کیا ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ بدنیتی پر مبنی ہے؟

کپتان حکومت نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ تحریک انصاف کے اقتدار کے دوران پاکستان میں کرپشن میں کمی کی بجائے کئی گنا اضافہ ہوگیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ بدنیتی پر مبنی ہے اور اسے تیار کرنے والے افراد کو ماضی میں خود کرپشن کے الزامات کا سامنا رہا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ واقعی بدنیتی پر مبنی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں نے حکومتی موقف کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ ماضی میں بطور اپوزیشن لیڈر وزیراعظم عمران خان خود ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس کو بنیاد بناکر پیپلزپارٹی اور نوازلیگ کی حکومتوں کو کرپٹ قرار دیتے رہے ہیں لیکن آج جب اپنی حکومت پر بات آئی تو انہوں نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کو ہی کرپٹ تنظیم قرار دے دیا ہے جو ایک لطیفے سے کم نہیں۔
یاد رہے کہ کرپشن پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی ادارے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ’پاکستان میں 2018 کے مقابلہ میں 2019 میں کرپشن کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے اور پاکستان رینکنگ میں تین درجے نیچے چلا گیا ہے۔‘
رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد حکومتی لوگ یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ آخر کرپشن کے خاتمے کے منشور کے ساتھ اقتدار میں آنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے دور میں کرپشن میں اضافہ کیسے ممکن ہے؟ ان کا کہنا یے کہ اس رپورٹ میں یا تو کوئی جھول ہے یا کرپشن کے ماپنے کا پیمانہ خراب ہے۔
اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے ساتھ کام کرنے والے ماہرین سے بات چیت کی گئی اور تنظیم کی اس سال کی خصوصی دستاویزات کے ذریعے رپورٹ مرتب کرنے کے طریقہ کار کا جائزہ لیا گیا۔ دستاویزات کے مطابق ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل دنیا بھر کے 180 ممالک میں 13 بڑے اداروں کے ماہرین کی رپورٹس کی روشنی میں یہ سائنسی جائزہ لیتی ہے کہ وہاں کرپشن کا تاثر کیا ہے۔ ان 13 اداروں میں ورلڈ بینک، ورلڈ اکنامک فورم اور ورلڈ جسٹس پروجیکٹ، اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ جیسے اچھی ساکھ کے حامل ادارے شامل ہیں۔ یہ 13 ادارے اپنی رپورٹ مرتب نہیں کرتے بلکہ یہ ادارے ہر سال اپنے ماہرین کے ذریعے مختلف سوالات کے جوابات تلاش کرتے ہیں اوران جوابات کی روشنی میں گذشتہ سال کے مقابلے میں تقابلی جائزہ لے کر پاکستانی ادراوں کو باقاعدہ نمبر دیتے ہیں جن نمبروں کی اوسط نکال کر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کو ہر سال کرپشن پرسیپشن انڈیکس میں پوائنٹس دیتی ہے اور ملک کی رینکنگ کا فیصلہ کرتی ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنینشنل کے پاکستان چیپٹر کے سابق سربراہ عادل گیلانی نے وفاقی حکومت کی جانب سے ادارے پر بد نیتی اور خود پر کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ ’اس سال آٹھ میں سے پانچ اداروں نے پاکستان کے بارے میں منفی رائے دی جس کی وجہ سے ملک کی رینکنگ میں ابتری دیکھنے میں آئی اور کرپشن کے خاتمے کے حوالے سے اقدامات کے سکور میں بھی 10 سال میں پہلی بار کمی ہوئی۔‘ عادل گیلانی کے مطابق ان کی تنظیم کوئی روایتی سروے نہیں کرتی بلکہ انتہائی سائنسی انداز میں بڑے عالمی اداروں کے ماہرین چند سوالات کے جوابات دیتے ہیں جن کی بنیاد پر رپورٹس بنا کر ان سب کی اوسط نکالی جاتی ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی دستاویزات کے مطابق اس سال پاکستان میں جن پانچ اداروں نے کرپشن کے حوالے سے منفی رپورٹ دی ان میں ورلڈ اکنامک فورم، ورلڈ جسٹس پراجیکٹ، ورائٹیز آف ڈیموکریسی، برٹلز مین فاؤنڈیشن اور گلوبل انسائٹ کنٹری رسک ریٹنگ شامل ہیں۔
ان تمام پانچ اداروں نے 2019 میں پاکستان میں کرپشن کے بڑھنے کی تصدیق کی۔ ان اداروں نے سائینسی طریقے سے جانچا کہ جو پانچ کام کروانے کے لیے پاکستان میں سب سے زیادہ رشوت دینے کا رواج ہے ان میں درآمدات برآمدات، عوامی سہولیات جیسے بجلی، گیس وغیرہ، سالانہ ٹیکس ادائیگی، لائسنس اور عوامی ٹھیکوں کا حصول اور من پسند عدالتی فیصلے شامل ہیں اور یہ ثابت ہوا کہ ان پانچ کاموں کے لیے رشوت دینے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے ان پانچ اداروں کے ذریعے یہ بھی معلوم کیا کہ موجودہ حکومت کرپشن کو روکنے کے دعوے کے حوالے سے کتنی کامیاب ہوئی ہے۔ یہ بھی جائزہ لیا گیا کہ پاکستان میں افراد اور کمپنیوں کو کاروبار کرنے کے لیے رشوت دینے اور کرپشن کرنے پر مجبور ہونے کا کتنا امکان ہے؟ کمپنی کس حد تک کرپشن کے خطرے کا شکار ہو گی۔ تاہم ہر ادارے نے پاکستان کے بارے میں منفی رائے دی اور یہ کہا کہ حکومت ملک میں کرپشن روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہے بلکہ اس رجحان میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔
تاہم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی دستاویزات کے مطابق تین اداروں نے پاکستان میں کرپشن کے حوالے سے بہتری کی بھی رپورٹ دی مگر ان کی رپورٹس کی بنا پر مجموعی تاثر پھر بھی منفی رہا اور پاکستان کی کرپشن رینکنگ میں تنزلی سامنے آئی۔ پاکستان کے حوالے سے مثبت رپورٹ دینے والے تین اداروں میں اکانومسٹ انٹیلی جنس یونٹ، پولیٹیکل اینڈ اکنامک رسک کنسیلٹینسی ایشین انٹیلی جنس اور ورلڈ بینک شامل ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button