کی کوشش میں گھر کے گیٹ تک آ جاتی ہے لیکن وہاں موجود سکیورٹی گارڈ اسے باہر نہیں جانے دیتا اور وہ ڈر کے مارے سیکیورٹی گارڈ کے کیبن میں ہی چھپ جاتی ہیں۔ ایک اور سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 18 جولائی 2021 کو رات 10 بج کر 18 منٹ پر نور ملزم ظاہر جعفر کے سیکٹر ایف سیون اسلام آباد میں واقع گھر کے مرکزی گیٹ سے اندر داخل ہوتی ہے۔ اس دوران وہ اپنے موبائل فون پر کسی سے بات کرتے ہوئے نظر آتی ہے۔ گیٹ پر ایک چوکیدار بھی کھڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 19 جولائی 2021 کی رات دو بج کر 39 منٹ پر ظاہر جعفر اور نور مقدم بڑے بیگ لے کر گھر کے گیٹ سے باہر نکلتے ہیں اور دو بج کر 40 منٹ پر باہر کھڑی ٹیکسی میں سامان رکھ کر واپس گھر کے اندر داخل ہو جاتے ہیں۔ رات دو بج کر 41 منٹ پر نور مقدم انتہائی گھبراہٹ اور خوف کی حالت میں ننگے پاﺅں گھر کے اندر سے نکل کر گیٹ کی طرف بھاگتی ہوئی نظر آتی ہے۔ لیکن چوکیدار افتخار گیٹ کو بند کر دیتا ہے تاکہ وہ باہر نہ نکلیں سکے۔ اس دوران ظاہر جعفر گھر کے اندر سے تیزی سے گیٹ کی طرف آتا ہے اور نور کو دبوچ لیتا ہے، اس موقع پر نور ہاتھ جوڑ کر منت سماجت کرتی نظر آتی ہے جس کی پروا نہ کرتے ہوئے ظاہر جعفر اسے زبردستی گھسیٹ کر گھر کے اندر لے جاتا ہے۔ رات دو بج کر 46 منٹ پر ظاہر اور نور گھر سے نکل کر مرکزی گیٹ پر آتے ہیں اور گلی میں کھڑی ٹیکسی میں بیٹھ کر چلے جاتے ہیں۔ لیکن رات دو بج کر 52 منٹ پر ظاہر اور نور اپنے بیگ لے کر گھر کے گیٹ سے واپس داخل ہو کر گھر میں جاتے نظر آتے ہیں۔ مرکزی گیٹ پر چوکیدار افتخار بھی موجود ہوتا ہے، گھر کے صحن میں کالے رنگ کا کتا بھی نظر آ رہا ہے۔
اگلے روز 20 جولائی کو شام سات بج کر 12 منٹ پر نور گھر کے فرسٹ فلور سے چھلانگ لگا کر گراﺅنڈ فلور کی گیلری کے ساتھ لگے جنگلے پر گرتی نظر آتی ہیں اس دوران نور کے ہاتھ میں موبائل فون بھی ہوتا ہے۔ وہ لڑکھڑاتی ہوئی مرکزی گیٹ کے پاس آتی ہے اور باہر جانے کی کوشش کرتی ہیں۔ لیکن گیٹ پر موجود چوکیدار افتخار اسے باہر نہیں جانے دیتا اور وہ گیٹ کو بند کر دیتا ہے۔ اسی دوران ظاہر جعفر گھر کے فرسٹ فلور کے ٹیرس سے چھلانگ لگا کر گراؤنڈ فلور پر آ جاتا ہے اور دوڑ کر گیٹ کے قریب گارڈ کے کیبن میں چھپی نور مقدم کو کھینچ کر باہر نکالتا ہے۔ پھر وہ اس کا موبائل فون چھینتا ہے اور زبردستی کھینچ کر گھر کے اندر لے جاتا نظر آتا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس عمل کے کچھ دیر بعد ہی اس نے نور کو تیز دھار آلے سے گردن کاٹ کر مار دیا تھا۔ یاد رہے کہ نور مقدم پاکستان کے ایک سابق سفیر کی بیٹی تھی جس کے مقدمہ قتل میں ظاہر جعفر، اس کے والد اور والدہ کے خلاف عدالت میں چالان پیش کیا جا چکا ہے۔ معروف کاروباری ادارے جعفر گروپ کے مالک اور آدم جی فیملی سے تعلق رکھنے والی انکی اہلیہ کے خلاف اعانت جرم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں کیونکہ دونوں جانتے تھے کہ نور ان کے بیٹے ظاہر جعفر کی یرغمالی ہے۔ تاہم دونوں نے مقتولہ کی جان بچانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

Back to top button