حکومت عمران کے استعفوں والی موو کیسے کاونٹر کرے گی؟

سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے قومی اسمبلی کے بعد اب صوبائی اسمبلیوں سے بھی استعفے دینے کے اعلان کے پیش نظر اہم ترین سوال یہ ہے کہ حکمران پی ڈی ایم اتحاد اس موو کو کیسے کاوئنٹر کرے گا اور اسمبلیوں کو تحلیل ہونے سے کیسے بچائے گا تاکہ استعفوں کی صورت میں ان صوبوں میں اپنی حکومتیں بنائی جا سکیں۔ خیال رہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کے علاوہ تحریک انصاف کی گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی حکومتیں ہیں اور اگر واقعی استعفے دینے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو پھر عمران کی کوشش ہوگی کہ ان چاروں اسمبلیوں کو توڑ دیا جائے تاکہ استعفوں کے بعد پی ڈی ایم اتحاد مرکز کی طرح یہاں بھی اپنی حکومتیں نہ بنا پائے۔ چنانچہ اتحادی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج اسمبلیوں کو تحلیل ہونے سے بچانا ہوگا۔

یاد رہے کہ عمران خان نے اپریل 2022 میں بھی اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد دائر ہونے کے بعد سپیکر کو ساتھ ملا کر صدر عارف علوی سے قومی اسمبلی تڑوا لی تھی، لیکن سپریم کورٹ نے اس اقدام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسمبلی بحال کر دی تھی۔ قومی اسمبلی کی بحالی کے بعد عمران خان نے شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی اسمبلی سے استعفے دے دیئے تھے۔ تاہم شہباز شریف نے وزیراعظم بن کر اتحادی حکومت تشکیل دے دی تھی جو ابھی تک چل رہی ہے۔ ایسے میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ عمران خان پنجاب، خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی اسمبلیاں توڑنے کی کوشش کریں گے، تاکہ پی ڈی ایم وہاں اپنی حکومتیں قائم نہ کر پائے۔ لہٰذا پی ڈی ایم کے لیے سب سے بڑا چیلنج ان صوبائی اسمبلیوں کو ٹوٹنے سے بچانا ہوگا۔

یاد رہے کہ حکومتی وزرا عمران خان کے فوری نئے الیکشن کی ڈیمانڈ پر یہ مطالبہ کرتے چلے آئے ہیں کہ وہ پہلے خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلی سے استعفے دیں تاکہ پتہ چل سکے کہ وہ اس معاملے میں سنجیدہ ہیں۔ اسکے جواب میں عمران اور انکی جماعت کی جانب سے مسلسل خاموشی دیکھنے کو ملتی رہی۔ تاہم اپنا لانگ مارچ اور حکومت مخالف تحریک ناکام ہوتی دیکھ کر عمران نے آخری کارڈ بھی کھیل دیا یے اور قومی اسمبلی کے بعد اب باقی تمام اسمبلیوں سے بھی استعفی دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ لیکن ابھی یہ کنفرم نہیں ہے کہ انکی جماعت نے واقعی اسمبلیاں استعفے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے کیونکہ پہلے خان صاحب نے اس معاملے پر پارٹی کے مشاورتی اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے تاکہ اتفاق رائے سے فیصلہ کیا جا سکے۔ فواد چوہدری نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ ’پی ٹی آئی اراکین کے استعفوں کے نتیجے میں قومی اسمبلی کی 123 سیٹوں، پنجاب اسمبلی کی 297، خیبر پختون خواہ کی 115 سیٹوں، سندھ اسمبلی کی 26 اور بلوچستان کی دو سیٹوں پر الیکشن ہوں گے۔ یعنی کل 563 نشستوں پر عام انتخابات ہوں گے لہذا حکومت کے پاس نئے الیکشن کا اعلان کرنے کے سوا اور کوئی راستہ باقی نہیں بچے گا۔

دوسری جانب حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران کسی بھی صورت اسمبلیوں سے استعفے دینے کا رسک نہیں لیں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مرکز کی طرح پی ڈی ایم صوبوں میں بھی حکومتیں بنا لے گی۔ لیکن اگر عمران نے یہ بیوقوفانہ فیصلہ کر لیا تو پھر اسمبلیوں کو تحلیل ہونے سے بچانے کی خاطر وزراۓ اعلی کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکیں لائی جائیں گی۔ تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع کے مطابق عمران کے خیال میں اگر پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں توڑ دی جاتی ہیں ہے تو پھر مرکزی حکومت کیلئیے نئے الیکشنز کو دیر تک روکے رکھنا مشکل ہو جائے گا۔

پاکستان میں روایت ہے کہ چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کے انتخابات ایک ساتھ ہوتے ہیں اس لیے بڑی صوبائی اسمبلیاں ٹوٹنے کی صورت میں یا تو حکومت کو وہاں علیحدہ سے انتخابات کروانے پڑیں گے یا پھر قومی اسمبلی اور باقی دو صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل کر کے جلد ایک ساتھ انتخابات کروانے ہوں گے۔ عمران کے خیال میں دونوں صورتوں میں ایک بڑا سیاسی بحران پیدا ہو جائے گا اور حکومت مشکلات کا شکار ہو جائے گی۔

تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی کے استعفوں کی صورت میں کسی قسم کا کوئی بحران نہیں آئے گا۔ انکے مطابق قومی اسمبلی کی طرح خیبر پختونخوا اور پنجاب میں بھی پی ڈی ایم اپنی حکومتیں بنا لے گی۔ لیکن عاصمہ شیرازی جیسے سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ضروری نہیں کہ استعفوں کے اعلان پر عمل درآمد بھی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران ماضی میں بھی ایسے اعلانات کر چکے ہیں جن پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ انہوں نے 26 مئی کو اسلام آباد میں ڈی چوک جانے کا فیصلہ ترک کرتے ہوئے حکومت کو چھ دن کی ڈیڈ لائن دی تھی کہ اگر اسمبلیوں کی تحلیل اور الیکشن کے حوالے سے اعلان نہیں کیا گیا تو وہ دوبارہ پوری قوت سے اسلام آباد آئیں گے۔ تاہم چھ دن تو کیا چھ ماہ بعد بھی انہوں نے اسلام آباد کا دوبارہ رخ نہیں کیا اور 26 نومبر کو پنڈی سے ہی لانگ مارچ کے خاتمے کا اعلان کرکے گھر روانہ ہوں گے۔

کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق چونکہ انہوں نے گزشتہ ماہ شروع ہونے والے لانگ مارچ سے ایسا سیاسی ماحول پیدا کر دیا تھا کہ اسلام آباد جائے بغیر ان کی واپسی کو ناکامی سمجھا جاتا، اس لیے انہیں کوئی ایسا اعلان کرنا تھا جس سے ان کے سیاسی حامی مطمئن ہو سکیں۔ تاہم استعفون کے اعلان کے بعد چونکہ کوئی تاریخ نہیں دی گئی اور مشاورت کا بھی کہا گیا ہے لہٰذا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر ایک مرتبہ پھر یوٹرن لے لیں۔

سیاسی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ اگر عمران خان اس بار اپنے اعلان پر عمل درآمد کرانا بھی چاہیں تو ان کے راستے میں کئی رکاوٹیں ہیں۔ سب سے بڑی رکاوٹ تو وزیراعلٰی پنجاب پرویز الہی ثابت ہو سکتے ہیں۔ پرویز الہی اپنی علیحدہ شناخت رکھتے ہیں ایسے میں ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ عمران کے ایک اشارے پر اسمبلی توڑ دیں گے، ایک غلط فہمی بھی ہو سکتی ہے۔ اگر پرویز الٰہی نہ مانے تو عمران اس پوزیشن میں نہیں کہ انہیں اسمبلی توڑنے پر مجبور کر سکیں کیونکہ اس صورت میں اگر وہ پی ٹی آئی کے 150 سے زائد ایم پی ایز کی حمایت سے محروم بھی ہو جائیں تو وہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی حمایت سے وزیراعلٰی برقرار رہ سکتے ہیں۔

دوسری طرف مرکز میں حکمران پی ڈی ایم اتحاد بھی صوبائی اسمبلیاں توڑنے کی مزاحمت کرے گا۔ جیو ٹی وی سے بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عمران خان کو اسمبلیاں توڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اگر کسی صوبائی اسمبلی کے 20 فیصد ارکان صوبے کے وزیراعلٰی کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر کے اسمبلی اجلاس بلا لیں تو آئین کے مطابق متعلقہ وزیراعلٰی اسمبلیاں نہیں توڑ سکتا۔‘ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’پنجاب میں پی ڈی ایم کی طرف سے ایسی تحریک کا مسودہ پہلے ہی تیار ہے اور جوں ہی عمران خان مشاورت کا سلسلہ شروع کریں گے یہ تحریک پنجاب اسمبلی میں پیش کر دی جائے گی۔‘ ان کے مطابق ’یہی عمل صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی دہرایا جائے گا۔‘ اس کے بعد جوڑ توڑ کا عمل شروع ہو سکتا ہے اور پنجاب میں خاص طور پر مسلم لیگ ن اگر چند پی ٹی آئی ارکان کو مستعفی کروا دے تو سادہ اکثریت سے صوبے میں اپنی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔

Back to top button