حکومتی ایم این اے اور جسٹس عیسیٰ کے مابین کیا واقعہ ہوا؟

حکومتی ایم این اے اکرم چیمہ کی گرفتاری کے واقعے بارے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا موقف سامنے آگیا ہے جنہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب اسلام آباد میں عدالت تک تھوڑا سا پیدل چل کر جانا بھی ایک آزمائش بن گیا ہے۔
یاد رہے کہ 28 اکتوبر کو یہ خبر ذرائع ابلاغ کی زینت بنی کہ تحریکِ انصاف کے ایم این اے اکرم چیمہ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی شکایت پر اسلام آباد پولیس نے حراست میں لے لیا تاہم اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی مداخلت پر انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔ اپنے اور حکمراں جماعت کے رکن قومی اسمبلی محمد اکرم چیمہ کے درمیان پیش آنے والے واقعے کے بارے میں منظر عام پر آنے والے ایک خط میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے افسوس کا اظہار کیا کہ اس روز سینکڑوں پولیس اہلکار ڈیوٹی پر تھے لیکن دارالحکومت کے ریڈ زون میں شاہراہ دستور پر قومی اسمبلی کے سامنے پارک مشتبہ جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی کو کسی نے نہیں دیکھا۔ معززجج کے دو صفحات پر مشتمل خط میں کسی کا نام لیے بغیر کہا گیا کہ وہ اس معاملے کی حقیقت کو ظاہر کرنے اور جواب دینے کے لیے مجبور ہیں ورنہ ان کی خاموشی کورنگی، کراچی سے منتخب رکن قومی اسمبلی کے لمبے چوڑے افسانوں کو ثابت کر سکتی ہے۔
تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی اکرم چیمہ اور وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی مشترکہ پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے جسٹس عیسیٰ نے اپنے خط میں اس بات کی تردید کی کہ انہوں نے گاڑی میں موجود افراد کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک ’جعلی نمبر پلیٹ‘ والی مشتبہ گاڑی کو قانون کے تحت ضبط کیا جاسکتا تھا کیونکہ اس کی کسٹم ڈیوٹی اور دیگر ٹیکس ادا نہیں کیے گئے تھے، جسٹس عیسی نے یہ بھی لکھا ہے کہ ’دھمکی، بدسلوکی، جھوٹ اور پریس کانفرنسز جھوٹ خو سچ ثابت نہیں کرتیں‘۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خدشہ ظاہر کیا کہ بعض حلقے ’سچ کو چھپانے‘ کے لیے ان پر حملہ کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انخے ساتھ بدسلوکی کا سلسلہ تب سے شروع ہے جب انہوں نے ایک عدالتی فیصلہ لکھا جو بعض حلقوں کے لیے درست نہیں تھا۔ انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ میرے اور میرے خاندان کے خلاف استعمال کیے جانے والے ہتھکنڈے، میری جان کو لاحق خطرات اور برتی جانے والی بدسلوکی مجھے قانون کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنے سے نہیں روک سکتی۔
اپنے خط میں جسٹس عیسیٰ نے کہا کہ یہ میرا فرض ہے، اورہرشہری اور ٹیکس دینے والے کو بھی اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ قانون کا احترام کیا جائے۔ خط میں وضاحت کی گئی کہ دو افراد، جن سے میں نے پہلے کبھی ملاقات نہیں کی اور نہ ہی انہیں پہچانتا تھا، قومی اسمبلی کے سامنے شاہراہ دستور پر کھڑی گاڑی میں موجود تھے۔ گاڑی میں ایک بڑا اینٹینا لگا تھا جس کی اجازت صرف مسلح افواج کے اہلکاروں کی گاڑیوں کو ہی ہوتی ہے جبکہ اسمبلی کے سامنے شاہراہ دستور پر پارکنگ کی اجازت بھی نہیں ہے۔ خط میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی کے سامنے ہمیشہ کی طرح متعدد پولیس اہلکار موجود تھے لیکن ان میں سے کسی نے بھی گاڑی کے ڈرائیور کو گاڑی ہٹانے کی ہدایت نہیں کی اور نہ ہی اس مشکوک گاڑی کی رجسٹریشن اور ڈرائیور کا لائسنس بک چیک کیا۔ جب گاڑی میں موجود افراد سے کہا گیا کہ وہ اپنی شناخت بتائیں تو انہوں نے سوال کیا کہ وہ کون ہیں؟ اس پر جسٹس عیسی نے خود کو جج کے طور پر شناخت کرائے بغیر بتایا کہ وہ ایک شہری اور ٹیکس دہندہ ہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ ’میں نے کالی ٹائی یا کالا کوٹ نہیں پہنا تھا بلکہ میں نے نیلی جیکٹ پہن رکھی تھی‘۔ ان کا خیال تھا کہ مشکوک افراد اور ان کی گاڑی کسی مجرمانہ سرگرمی میں ملوث ہو سکتی ہے کیونکہ اس پر جعلی نمبر پلیٹیں تھیں چنانچہ انہوں نے اپنے موبائل فون سے گاڑی اور اس میں سوار افراد کی تصویر کھینچی اور اس کے بعد وہ سپریم کورٹ چلے گئے۔ خط میں بتایا گیا کہ جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑی قومی اسمبلی کی عمارت میں داخل ہوئی اور پھر باہر نکل آئی، ایک شخص گاڑی سے اترا، ان کی طرف بڑھا اور انہیں گندی گالیاں دیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ’میں نے اسکے باوجود انہیں نظر انداز کیا، خاموش رہا اور سپریم کورٹ کی طرف چلتا رہا‘۔دریں اثنا ایم این اے اکرم چیمہ نے اس واقعے پر قومی اسمبلی کے رولز آف پروسیجرز اینڈ کنڈکٹ آف بزنس کے رول 97 کے تحت قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں تحریک استحقاق جمع کرائی اور معاملے کی جانچ کے لیے قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط کے حوالے کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
تاہم حکومت ماضی کی طرح اس معاملے کو بھی جسٹس فائز عیسیٰ کی شہرت خراب کرنے کے لیے استعمال کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے۔

Back to top button