حکومت نے اپوزیشن اتحاد میں پھوٹ ڈالنے کی کوششیں تیز کردیں


حکومت کی جانب سے پی ڈی ایم کے اپوزیشن اتحاد میں پھوٹ ڈالنے کے لیے مذاکرات کی دعوت دیتے وقت اسکے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کو مائنس کر دیا گیا ہے۔ حکومتی سائیڈ کا موقف ہے کہ مذاکرات کی دعوت انہی لوگوں کو دی جاسکتی ہے جو کہ پارلیمنٹ کا حصہ ہیں اور جو لوگ پارلیمنٹ سے باہر ہیں وہ مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتے۔
یاد رہے کہ 29 دسمبر کو وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ  پارلیمنٹ ہی اصل فورم ہے جہاں عوامی مسائل پر بات ہوتی ہے ہم اپوزیشن کو اس فورم پر حکومت کے ساتھ مذاکرات کی دعوت دیتے ہیں۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ چونکہ مولانا فضل الرحمان اور مریم نواز پارلیمنٹ میں نہیں ہیں اس لیے حکومت ان سے بات نہیں کر ے گی۔ یاد رہے کہ مولانا فضل الرحمان 2018 کے الیکشن میں ڈیرہ اسماعیل خان سے اپنی سیٹ ہار گئے تھے جبکہ مریم نواز نے جیل میں ہونے کی وجہ سے الیکشن میں حصہ نہیں لیا تھا۔
حالانکہ اپوزیشن کی جانب سے حکومتی مذاکرات کی دعوت کو بار بار رد کیا جا رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا حکومت واقعی اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات میں سنجیدہ بھی ہے یا نہیں۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا اپوزیشن اتحاد کی دو اہم ترین شخصیات کو باہر رکھ کرکیے گئے مذاکرات کیا ملک میں سیاسی محاز آرائی کے خاتمے کے لیے نتیجہ خیز ہو سکتے ہیں یا پھر ایسی سازشی حکومتی آفر پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم سے دور کرنے کی کوشش ہے؟
سینیئر سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کے مطابق ظاہر ہے یہ حکومت کی کوشش ہے کہ پی ڈی ایم میں دو گروپس پیدا کیے جائیں۔ ایک مصالحتی اور ایک مزاحمتی۔ تاہم اپوزیشن بھی اس حکمت عملی کو سمجھتی ہے اور کسی قسم کے مذاکرات کا فائدہ بھی تب ہی ہو گا جب اصلی اپوزیشن سے بات چیت کی جائے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ 29 دسمبر کو بھی حکومت کی جانب سے پیپلز پارٹی کے حوالے سے افواہیں اڑائی گئیں لیکن پھر شام کے وقت بلاول نے پریس کانفرنس میں یہ واضح کر دیا کہ وہ پی ایم کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفے دینے کے فیصلے پر قائم ہیں۔ حکومتی کوششوں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے پیپلزپارٹی کو نواز شریف سے علیحدہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ اپوزیشن کی طاقت کو کم کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ ماضی میں جب بھی ان دو جماعتوں نے کسی حکومت کے خلاف اکٹھ کیا ہے تو اس کا خاتمہ ضرور ہوا ہے۔ پی پی پی اور نواز لیگ اتحاد کا آخری نشانہ جنرل پرویز مشرف تھا جسے صدارت چھوڑ کر ملک سے فرار ہونا پڑا۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ مریم نواز اور مولانا فضل الرحمن اگر پارلیمنٹ میں نہیں بھی ہیں تو ان کی جماعتیں تو پارلیمان کا حصہ ہیں اور انہی کے فیصلوں پر عمل درآمد کرتی ہیں اس لیے مذاکرات میں ان کی شمولیت لازم ہے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی جب بھی سیاسی مذاکرات ہوئے تو پارلیمنٹ سے باہر  اور اندر دونوں طرح کے سیاسی لوگوں سے بات چیت کی گئی۔ لہذا اگر حکومت مذاکرات میں واقعی سنجیدہ ہے اور اپوزیشن کو لانگ مارچ اور پارلیمنٹ سے استعفے دینے سے روکنا چاہتی ہے تو پھر ضروری ہے کہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موجود تمام سیاسی قیادت کو مذاکرات کی دعوت دی جائے۔
سیاسی تجزیہ کار پروفیسر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ حکومت نے واضح کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے فریم ورک کے اندر اپوزیشن سے مذاکرات چاہتی ہے اور ظاہر ہے مولانا فضل الرحمن اور مریم نواز پارلیمنٹ کا حصہ نہیں تو وہ بات چیت میں شریک نہیں ہو سکتے.تاہم اس سوال پر کہ کیا اس طرح کے بیان سے حکومت اپوزیشن میں دراڈ ڈالنا چاہتی ہے پروفیسر عسکری کا کہنا تھا کہ اس بیان سے اپوزیشن تقیسم نہیں ہو گی لیکن اپوزیشن کی تقیسم آگے جا کر اصل مسائل پر ہوگی جن میں سینٹ انتخابات میں شرکت اور اسمبلیوں سے استعفے شامل ہیں۔ یاد رہے کہ بلاول بھٹو پہلے ہی یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ اسمبلیوں سے استعفے تو ضرور دیں گے لیکن سینیٹ کے انتخابات میں بھی حصہ لینا چاہیں گے۔ آصف زرداری پہلے ہی یہ فارمولا دے چکے ہیں کہ اسمبلیوں سے استعفے سینٹ کے انتخابات کے بعد دیے جائیں اور سینٹ کا الیکشن اپوزیشن جماعتیں مل کر لڑیں تاکہ زیادہ سے زیادہ سیٹیں حاصل کی جا سکیں۔
تاہم ابھی تک اس ذمہ داری کی تجویز کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا اور اس سلسلے میں پی ڈی ایم کا اگلا اجلاس اپوزیشن کی مشترکہ حکمت عملی پر غور کے لیے یکم جنوری کو جاتی امرا میں منعقد ہو گا۔ اس اجلاس میں اپوزیشن اتحاد میں شامل جماعتیں اسمبلیوں سے مستعفی ہونے اور سینٹ الیکشن میں شریک ہونے کے حوالے سے اپنا اپنا موقف پیش کریں گی اور مستقبل کا لائحہ عمل بھی زیر غور آئے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button