حکومت نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو مسترد کردیا

ماضی میں ٹرانپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو دیگر سیاسی جماعتوں کی کرپشن کا ثبوت قرار دینے والی تحریک انصاف نے رپورٹ اپنے خلاف آنے پرٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کوہی مسترد کر دیا ہے. وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو جانبدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستانی عوام میں مایوسی پھیلانے کے لیے ایک منظم اور ٹارگٹڈ ایجنڈا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کا میڈیا، عوام اور سول سوسائٹی میں تذکرہ ہورہا ہے اس کی اپنی کریڈیبیلیٹی اور شفافیت کا جائزہ لیا جائے۔
یاد ہے کہ گزشتہ روز دنیا بھر میں بدعنوانی پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے کی رپورٹ سامنے آئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ کرپشن کے خلاف حکومت کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے باوجود پاکستان کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں درجہ بندی تنزلی کا شکار ہوئی اور عالمی درجہ بندی میں 3 درجہ تنزلی کے بعد پاکستان 120ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے.
معاون خصوصی نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جس ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے بل بوتے پر موجوہ حکومت کی کارکردگی صاف اور شفاف نہ ہونے کے فتوے لگائے جارہے ہیں اس ادارے کی اپنی ٹرانسپیرنسی سوالیہ نشان ہے۔ معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ٹرانسپیرنسی جن اعداد و شمار کی بنیاد پر اپنی فہرست مرتب کرتی ہے اسے ترتیب دینے والے افراد اور جہاں سے یہ اعداد و شمار اکٹھا کیا جارہا ہے وہ گٹھ جوڑ سامنے آنا ضروری ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے سربراہ نے سابقہ دورِ حکومت میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو پذیرائی بخشی اور بدعنوانی کی کمی کے حوالے سے رپورٹ کے نام پر مذاق نامہ مرتب کیا جس پر انہیں سفیر کے عہدے سے نوازا گیا تھا۔
معاون خصوصی نے کہا کہ ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم نے ان سفیر کے عہدے کی مدت میں توسیع نہیں کی جس کی وجہ سے انہیں اپنے وقت پر ریٹائر ہونا پڑا۔ فردوس عاشق ایوان کے مطابق اس رپورٹ کو کون تسلیم کرے گا کہ سب سے زیادہ بدعنوانی مشرف دور میں ہوئی اس کے بعد عمران خان کے دورِ حکومت کو زیر بحث لایا گیا جس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی اور پھر مسلم لیگ (ن) کے دورِ حکومت کو درج کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جنہیں عدالتوں نے کرپشن کنگ قرار دیا اور جن کے کارنامے عدالتوں میں زیر سماعت ہیں ان جماعتوں کو جس طرح اس رپورٹ میں کلین چٹ دی گئی اس سے ظاہر ہے کہ یہ آزاد اور شفاف رپورٹ نہیں ہے۔ معاون خصوصی نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کو جانبدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ پاکستانی عوام جنہوں نے پاکستان سے بدعنوانی سے خاتمے کے لیے وزیراعظم پاکستان کو منتخب کیا ان میں مایوسی پھیلانے کے لیے ایک منظم اور ٹارگٹڈ ایجنڈا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ کرپشن کنگز ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے اپنے گناہ چھپانے کے لیے ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں جس میں انہیں مایوسی ہوگی۔ انہوں نے کہا موڈیز سمیت دیگر بین الاقوامی ادارے موجودہ حکومت کے معاشی اشاروں میں بہتری کی نہ صرف تائید بلکہ تعریف کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا دنیا وزیراعطم عمران خان کی قابلیت کو تسلیم کرتی ہے یہ رپورٹ دنیا کو گمراہ نہیں کرسکتی اور صرف ایک سال میں بدعنوان عناصر سے کی گئی ریکوری گزشتہ 10 سالوں کے مقابلے زیادہ ہے۔
معاون خصوصی نے ٹرانسپیرنسی کی رپورٹ مرتب کرنے والوں کو مدعو کرتے ہوئے کہا کہ آئیں اور بتائیں کہ کس بنیاد پر اس حکومت کو بدعنوانی کے اشاروں کے ساتھ منسلک کیا جس پر ہمیں شدید تحفظات ہیں اور ہم اسے یکسر مسترد کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جو کرپشن کنگز ایسی تنظیموں کی ڈوریاں ہلا رہے ہیں وہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے بجائے میاں نواز شریف کے پلیٹلیٹس کی تعداد والی رپورٹس پر گفتگو کریں۔
فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ پاکستان میں کرپشن سے متعلق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ شفاف نہیں، رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا سب سے زیادہ کرپشن مشرف پھرعمران خان کے دورمیں ہوئی ہے، تیسرے نمبرپر پیپلزپارٹی اور چوتھے نمبرپر (ن) لیگ کے دورمیں کرپشن ہوئی، اس رپورٹ کو کون مانے گا۔
معاون خصوصی نے مزید کہا کہ مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دی جانی چاہیئے، خاص طور پر میڈیا ورکر کے لیے اپنا اور حکومت کا کردار ادا کریں گے، میڈیا مالکان کو ساتھ بٹھا کر لائحہ عمل بنا رہے ہیں کہ میڈیا میں خودکشی کے واقعات کو روکا جائے۔
