حکومتی دوغلی پالیسی، پولیس کا مورال لے ڈوبی

تحریک لبیک لانگ مارچ کے مظاہرین سے نمٹنے کی دوغلی حکومتی پالیسی کا براہ راست اثر نہ صرف پولیس فورس کے مورال پر پڑ رہا ہے بلکہ پولیس کی قیادت کو بھی یہ یقین نہیں کہ آج وہ جنہیں روکنے کیلے سڑکوں پر نکلے ہیں کل کو انکے ہاتھوں مرنے کے بعد ان کے اپنے خون کا حساب بھی لیا جائے گا یا ماضی کی طرح اس کا سودا کر دیا جائے گا؟
محض چند ماہ کے وقفے سے لاہور میں دوسری مرتبہ تحریکِ لبیک کے کارکنان اور پولیس فورس کے درمیان پرتشدد جھڑپیں ہوئیں جن میں کئی پولیس والے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
رواں برس اپریل میں ٹی ایل پی کے کارکنان اور پولیس کے درمیان پرتشدد کارروائیاں شہر کے مختلف مقامات پر ہوئیں اور تین روز تک جاری رہیں۔ اس دوران پولیس کا جانی نقصان اس مرتبہ سے زیادہ ہوا تھا۔ تاہم بعد میں حکومت اور تحریکِ لبیک کے درمیان بات چیت کے نتیجے میں معاہدہ طے پا گیا تھا اور کسی مقتول پولیس والے کے قاتل کے خلاف کوئی ایکشن نہ ہوا۔ ایسا دنیا کے کسی بھی ملک میں نہیں ہوتا کیونکہ اگر آپ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے قاتلوں کو معاف کر دیتے ہیں تو پھر آپ کسی بھی صورت ریاست کی رٹ قائم نہیں کر سکتے۔ یہی وہ دوغلی پالیسی ہے جس کے نتیجے میں پولیس قیادت اور پولیس فورس کا مورال اس وقت صفر ہو چکا ہے۔ اس وقت تحریک لبیک کا لانگ مارچ اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہے اور اس کی اگلی منزل جہلم ہے جہاں حکومت نے پولیس کو جلوس ہر صورت روکنے کا حکم دیا ہے۔ دوسری جانب حکومتی نمائندوں کے تحریک لبیک کے قیادت کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں حالانکہ چند روز پہلے ہی حکومت نے تحریک لبیک سے مذاکرات ختم کر کے اسکے ساتھ ایک عسکریت پسند تنظیم کی طرح نمٹنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی اس وقت سہالہ ریسٹ ہاؤس میں ایک مہمان کی حیثیت سے موجود ہیں جہاں حکومتی نمائندوں کے ساتھ انکے مذاکرات جاری ہیں۔ یاد رہے کہ سعد رضوی پچھلے کئی ماہ سے سے زیرحراست ہیں۔
اس سے پہلے جب لاہور سے تحریک لبیک کا مارچ روانہ ہوا تھا تو حکومت کی طرف سے پہلے پولیس کو اسے روکنے کے احکامات جاری کیے گئے۔ روکنے کی پہلی کوشش میں پولیس کے دو اہلکار ایم اے او کالج کے مقام پر ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔ دوسری کوشش میں مزید پولیس والے اقبال پارک کے مقام پر زخمی ہوئے۔ ان کارروائیوں کے دوران چار پولیس اہلکار ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ اس کے بعد ایک مرتبہ پھر حکومت نے ٹی ایل پی کی قیادت سے مذاکرات کے ذریعے معاملات نمٹانے کے لیے بات چیت کا آغاز کر دیا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر مظاہرین اور حکومت کے درمیان کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو حالیہ عرصے میں زخمی اور ہلاک ہونے والے پولیس اہلکاروں سے متعلق بنائے گئے مقدمات کا کیا ہو گا اور اگر یہ مقدمات ختم ہوتے ہیں یا ان پر کوئی پیشرفت نہیں ہوتی تو اس کا پولیس کے مورال پر کیا اثر پڑے گا؟
حال ہی میں سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ رات کے وقت مظاہروں پر ڈیوٹی دینے والے پولیس اہلکاروں سے خطاب کر رہے تھے اور ان کا حوصلہ بڑھا رہے تھے۔اس خطاب کے دوران ایک مقام پر انھوں نے اہلکاروں سے کہا کہ ’۔۔۔ کسی ساتھی کو چوٹ لگی، تو ہم اس کا بدلہ لیں گے۔‘ تاہم ان کے خطاب کا مقصد پولیس اہلکاروں کا حوصلہ بڑھانا تھا جس میں وہ اس بات پر زور دیتے رہے کہ ’ریاست کی حفاظت کرنا پولیس کا فرض ہے جو وہ پورا کریں گے۔‘ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ایسا کہتے وقت انہیں خود بھی یقین نہیں تھا کہ وہ پولیس اہلکاروں کو زخمی کرنے اور جان سے مارنے والوں سے بدلہ لے پائیں گے یا نہیں۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ پولیس فورس میں یہ تشویش پائی جاتی ہے کہ جب انکے ساتھی جوان شہید ہو جاتے ہیں تو حکومت نہ صرف تحریک لبیک والوں سے صلح کر لیتی ہے بلکہ گرفتار کیے گئے افراد کو چھوڑ بھی دیا جاتا ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ پولیس کو سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے سامنے کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں ان کا جانی نقصان بھی ہوتا ہے اور اس کے بعد کسی نہ کسی معاہدے کی صورت میں مجرمان قانونی ایکشن سے بھی بچ جاتے ہیں۔ اس پولیس افسر کے مطابق ان تمام تر واقعات کو پولیس کا ہر ایک اہلکار بھی دیکھ رہا ہوتا ہے اور قدرتی طور پر اہلکاروں کے جذبے پر اس کا اثر پڑتا ہے۔
تاہم پنجاب پولیس کے ایک دوسرے افسر کے مطابق پنجاب پولیس کے اندر اس حوالے سے دو مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ ایک حلقے کے خیال میں جو بھی حکومتی احکامات ہوں پولیس کے محکمے کے لیے ان پر عملدرآمد لازم ہے ’چاہے اس میں انھیں جان کی قربانی ہی کیوں نہ دینی پڑے۔‘
تاہم دوسرے حلقے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ’سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے انھیں استعمال کیا جاتا ہے۔‘
پولیس کے سابق انسپکٹر جنرل اور سابقہ وزیرِ داخلہ پنجاب شوکت جاوید نے بتایا کہ پولیس کو جانی نقصان کا سامنے کرنے اور ان میں غم و غصہ پایا جانے کی وجہ حکومت کی پالیسیوں میں تذبذب کا ہونا ہو سکتا ہے۔ جب حکومت ایک دفعہ پولیس کو مظاہرین کو طاقت سے روکنے کا کہتی ہے اور پھر ان سے مذاکرات شروع کر دیے جاتے ہیں، تو اس دوغلی پالیسی میں نقصان پولیس کا ہوتا ہے۔ ان کے خیال میں حالات کا براہِ راست اثر پولیس کے جوانوں کے مورال پر بھی پڑتا ہے۔ شوکت جاوید کے خیال میں اس قسم کے حالات میں ضرورت اس بات کی ہوتی ہے کہ حکومت ایک واضح پالیسی کے ساتھ سامنے آئے اور پھر اس پر قائم رہے۔ اگر مظاہرین کر روکنا ہوتا ہے تو پھر واضح طور پر پولیس کو معلوم ہونا چاہیے کہ انھیں روکنا ہے تاکہ اس کے مطابق حکمتِ عملی تیار کی جائے اور ان کو روکا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسری طرف اگر حکومت مظاہرین کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے نمٹنے کا ارادہ رکھتی ہو تو پھر آغاز ہی سے پولیس کے ذریعے طاقت کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ وفاقی حکومت نے پنجاب میں دو ماہ کے لیے رینجرز کو تعینات کر کے انھیں انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے تحت اختیارات بھی دے دیے ہیں اور پولیس کو رینجرز کے ماتحت کر دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان وزیر داخلہ شیخ رشید وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا اس پر اتفاق ہے کہ اب تحریک لبیک محض ایک مذہبی جماعت نہیں رہی، یہ ایک شدت پسند جماعت بن چکی ہے جو شدت پسندی کو فروغ دے رہی ہے۔ اسکے کارکنان جب چاہتے ہیں باہر نکل کر سڑکیں بند کر دیتے ہیں اور اپنے مطالبات منوا کر واپس چلے جاتے ہیں۔ شوکت جاوید کے خیال میں اب حکومت کو اس جماعت کے حوالے سے ایک واضح پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے۔ انہیں حکومت کی جانب سے رینجرز کو پنجاب میں تعینات کرنے کے حکومتی فیصلے کی منطق بھی سمجھ نہیں آئی۔ ان کے خیال میں پولیس مظاہرین کو روکنے کا کام بخوبی انجام دے سکتی تھی تاہم رینجرز کے برعکس پولیس پر حملے کی صورت میں پولیس کے پاس جواباً گولی چلانے کے اختیارات نہیں تھے۔ پولیس کے پاس ایسے مظاہروں میں دو ہی ہتھیار ہوتے ہیں، لاٹھی اور آنسو گیس کی شیلنگ۔ آنسو گیس لوگوں کو منتشر کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے تاہم آپ کتنی گیس استعمال کر سکتے ہیں، کتنا لاٹھی چارج کر سکتے ہیں۔ یہاں کوئی دو چار سو لوگ نہیں، ہزاروں لوگ ہوتے ہیں۔
ان کے خیال میں ایسی صورت میں جب کئی ہزار افراد حملہ آور ہو جائیں تو لاٹھی اور آنسو گیس کام نہیں آتی۔ اس صورتحال میں پولیس ہو یا رینجرز ان کو بھاگنا ہی پڑے گا ورنہ وہ تشدد کا نشانہ بنیں گے اور زخمی ہوں گے۔ پولیس افسر کے خیال میں پولیس اہلکار ایسی صورتحال میں گولی نہیں چلاتے۔ ماڈل ٹاؤن کے واقعے کے بعد سے کوئی بھی پولیس افسر اس طرح کی ذمہ داری نہیں لیتا اور نہ ہی ایسے معاملے میں پھنسنا چاہتا ہے۔ لہازا شوکت جاوید کے مطابق حکومت کی نیم فوجی دستوں کی پنجاب میں پولیس کے اوپر تعیناتی کی پالیسی غلط ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر میں آج آئی جی پولیس ہوتا تو کبھی بھی نیم فوجی دستوں کو طلب نہ کرنے دیتا کیونکہ نیم فوجی دستے ہمیشہ پولیس کی معاونت میں کام کرتے ہیں نہ کہ پولیس ان کے ماتحت کام کرتی ہے۔ ان کے خیال میں پولیس کے لیے ٹی ایل پی کے حالیہ لانگ مارچ جیسے مظاہرے کو روکنا یا منتشر کرنا زیادہ مشکل کام نہیں۔ جب آپ حکمتِ عملی کے ساتھ مظاہرین کے مرکزی رہنماؤں کو گرفتار کر لیتے ہیں تو اسکے بعد زیادہ تر مظاہرین خود بخود منتشر ہو جاتے ہیں۔ پولیس فورس بخوبی یہ کام کر سکتی ہے اگر اس کا مورال بلند ہو اور اسے پتہ ہو کہ حکومت اس کے ساتھ ہے۔
