حکومت اور اپوزیشن کے مابین ٹف میچ کا امکان

آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین متنازعہ بلوں کی منظوری کے معاملے پر ووٹنگ کے دوران میچ پڑنے کا امکان ہے. اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سینیٹ اور قومی اسمبلی کے 440 ممبران کو دیکھا جائے تو حکومتی اتحاد کے پاس 221 اراکین کی سپورٹ موجود ہے جبکہ اپوزیشن اتحاد کو مجموعی طور پر 219 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ یعنی حکومتی اتحاد کو دو ووٹوں کی برتری حاصل ہے لہٰذا ایک سخت مقابلے کا امکان ہے.
حکومت اور اپوزیشن آج پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں آمنے سامنے ہوں گے، حکومت انتخابی اصلاحات، الیکٹرانک ووٹنگ مشین، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے اور کلبھوشن یادیو سے متعلق بل سمیت 27 بلز منظور کرانے کی کوشش کرے گی جب کہ اپوزیشن بھی ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 54 کی شق 1 کے تحت قومی اسمبلی اور سینیٹ کا مشترکہ اجلاس آج دن بارہ بجے طلب کرلیا ہے، حکومت اور اپوزیشن اپنی اپنی مشاورت مکمل کرکے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔
حکومت کی الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) اور سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سیمت 27 بلز کو ایک ساتھ منظور کرانے کی پلاننگ طے ہے، اپوزیشن نے بھی بھرپور حاضری کے ساتھ حکومتی بزنس کو ڈسٹرب کرنے کا پلان مرتب کرلیا۔
قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کو ق لیگ، ایم کیو ایم، بی اے پی اور شیخ رشید سمیت 180 ارکان کی حمایت حاصل ہے، اپوزیشن کو قومی اسمبلی میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، ایم ایم اے سمیت 161 ارکان کی حمایت حاصل ہے، سینیٹ ارکان میں اپوزیشن اتحاد کو 51 جب کہ حکومتی اتحاد کو 48 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔
اپوزیشن کی جانب سے پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر کا شدید علالت کے باعث حاضر نہ ہونے کا امکان ہے، مسلم لیگ ن کی شائستہ پرویز ملک کی بھی شوہر کی رحلت کے باعث شرکت کا امکان کم ہے، آزاد رکن علی وزیر کی بھی عدم حاضری کا امکان ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جتنی مرضی کوشش کرلے، ہم قانون سازی کرکے کامیاب ہوں گے، دوسری جانب اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ آج ایک بار پھر اپوزیشن کی جانب سے بھی سرپرائز ملے گا، اپوزیشن کو امید ہے کہ یوسف رضا گیلانی جس طرح سینیٹ الیکشن جیتے ویسے ہی ایک دھچکا حکومت کو اور لگنے والا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل 11 نومبر کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا تھا تاہم حکومت کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے تحفظات پر اجلاس ملتوی کردیا گیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اہم معاملات پر اپوزیشن سے مشاورت کے لیے تھوڑا اور وقت دے رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے قومی اسمبلی میں بلوں کی منظوری کے لیے دو تحاریک پر ووٹنگ کے دوران حکومت کو دو بار شکست دینے والے اپوزیشن ارکان اس بار کم پرجوش اور مایوس دکھائی دے رہے ہیں۔اس حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے کہ اتحادیوں کے تحفظات کی وجہ سے بلوں کو مشترکہ اجلاس سے منظور کرانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، حکومت نے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کے ذریعے اپوزیشن کو مشغول کیا تاکہ ووٹ کے لیے اپنے اتحادیوں کو سنبھالنے اور انہیں راضی کرنے کے لیے کچھ وقت مل سکے۔
پارلیمنٹ میں پارٹی پوزیشن ظاہر کرتی ہے کہ اگر دونوں ایوانوں کو ایک ساتھ ملایا جائے تو حکومت میں صرف دو ووٹوں کی اکثریت ہے۔پارٹی پوزیشن کے مطابق 440 رکنی مشترکہ ایوان میں اپوزیشن ارکان کی تعداد 221 کے مقابلے میں 219 بنتی ہے۔اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ حکمران اتحاد کو قومی اسمبلی میں 17 ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے جبکہ سینیٹ میں وہ اپوزیشن سے 15 ووٹوں سے پیچھے ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری منگل کی شام اسلام آباد پہنچ گئے جب کہ ان کے والد و رکن قومی اسمبلی آصف علی زرداری پہلے ہی دارالحکومت میں موجود ہیں۔پیپلز پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ ان کے کم از کم تین ارکان مشترکہ اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں گے۔
سینئر پارٹی رہنما سید نوید قمر اور سینیٹر سکندر میندھرو علالت کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے جب کہ پی پی پی کے ایک اور سینئر ایم این اے نواب یوسف تالپور اس وقت لندن میں ہیں۔
اسی طرح مسلم لیگ (ن) کی شائستہ پرویز ملک کے بھی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا امکان ہے کیونکہ وہ اپنے شوہر پرویز ملک جو کہ پارٹی کے ایم این اے تھے، کی وفات کی وجہ سے عدت گزار رہی ہیں۔
پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی کی سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزدگی کے وقت 6 آزاد امیدواروں کا ایک گروپ، جنہوں نے اپوزیشن بینچز پر بیٹھنے کا انتخاب کیا تھا، نے بھی حکومت کے لیے ووٹ دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
پی پی پی کے ایک سینئر رہنما نے بتایا کہ گروپ کے ارکان نے اپوزیشن جماعتوں کے حالیہ اجلاسوں میں شرکت نہیں کی تھی۔پیر کو ایک اجلاس میں اپوزیشن کی اتحادی جماعتوں کے سربراہان نے ان رپورٹس پر تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ریاستی ادارے حکومت کے اتحادیوں کو حکومت کے مجوزہ متنازع بلوں کے حق میں ووٹ دینے کے لیے ’مجبور‘ کر رہے ہیں۔
پی ڈی ایم کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ’پی ڈی ایم، ریاستی اداروں کی طرف سے اس قسم کی مداخلت کو منظور نہیں کرتی اور اس طرح کے عمل کو آئین کی خلاف ورزی سمجھتی ہے‘۔پی ڈی ایم رہنماؤں نے ریاستی اداروں کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی آئینی حدود میں رہیں اور ’عوام کے صبر کا امتحان نہ لیں‘۔پی ڈی ایم نے پہلے ہی اشارہ دیا ہے کہ وہ مشترکہ اجلاس سے منظور شدہ متنازع بلوں کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر سکتی ہے اور اس نے اس مقصد کے لیے پہلے ہی دو رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔اجلاس کے بعد پی ڈی ایم کی جانب سے کیے گئے ایک اعلان کے مطابق اپوزیشن اتحاد کے رہنما انتخابات میں ای وی ایم کے استعمال، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اختیارات میں کمی اور قومی احتساب آرڈیننس میں ترمیم سے متعلق بلوں کو چیلنج کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
