حکومت نے ٹیکس دینے والوں پر ہی مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا

شہباز شریف حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے وفاقی بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی حکومت نے بھی پرانی حکومتوں کی طرح وہی پرانا فارمولا استعمال کرتے ہوئے اپنی آمدن ڈکلیئر کرنے اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرنے والے پاکستانیوں پر مذید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے 2022-23 کے بجٹ کو عوام دوست قرار دینے کے دعوے کو رد کرتے ہوئے ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے 95 کھرب اور دو ارب کا وفاقی بجٹ پیش کیا ہے جو پچھلے سال کی نسبت 10 کھرب 15 ارب روپے زیادہ ہے۔ لیکن شہباز سرکار نے بھی ایک مرتبہ پھر وہی پرانا فارمولا استعمال کیا ہے۔ جو باعزت پاکستانی اپنی آمدن ڈکلیئر کرتے ہیں اور باقاعدگی سے ٹیکس ادا کرتے ہیں انہی پر دوبارہ بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
ٹیکس بیس بڑھانے کی بجائے ٹیکس دہندگان پر ٹیکس ریٹ بڑھا دیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے کئی سالوں کا مشاہدہ یہ بتاتا ہے کہ یہ فارمولہ کامیاب ہونا مشکل ہے اور بہتر ہوتا کہ حکومت ٹیکس ریٹ بڑھانے کی بجائے یہ پالیسی دیتی کہ ہم کس طرح ٹیکس نیٹ میں اضافہ کر کے 7 ہزار 4 سو ارب روپے کا ٹیکس ہدف حاصل کر سکتے ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے پاس پچھلے سال کا ٹیکس ہدف حاصل کرنےکا منصوبہ نہیں تھا۔ مجبوراً آئی ایم ایف کو منی بجٹ کے ذریعے تقریباً 375 ارب روپے کے ٹیکسز لگانے پڑے تھے۔ لہذا خدشہ ہے کہ پرانی صورت حال پیدا ہو سکتی ہے۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے کہ کرنٹ اکاونٹ خسارہ تقریباً نو ارب ڈالرز تک محدود کیا جائے گا۔ یہ بات سننے میں تو بہتر لگتی ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پچھلے ایک ماہ میں تقریباً 40 ہزار فیکٹریاں بند ہوئی ہیں جس کے باعث برآمدات میں کمی واقع ہو رہی ہے۔ دودری جانب ہماری درآمدات ریکارڈ سطح تک بڑھ گئی ہیں۔ ان میں کمی کیسے واقع ہو گی اس بارے میں بھی کوئی پالیسی پیش نہیں کی گئی۔ درآمدات پر پابندی لگانے کے باوجود زرمبادلہ کے ذخائر دس ارب ڈالرز سے نیچے جا چکے ہیں۔
ماہرین یاد دلاتے ہیں کہ ابھی پاکستان کو گندم اور کپاس درآمد کرنا پڑے گی جس سے کرنٹ اکاونٹ پر مزید بوجھ پڑے گا۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک بڑھ سکنے کی اطلاعات ہیں۔ جس کے باعث زیادہ ڈالر ملک سے باہر بھیجنا ہوں گے۔ ان حالات میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ کم کرنے کے لیے کوئی موثر پالیسی سامنے نہیں رکھی گئی ہے۔ یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ عوام کو وقتی طور پر خوش کرنے کے لیے یہ اعدادوشمار پیش کیے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں اگر شہباز شریف حکومت حقیقی معنوں میں کرنٹ اکاونٹ خسارہ کم کم کرنے میں سنجیدہ ہے تو یہ مقصد برآمدات بڑھا کر حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مفتاح اسماعیل فرما رہے ہیں کہ ہم برآمد کندگان کو اچھا پیکج دیں گے۔ لیکن وہ کیا پیکج ہو گا، کب دیں گے اور کس شعبے سے متعلق ہو گا اس بارے وہ کوئی بات کرتے دکھائی نہیں دے رہے۔ لیکن مفتاح کے حالیہ فیصلوں اور آئی ایم ایف کے دباؤ کے پیش نظر اس بات کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں کہ برآمد کندگان کو مستقبل قریب میں کوئی ریلیف مل سکے۔
بجٹ اعداوشمار کے مطابق زرعی سازوسامان پر سیلز ٹیکس ختم کردیا گیا ہے۔ شوبز انڈسٹری کو بڑا ریلیف دیا گیا ہے۔ شوبز کے سامان کی درآمدات پر ٹیکس چھوٹ دے دی گئی ہے۔ سینما کی آمدن پربھی ٹیکس چھوٹ ہے۔ چھ لاکھ روپے تک تنخواہ کی آمدن پر ٹیکس چھوٹ اور 12 لاکھ روپے تک کی آمدن پر 100 روپے ٹیکس لگایا گیا ہے۔ سولر پینلز کی درآمدات پر مکمل ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے۔ حکومت کے یہ فیصلے درست دکھائی دیتے ہیں لیکن ان کی اہمیت اسی وقت ہے جب آئی ایم ایف کی منظوری ملے گی۔
یہاں اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ تحریک انصاف نے بھی پچھلا بجٹ عوام دوست قرار دیا تھا۔ زرعی مشینری، کھاد، زرعی اجناس سمیت اکثر ٹیکس چھوٹ دی گئی تھی۔ لیکن بعد ازاں آئی ایم ایف نے منی بجٹ پیش کروا کر اکثر شعبوں پر ٹیکس لگوایا۔ ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ موجودہ سرکار کی جانب سے عوام کو عارضی طور پر مطمئن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کیونکہ آئی ایم ایف ٹیکس چھوٹ کے سخت خلاف ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق ان حالات میں کرنے کا کام یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات کیے جائیں اور انھیں اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کی جائے کہ عوام کو ریلیف دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پہلے ہی اضافہ کیا جا چکا ہے۔ جو کہ سب سے بڑا مطالبہ تھا۔ اس کے علاوہ سرکار عوام کے سامنے حقائق اور اصل تصویر رکھے تا کہ وہ بروقت اور درست فیصلہ کر سکیں۔ شہباز حکومت کا دعویٰ ہے کہ مالی سال 2022-23 میں عوام کے لیے ریلیف ہے۔ لیکن عوامی سطح پر میں یہ رائے تقویت اختیار کرتی جا رہی ہے کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کو خوشی کرنے کے لیے ہے اہل اقتدار کا یہ دعویٰ عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔
جس ملک میں ایک ہفتے میں پیٹرولیم مصنوعات 60 روپے مہنگی کر دی جائیں، بجلی سات روپے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دے دی جائے، گیس کی قیمتیں دو گنا بڑھانے کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہو اور وزیر خزانہ نے بجٹ میں 720 ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی کا اضافی بوجھ بھی عوام پر ڈالنے کا اعلان کر رکھا ہو، وہاں کوئی بجٹ کس طرح عوام کے لیے ریلیف لانے کا باعث بن سکتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سالانہ بجٹ صرف برائے نام رہ گیا ہے۔ اصل بجٹ تو وہ ہے جو آئی ایم ایف ہر مہینے پیش کر کرتی ہے۔ جس حساب سے منی بجٹ پیش کیے جاتے ہیں سالانہ بجٹ کی ضرورت ہی نہیں رہی ہے۔
معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ ریٹیل سیکٹر میں دکانوں پر فکسڈ ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ جو کہ بجلی کے بلوں میں لگا کر وصول کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ بہتر محسوس ہوتا ہے لیکن یہ معاشی اصولوں کے خلاف ہے۔ ریٹیل سیکٹر پر ٹیکس ان کی آمدن کی بنا پر لگایا جانا چاہیے کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ 6/6 کی ایک دکان 12/12 کی دکان سے ذیادہ منافع کمائے اور جو بھی قانون بنے وہ سب کے لیے ایک جیسا ہو۔ اس کے علاوہ اڑھائی کروڑ کی غیر استعمال شدہ پراپرٹی پر ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ یہ فیصلہ حوصلہ افزا ہے۔ کیونکہ رئیل سٹیٹ سیکٹر کو پوری طرح ٹیکس نیٹ میں لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لیکن اس پہلو کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے کہ زیادہ دباؤ بڑھانے سے پیسہ رئیل سٹیٹ سے نکل کر ڈالرکی خریداری میں لگ سکتا ہے جس سے ڈالر مزید بڑھ سکتا ہے۔ 1600 سی سی سے بڑی گاڑیوں کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس بڑھائے جانے کی تجویز ہے۔ لیکن ان اقدامات سے مطلوبہ ٹیکس اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ ابھی بجٹ کے لیے تجاویز دی گئی ہیں۔ ہو سکتا یے کہ ان کے منظور ہونے تک ممکن ہے کہ کچھ تجاویز نکالنا پڑیں اور کچھ تجاویز شامل کرنا پڑیں۔ حکومت کامیاب عوامی بجٹ پیش کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے لیکن عوام تب اسے کامیاب بجٹ مانیں گے جب ان کے گھر پر بجلی پوری آئے، پیٹرول سستا ملے، مہنگائی کم ہو اور ان کی قوت خرید زیادہ ہو جائے۔ وگرنہ حکومت کے تمام تر دعوے صرف عوام کو گمراہ کرنے کے سوا کچھ بھی نہیں۔
